BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 March, 2008, 18:40 GMT 23:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی اسمبلی کااجلاس، سخت سکیورٹی

پیپلز پارٹی کے حمایتی اسمبلی کے سامنے رقص کرتے ہوئے
نومنتخب اراکین اسمبلی وفاقی دارالحکومت پہنچنا شروع ہوگئے ہیں
بحرانوں سے بھری پاکستان کی سیاسی و پارلیمانی تاریخ کا ایک اور اہم باب ملک کی تیرہویں نومنتخب قومی اسمبلی کے آج پہلے اجلاس سے ہو رہا ہے۔ تاہم نئے ایوان اور صدر کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کے خدشات کی وجہ سے اس کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات ماضی کے ایوانوں سے مختلف نہیں۔

اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں نئی قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح گیارہ بجے شروع ہوگا جس کے لیے نومنتخب اراکین اسمبلی پہچنا شروع ہوگئے ہیں۔

ملک میں امن عامہ کی مخدوش حالت اور اجلاس سے ایک روز قبل ہی اسلام آباد کی ایک ریستوراں میں بم دھماکے کے بعد افتتاحی اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔

پارلیمان کو جانے والی تمام سڑکیں سیل کر دی گئی ہیں اور صرف اراکین، متعلقہ اہلکاروں یا صحافیوں کو خصوصی اجازت ناموں کے ساتھ جانے کی اجازت ہے۔ ذرائع ابلاغ کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ حکام اب تک صحافیوں کو چار سو سے زائد اجازت نامے جاری کر چکے ہیں۔

گو ابھی تک نہ تو اکثریتی جماعتوں نے وزیراعظم اور نہ ہی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اکثریتی اتحاد کی ایک اہم جماعت نواز مسلم لیگ کے مطابق ان ناموں پر اتفاق بہرحال ہوگیا ہے۔ مسلم لیگ (نواز) کے سینئیر رہنما راجہ ظفرالحق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گو ہم نے ابھی تک ان لوگوں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا لیکن اتحاد کی جماعتوں میں وزیراعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے ناموں پر اتفاق ہوچکا ہے۔ گزشتہ آٹھ نو برسوں میں دونوں جماعتوں کی قیادت کو بڑے تلخ تجربات ہوئے ہیں جن سے انہوں نے سبق بھی سیکھا ہے۔ انہوں نے یہ بات جان لی ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجوں کے مقابلے کے لیے دونوں کو اشتراک اور تعاون کرنا ہوگا۔ اسی لیے دونوں جماعتیں انتخابات سے پہلے ہی ایک دوسرے کے قریب آگئی تھیں۔‘

اسلام آباد
اسمبلی کے ارد گرد پولیس اور کمانڈوز تعینات کیے گئے ہیں

لیکن نئی اسمبلی کے لیے سب سے بڑا اور مشکل سوال اس کے صدر کے ساتھ تعلقات پر منحصر ہے۔ صدر نے نئی حکومت کے ساتھ چلنے پر آمادگی تو ظاہر کی ہے لیکن ابھی تک انہوں نے اس اسمبلی کے اپنی آئینی مدت یعنی پانچ برس مکمل کرنے سے متعلق کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔

صدر مخالف جماعتوں کی اکثریت والے اس ایوان کا پہلا ٹکراؤ معزول ججوں کی بحالی کے قضیے پر ممکن ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کہہ چکے ہیں کہ وہ حکومت سازی کے ایک ماہ کے اندر اندر ایوان کی ایک قرار داد کے ذریعے ان ججوں کو بحال کروائیں گے۔ دوسری جانب صدر کا کیمپ اس طریقہ کار اور قرار داد کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔

قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی صدارت آئینی مدت پوری کرنے والی گزشتہ قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین کریں گے۔ پہلا اجلاس امکان ہے کہ مختصر ہوگا جس میں سپیکر نومنتخب اراکین قومی اسمبلی سے حلف لیں گے۔ بعد میں اجلاس انیس مارچ بروز بدھ تک ملتوی کر دیا جائے گا اور پھر بدھ کو ایوان کے سپیکر اور ان کے نائب کا انتخاب ہوگا۔

نئی اسمبلی کا سب سے مشکل سوال
 نئی اسمبلی کے لیے سب سے بڑا اور مشکل سوال اس کے صدر کے ساتھ تعلقات پر منحصر ہے۔ صدر نے نئی حکومت کے ساتھ چلنے پر آمادگی تو ظاہر کی ہے لیکن ابھی تک انہوں نے اس اسمبلی کے اپنی آئینی مدت یعنی پانچ برس مکمل کرنے سے متعلق کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے

اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس منعقد ہوں گے۔ توقع ہے کہ پیپلز پارٹی پیر کے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لیے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔ ان عہدوں کے لیے کاغذات نامزدگی منگل دوپہر بارہ بجے تک جمع کروائے جاسکیں گے۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے جس کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کاغذات نامزدگی اور بیلٹ پیپروں کی طباعت کا کام مکمل کر لیا ہے تاہم ان میں ناموں کی جگہ خالی رکھی گئی ہے کیونکہ مختصر وقت میں یہ فارم پایہ تکمیل تک پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ان دو عہدوں میں عدم دلچسپی کے بعد خیال ہے کہ سپیکر پیپلز پارٹی کا سندھ سے کوئی رکن جبکہ ڈپٹی سپیکر سرحد یا بلوچستان سے کسی اتحادی جماعت کے رکن کو بنایا جائے گا۔ سپیکر کے عہدے کے لیے پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا نام سر فہرست بتایا جا رہا ہے تاہم جماعت کی کوشش ہے کہ اسے آخری وقت تک خفیہ رکھا جائے۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کو اگر وزارت عظمٰی کی ذمہ داری نہیں دی جاتی تو شاید انہیں پرانی ذمہ داری دوبارہ بھی دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ لیاری سے منتخب رکن نبیل گبول کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔

اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کی جوڑ توڑ بھی اجلاس کے آغاز سے عروج پر پہنچ جائیں گی۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ ایوان زیریں کا اجلاس ایک ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب قائد ایوان کا اعلان پیپلز پارٹی نے ابھی تک نہیں کیا ہے۔

وزارت عظمٰی کا معمہ حل نہ کرنے پر پیپلز پارٹی میں اختلافات ابھی بھی موجود ہیں۔ جماعت کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم کی ناراضگی بدستور قائم ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس عہدے کے علاوہ انہیں کوئی دوسرا عہدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے پارٹی سے مشاورت نہ کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ تاہم ان کی مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف سے متوقع ملاقات نہ ہونے سے لگتا ہے کہ انہیں ان سے کسی مدد کی امید نہیں رہی۔

وزارت عظمٰی: پیپلز پارٹی اختلافات
 وزارت عظمٰی کا معاملہ حل نہ کرنے پر پیپلز پارٹی میں اختلافات ابھی بھی موجود ہیں۔ جماعت کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم کی ناراضگی بدستور قائم ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس عہدے کے علاوہ انہیں کوئی دوسرا عہدہ قابل قبول نہیں ہوگا

آصف علی زرداری کے اس عہدے کو قبول نہ کرنے کی صورت میں دو دوسرے نام یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شاہ محمود قریشی بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ دونوں کافی عرصے سے سیاسی منظر سے غائب ہیں۔

نئی قومی اسمبلی کی ایک اور منفرد بات اس کے پہلے اجلاس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، جماعت اسلامی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف سمیت کئی اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی غیرموجودگی ہوگی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وجہ سے اہم سیاسی فیصلے ایوان سے باہر ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

پیر کے اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار مہتاب خان عباسی اور قبائلی علاقے سے ایک رکن کے منتخب ہونے سے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی تین نشستیں خالی ہو جائیں گی۔

سپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ آئے گا۔ یہ انتخاب اوپن ڈویژن کے ذریعے کیا جاتا ہے جس میں یہ امر ریکارڈ پر آجاتا ہے کہ کس رکن نے کس کو ووٹ دیا ہے۔ اس کے بغیر نو منتخب وزیراعظم کے لیے آئین کے تحت لازم ہوتا ہے کہ وہ ساٹھ دن کے اندر اندر ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے۔

منتخب وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے ساٹھ دن کے اندر اعتماد کا ووٹ لینے کی شق 1985 میں سابق صدر ضیاءالحق نے آئین میں شامل کی تھی۔ یہ اسی صورت میں ضروری ہے جب صدر مملکت کی جانب سے وزیراعظم نامزد کیا جائے۔آئین سے یہ شق آٹھویں ترمیم کے خاتمے کے وقت ختم کر دی گئی تھی تاہم بعد میں اسے پھر شامل کر لیا گیا۔

وزیراعظم کے انتخاب کے بعد سپیکر بذریعہ خط صدر مملکت کو وزیراعظم کے انتخاب کی اطلاع کرتا ہے جس کے بعد صدر مملکت نو منتخب وزیراعظم سے حلف لیتے ہیں۔ حلف کی اس تقریب کے بعد وزیراعظم اپنی کابینہ تشکیل دیتا ہے۔

نو منتخب اراکین اسمبلی کے اسلام آباد میں پرجوش خیر مقدم کے لیے بینرز اور پرچم آویزاں کر دیئے گئے ہیں۔

قومی اسمبلینئے سپیکر کا انتخاب
قومی اسمبلی کے سپیکر کا انتخاب کیسے ہوگا؟
مختلف اور متنازعہ
71 کے بعد پہلی اسمبلی جو مدت پوری کر گئی
پرویز مشرف’آئے گا پھر دوبارہ‘
جنرل مشرف کی صدارتی مہم کا آغاز
قومی اسمبلی’اسمبلی کی باتیں‘
عدالتی بحران میں وزیر قانون کی ذہانت کا ثبوت
قومی اسمبلیالزامات، وضاحتیں
اسمبلی مراعات، شراب اور ’جغادری لکھاری‘
ڈاکٹر قدیر اور جنرل مشرفہوئے تم دوست
شیخ رشید کہتے ہیں برادر ممالک نے پھنسا دیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد