’اوپر نہیں تو صوبے میں تو ملنا چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چئرمین مخدوم امین فہیم کے صاحبزادے اور سندھ اسمبلی کے رکن مخدوم جمیل الزماں نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ان کے والد کو وزیراعظم نامزد کرنا چاہیے کیونکہ یہ انا کا مسئلہ نہیں بلکہ اصول کی بات ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان کے والد کو وزارت عظمی کے لیے نامزد نہیں کیا گیا تو دو صورتیں سامنے آسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ پی پی پی پارلیمینٹرینز کے صدر کی حیثیت سے اگر وہ چاہیں تو پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی کو بلا سکتے ہیں جس سے کوئی قانونی تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے یا ڈیڈ لاک ہوسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مخدوم امین فہیم ایسا کچھ بھی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پہلی بنیاد لاہور میں پڑی پھر لاڑکانہ میں اور تیسری بنیاد ہالہ میں پڑی ’اس لیے اگر ہم سمجھتے ہیں کہ اوپر نہیں ملتا تو صوبے میں تو ملنا چاہیے‘۔
ان کا کہنا تھا ’ بےنظیر بھٹو جب حیات تھیں تو انہوں نے ایک بار 1997 اور پھر 2002ء میں دو بار یہ کہا تھا کہ سندھ کے وزیرِاعلٰی کے لیے میرا امیدوار مخدوم جمیل ہے اگر آج بی بی ہوتیں تو یقیناً یہ بات کہتیں‘۔ پچھلی سندھ اسمبلی میں نائب قائد حزب اختلاف رہنے والے جمیل الزماں نے کہا کہ ’مجھ میں اتنی خوبیاں ہیں کہ سارے لوگ آتے ہیں اور پھر کئی لوگ (وزیر اعلی نامزد نہ ہونے پر) کئی طرح کے سوال ضرور پوچھتے ہیں‘۔ اس سوال پر کہ پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری تو صوبے کے وزارت اعلٰی کے لیے پہلے ہی پارٹی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ کو نامزد کرچکے ہیں تو کیا اب بھی وہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی انہیں صوبے کی وزارت اعلی کے لئے نامزد کرے، تو ان کا جواب تھا ’ کیوں نہیں ہوسکتا جب وزیراعظم کے لیے مخدوم امین فہیم کا نام بےنظیر بھٹو کے سوئم پر لیا گیا اور اب اگر ان کی جگہ کسی اور نامزد کیا جاسکتا ہے تو پھر قائم علی شاہ کا نام بھی تبدیل ہوسکتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ قائم علی شاہ کی نامزدگی پر پیپلز پارٹی سندھ کے اندر تحفظات پائے جاتے ہیں۔’ ایم پی ایز تو ہر حکم کو مانیں گے لیکن سب جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ورکرز میں بڑی اداسی ہے، وہ شاہ صاحب کا پہلا زمانہ دیکھ چکے ہیں جب انہیں بعد میں (وزارت اعلی کے منصب سے) ہٹادیا گیا تھا، وہ سوچ رہیں ہیں کہ کیا ہوگا اب تو بی بی بھی نہیں ہے‘۔ تاہم انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر رد کردیا کہ ان کے خاندان کو وزارتِ عظمٰی یا سندھ کی وزارت اعلٰی نہ ملنے پر وہ سندھ اسمبلی میں فارورڈ بلاک بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پارٹی ہم نے بنائی ہے، ہم چاہیں گے کہ پارٹی مضبوط رہے خواہ خاموش رہیں یا فعال رہیں، میں اور میرے ہم خیال ساتھی ایسا نہیں سوچ رہے کہ پارٹی کے اندر کوئی بلاک بنائیں پارٹی توڑیں اور پارٹی کو نقصان پہنچائیں‘۔ مخدوم امین فہیم کے بیٹے نے اپنے والد کے بارے میں اس تاثر کی بھی نفی کی کہ وہ پارٹی قیادت سے زیادہ اسٹیبلشمینٹ کے قریب ہیں۔’ میری رائے یہ ہے کہ اسٹیبلشمینٹ سب کے ساتھ ہے ایک پردے کے سامنے ہوتی ہے اور ایک پیچھے ہوتی ہے، اس مرتبہ انہوں (اسٹیبلشمینٹ) نے کوئی ڈائریکٹ رابطہ نہیں کیا لیکن ہم پیر پگارا کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے آؤٹ آف وے جاکر مخدوم صاحب کی حمایت کی ہے‘۔ | اسی بارے میں زرداری سے مشرف کی تعزیت29 December, 2007 | پاکستان ’بابر اعوان کا بیان ذاتی تھا‘05 February, 2008 | پاکستان ’ہمیں تو چاہیے غریبی فقیری‘02 March, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی اختلافات کا شکار08 March, 2008 | پاکستان ’مشرف سے رابطے، مخدوم پر شک‘10 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||