BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 March, 2008, 23:13 GMT 04:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف سے رابطے، مخدوم پر شک‘

مخدوم امین فہیم
لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی تقسیم ہو اس میں دھڑے بندی ہو لیکن وہ انشاء اللہ مایوس ہوں گے: امین فہیم
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چئرمین مخدوم امین فہیم پیر کی شب اسلام آباد سے کراچی پہنچ گئے ہیں۔

وہ ایک ایسے موقع پر کراچی آئے ہیں جبکہ اسلام آباد میں ان کی جماعت کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری آئندہ وزیر اعظم کی نامزدگی اور اس سے جڑے مسائل پر پارٹی کے منتخب ارکان اسمبلی صلاح مشورے اور حلیف جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطوں میں مصروف ہیں۔

ان کی کراچی آمد سے کچھ دیر قبل مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف نے یہ بیان جاری کیا کہ ان کی جماعت کو مخدوم امین فہیم کے وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نامزدگی پر تحفظات ہیں جن سے انہوں نے آصف علی زرداری کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

ان کا الزام تھا کہ ’مخدوم امین فہیم ہمارے لئے محترم شخصیت ہیں لیکن ان کے پرویز مشرف کے ساتھ خاصے پرانے رابطے ہیں اور خاص کر بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد ان کے رابطوں میں تیزی آگئی ہے۔ وہ بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد بھی پرویز مشرف سے ملے اور پھر سوئم کے وقت بھی ملے جو کہ ہماری پارٹی کے لئے ایک رکاوٹ ہے۔‘

آصف زرداری کے بیان
آصف علی زرداری پچھلے ایک ماہ کے دوران کم سے کم چھ مرتبہ یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ خود وزارت عظمی کے امیدوار نہیں ہیں اور مرکز میں چونکہ پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہے اس لئے وزیر اعظم کے عہدے کے لئے حلیف جماعتوں کی مشاورت سے امیدوار نامزد کیا جائے گا۔

تاہم امین فہیم نے کراچی پہنچتے ہی خواجہ آصف کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ الزام کہ میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے دن بھی پرویز مشرف سے ملا، بدنیتی پر مبنی ہے اور اس پر میں نے احتجاج کیا ہے۔ میاں نواز شریف فون پر دستیاب نہیں تھے میں نے میاں شہباز شریف سے بات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ یہ کردار کشی ہے میں اس پر سخت سے احتجاج کرتا ہوں اور یہ قابل قبول نہیں ہے‘۔

امین فہیم نے کہا کہ انہوں نے آصف علی زرداری سے بھی بات کرکے خواجہ آصف کے بیان پر احتجاج کیا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ پرویز مشرف سے ملتے رہے ہیں۔ ’پرویز مشرف سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں جن کا بے نظیر بھٹو کو نہ صرف علم تھا بلکہ وہ مجھے بھیجتی رہی ہیں مختلف چیزیں کرنے کے لئے‘۔

اس سوال پر کہ کیا ان کی انتخابات کے بعد پرویز مشرف سے حکومت سازی کے سلسلے میں ملاقات ہوئی ان کا جواب تھا کہ ’جی اگر ہوئی ہوں گی تو آصف زرداری صاحب کے علم میں ہوں گی میرے علم میں نہیں ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ بحث کیوں جاری ہے کہ سندھ کے بجائے پنجاب سے وزیر اعظم کے امیدوار کا انتخاب کیا جائے؟ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ ’اس قسم کی بات ہونی نہیں چاہیے کیونکہ پہلے سے لوگوں کے دلوں میں بڑے تحفظات ہیں۔اب یہ اگر پارٹی کے فورم پر اٹھایا گیا ہے تو یہ بہت افسوسناک ہے‘۔

اس سوال پر کہ پارٹی قیادت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ وزیر اعظم ہوں گے انہوں نے کہا کہ ’انتظار کرلیں۔ جب وقت آئے گا تو پتہ چل جائے گا‘۔

انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ اگر وزیر اعظم کے لئے انہیں نامزد نہ کیا گیا تو وہ پارٹی چھوڑ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’بہت سارے زاویوں سے لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی تقسیم ہو اس میں دھڑے بندی ہو لیکن وہ انشاء اللہ مایوس ہوں گے‘۔

اتوار کو مری میں آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان مرکز میں مخلوط حکومت بنانے کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں مخدوم امین فہیم موجود نہیں تھے جس کی نشاندہی کرنے پر آصف زرداری نے کہا تھا کہ مخدوم امین فہیم کو دعوت دی گئی تھی لیکن وہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے۔

آصف زرداری کو مشورہ
آصف علی زرداری کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ پارٹی کو ٹکڑوں میں بٹنے سے اس وقت تک بچانے کی کوشش کریں جب تک بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی باگ ڈور نہ سنبھال لیں۔
مخدوم امین فہیم

تاہم ان کی اس وضاحت کے فوری بعد امین فہیم نے واضح طور پر کہا تھا کہ انہیں مری کے اجلاس میں شرکت کی کوئی دعوت نہیں ملی تھی اگرچہ وہ سارا دن اسلام آباد میں تھے اور ان کی کوئی مصروفیت نہیں تھی۔

اس پر پیر کی صبح پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمان نے وضاحت کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو انہیں دعوت دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن شاید کوئی مس کمیونیکیشن ہوئی ہے۔

شیری رحمان کے اس بیان پر امین فہیم نے فوری طور پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ’میں کوئی مہمان ادا کار نہیں ہوں۔

مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جن کا نام ممکنہ وزیر اعظم کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ تاہم چند روز قبل انہوں نے یہ بیان دیا کہ ’وزیراعظم کے لیے نامزدگی میں غیر ضروری تاخیر سے پارٹی کے اندر افرا تفری پیدا ہو رہی ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آصف علی زرداری کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ پارٹی کو ٹکڑوں میں بٹنے سے اس وقت تک بچانے کی کوشش کریں جب تک بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی باگ ڈور نہ سنبھال لیں۔

پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے وزارت عظمی کے لئے امیدوار کی نامزدگی کا اختیار آصف علی زرداری کو سونپا ہوا ہے۔

آصف علی زرداری پچھلے ایک ماہ کے دوران کم سے کم چھ مرتبہ یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ خود وزارت عظمی کے امیدوار نہیں ہیں اور مرکز میں چونکہ پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہے اس لئے وزیر اعظم کے عہدے کے لئے حلیف جماعتوں کی مشاورت سے امیدوار نامزد کیا جائے گا۔

آصف علی زرداریپی پی پی کی خاموشی
وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی نامزدگی میں تاخیر
بے نظیرنئے سیاسی اشارے
مشرف کےحدود خطاب میں مفاہمت کے اشارے؟
ناہید خانپی پی پی کا مظاہرہ
پارلیمان کے سامنے جیالوں کے نعرے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد