BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمان اور صدر کا ابتدائی محتاط رویہ

اسمبلی
نئے ایوان میں پہلی مرتبہ لب کشائی کرتے ہوئے اکثر اراکین نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے صدر مشرف کا نام لینے سے مکمل احتراز کیا
ایک جانب اگر نئی قومی اسمبلی کے تازہ دم اراکان نے بدھ کے اجلاس میں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پر تنقید سے اجتناب کیا ہے تو دوسری جانب صدر بھی اس ایوان پر کسی نئے تنازعے سے بچنے کی خاطر رائے زنی سے گریز کر رہے ہیں۔

پچھلی اسمبلی میں اگر کسی ایک شخص پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی تھی تو اس کا اعزاز بلاشبہ صدر پرویز مشرف کے پاس ہے۔ لیکن نئے ایوان میں پہلی مرتبہ لب کشائی کرتے ہوئے اکثر اراکین نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے صدر مشرف کا نام لینے سے مکمل احتراز کیا اگرچہ کئی نے ایواِن صدر اور آمریت کی بات ضرور کی۔ یاد رہے کہ یہ ایوان صدر کے مخالفین کی اکثریت پر مبنی ہے۔

دوسری جانب صدر نے بھی ماضی کی قومی اسمبلی کو اگر ’غیرمہذب‘ ہونے کا طعنہ دیا تھا تو نئے ایوان کے بارے میں اب تک کوئی رائے نہیں دی ہے۔ ان کی جانب سے نئے اراکین کو منتخب ہونے پر کسی قسم کی مبارک باد کا پیغام بھی سامنے نہیں آیا۔ تاہم انہوں نے ایوان کے پہلے اجلاس کو تاریخی موقع قرار دیا۔

نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو نے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو سپیکر اور فیصل کریم کنڈی کو ڈپٹی سپیکر منتخب ہونے پر مبارک دی ہے لیکن صدر کی جانب سے ایسے کسی پیغام کی اطلاع نہیں۔ شاید یہ پیغام ایک دو دن میں آ بھی جائے لیکن ابتدائی دنوں میں فریقین بظاہر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اپنی جگہ اراکین اسمبلی بھی جانتے ہیں کہ اگرچہ صدر مشرف یقیناً سیاسی طور پر اکیلے اور کمزور ہیں اور ان کی فوجی وردی اتر چکی ہے، لیکن ان کے پاس اب بھی کئی انتہائی اہم اختیارات ہیں۔

ان اختیارات میں سرفہرست اسمبلیاں تحلیل کرنے جیسا انتہائی مہلک اختیار ہے۔ اس کے علاوہ فوجی سربراہ کو مقرر کرنے اور ہٹانے سمیت کئی دیگر اہم سرکاری عہدوں پر تعیناتی کا اختیار بھی انہیں حاصل ہے۔

 نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو نے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو سپیکر اور فیصل کریم کنڈی کو ڈپٹی سپیکر منتخب ہونے پر مبارک دی ہے لیکن صدر کی جانب سے ایسے کسی پیغام کی اطلاع نہیں۔

کئی کے خیال میں ماضی کے برعکس جب قومی اسمبلی میں ایک مضبوط حزب اختلاف صدر کو مسلسل نشانہ بنائے ہوئے تھی اس مرتبہ شاید ایسا نہ ہو۔ اس مرتبہ تو بظاہر صدر مخالف جماعتوں کی حکومت ہوگی اور ٹکراؤ کی اگر کوئی صورت پیدا ہوئی تو پارلیمان اور صدر کی مابین نہیں حکومت اور صدر کے درمیان ہوگی۔

بعض مبصرین کے خیال میں نگران وفاقی کابینہ کے اعزاز میں بدھ کی رات دیئے گئے الوداعی عشائیے میں ایک مرتبہ پھر صدر نے نئی آنے والی حکومت کو اسے درپیش چیلنجوں سے خبردار کرنے کی کوشش کی ہے تاہم قومی اسمبلی کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

صدر پرویز مشرف کا اصرار تھا کہ پاکستان کو بہت سے درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لیئے نئی حکومت کو ’گڈ گورننس‘ یعنی بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ نئی حکومت ان کے اصول ’سب سے پہلے پاکستان‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے درپیش چیلنجوں سے نمٹے گی۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایوان کے پہلے اجلاس کے دن بھی صدر کے اصول پر عمل کرنے کا عندیہ کچھ یوں دیا۔ ’ہماری ترجیح پاکستان ہے۔ پاکستان کی مضبوطی، پاکستان کی خوشحالی، عوامی امنگوں کی ترجمانی۔‘ ‌‌

صدر نے نئے وزیر اعظم کے لیئے جو ترجیحات مقرر کی ہیں ان میں سب سے پہلے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنا اور اسے شکست دینا ہے۔ جبکہ دوسرا چیلنج اقتصادی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا ہے۔ ان ترجیحات پر شاید ہی دونوں میں کوئی اختلاف ہو لیکن ان اہداف کو حاصل کرنے پر یقیناً اونچ نیچ کا قوی امکان رہے گا۔

تاہم پیپلز پارٹی کی نسبت مسلم لیگ نواز نے صدر کی جانب زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ وہ انہیں غیر آئینی اور غیر قانونی صدر قرار دیتے ہوئے وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ صدر سے حلف لینا بتاتی تھی۔ لیکن اب اس کے کابینہ میں شامل ہونے اور صدر سے حلف لینے کے فیصلے سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نرمی دکھائی ہے۔

صدر اپنی پوزیشن بھی واضح کرچکے ہیں کہ انہیں پارلیمان اگر ہٹا سکتی ہے تو ہٹا دے، ان کا جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ اس ایوان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات تو کرچکے ہیں لیکن اس کے پانچ سال مکمل کرنے کی گردان جو وہ پچھلی اسمبلی کے لیے ہر وقت لگاتے تھے اب نہیں لگا رہے۔

نئی حکومت اور پارلیمنٹ کے پاس تین ہی راستے ہیں۔ مشرف مخالف ووٹ کی طاقت پر ایوان میں آنے والے یہ اراکین ان کا مواخذہ کرے، کسی ’لے اور دے‘ کی بنیاد پر ہونے والے معاہدے کے تحت ان کے اختیارات واپس لے لے یا پھر انہیں لامحالہ بطور صدر تسلیم کر لے۔

تاہم پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری گیند پارلیمنٹ کے کورٹ میں پھینک چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان ہی صدر کے ساتھ تعلقات کا تعین کرے گی۔

لیکن فی الحال نئی حکومت کے لیے پہلا ہدف معزول ججوں کی بحالی جیسا مشکل کام مقرر کیا ہے۔ اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ، آسمان کو چھوتی قیمتیں اور معلوم نہیں کتنے اور توجہ طلب مسائل ہوں گے۔

صدر کے مستقبل اور ان کے ساتھ تعلقات کے تعین کے فیصلے کی نوبت آتی بھی ہے یا نہیں اس کے لیے ماہ دو ماہ تو انتظار کرنا ہی پڑے گا۔

صدرمشرفمشرف مشروط وعدہ
امن ہو، جو بھی حکومت ہوگی سپورٹ کروں گا
امریکی جھنڈاجنگ کا کیا بنے گا؟
پاکستانی انتخابات کے بعد امریکی پریشانیاں
مشرف اور بشاب فیصلہ عوام کا
صدر کی قسمت پاکستانی عوام کے ہاتھ میں:امریکہ
جنرل فیض علی چشتی’مشرف خطرہ ہیں‘
سابق فوجیوں کا مشرف سے استعفیٰ کا مطالبہ
صدر کے ریمارکس
’میڈیا سے روا حکومتی رویے کی حقیقی تصویر‘
صدر مشرفشفافیت کے دعوے
صدر مشرف کے دعوے اور سندھ کا وتایو فقیر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد