صدر مشرف کے بیان کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں دنیا بھر سے صحافیوں کے تحفظ کیلیے کام کرنیوالی تنظیم’ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یا سی پی جے نے حالیہ دورۂ لندن کے دوران پاکستان کے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے لندن میں سینئر پاکستانی صحافی محمد ضیاء الدین کے خلاف مبینہ طور دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے کی سخت مذمت کی ہے- نیویارک سے سی پی جے کے کوآرڈینیٹر براۓ ایشیا بوب ڈیئيٹز کی طرف سے پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے گذشتہ جمعہ کو لندن میں روزنامہ ڈان کے سینئر نامہ نگار محمد ضیاءالدین کی طرف سے پاکستان میں دہشتگردی کے مشتبہ ملزم راشد رؤف کے سرکاری تحویل سے فرار کے بارے میں ان سے پوچھے جانے والے سوال کےجواب میں صدر مشرف کے ریمارکس ’رونگٹے کھڑے کر دینے والے ہیں‘۔ بو ب ڈئيٹز نے کہا ہے کہ ’اس طرح کے ریمارکس مشرف حکومت کے ہاتھوں آزادیء اظہار اور میڈیا کی طرف روا رکھے جانے والے رویے کی حقیقی لیکن خوفناک تصویر کشی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے آزادی اظہار کے سر ِعام دعوؤں کے باوجود ان کی طرف سے نجی ٹیلیوژن چینلوں کو بند کرنے اور مخالفین کو خاموش کرا دینے کے بعد اب وہ صحافیوں کو بھی دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں۔ یاد رہے کہ لندن میں ایک تقریب کے دوران ایم ضیاء الدین کے سوال پر صدر مشرف برہم ہو گئے تھے اور انہوں نے محمد ضیاءالدین کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ یہ آپ جیسے لوگ ہی ہیں جو افواہیں پھیلاتے ہیں۔ اور پھر غیر ملکی ذرائع ابلاغ آپ کی افواہوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ آپ خفیہ اداروں پر الزامات لگا کر افواہیں پھیلا رہے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں لندن میں مشرف مخالف مظاہرہ26 January, 2008 | پاکستان معاملہ پارلیمان میں اٹھاؤں گا: لارڈ نذیر28 January, 2008 | پاکستان ’دو تین ٹِکا دیں تو اچھا ہے‘26 January, 2008 | پاکستان صدر مشرف صحافی پر برس پڑے 25 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||