BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 March, 2008, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فاروق ستار کی جگہ اب پرویز الہی
پرویز الہی قائد حزب اختلاف ہوں گے
متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے ڈاکٹر فاروق ستار کو پاکستان پیپلپز پارٹی کے وزیر اعظم کے امیدوار کے حق میں دسبتردار کرنے کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ق) کی طرف سے چودھری پرویز الہی وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔

مسلم لیگ (ق) کےصدر چودھری شجاعت حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چودھری پرویز الہی کو اکاون اراکین کی حمایت حاصل ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ وزیر اعظم کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کے امیدوار کے طور پر حصہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ نو منتخب اسمبلی میں چودھری پرویز الہی ہی قائد حزب اختلاف ہوں گے اور مسلم لیگ ق حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔

عدلیہ کے مسئلہ پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے وہ بھی حامی ہیں اور ججوں کی بحالی کا کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معذول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اس قدر سیاست میں ملوث ہو گئے ہیں کہ انہیں اب چیف جسٹس کے عہدے پر بحال کیا جانا مناسب نہیں ہو گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے مفاہمت کے بعد ایم کیو ایم کی طرف سے ڈاکٹر فاروق ستار کو وزیر اعظم کے انتخاب سے دستبردار کرنے کو چودھری شجاعت حسین نے مسلم لیگ (ق) کے لیے کوئی بڑا دھچکہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق کے رہنماوں کی ایک ملاقات سنیچر کو ہو رہی ہے جس کے بعد ہی کوئی حتمی اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے اس فیصلے کو مسلم لیگ ق کے لیے اس صورت میں بڑا دھچکا قرار دیا جا سکتا تھا اگر ایم کیو ایم یہ فیصلہ انہیں اعمتاد میں لیئے بغیر کرتی۔

ادھر ایم کیو ایم کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایم کیو ایم کا ایک اعلی سطحی وفد کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہا ہے جہاں وہ مسلم لیگ ق کے رہنماوں سے ملاقات کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی دستبرداری کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے گزشتہ دو دونوں میں دو مرتبہ لندن میں الطاف حسین سے ٹیلی فون پر رابط کیا اور پی پی پی کے وزیر اعظم کے امیدوار کی حمایت کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ جس کے بعد الطاف حسین نے غیر مشروط پر پی پی پی کے وزیر اعظم کے امیدوار کی حمایت کرنے اور ڈاکٹر فاروق ستار کو وزیر اعظم کے انتخاب سے دستبردار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر حیدر عباس رضوی نے کہا کہ اگر ایم کیوایم کو کہا گیا تو وفاقی حکومت میں ضرور شامل ہو گی۔

مسلم لیگ نواز کے ساتھ حکومت میں شریک ہونے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایم کیو ایم سے زیادہ مسلم لیگ ن کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی سربراہی میں قائم ہونے والے آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے فیصلہ کیا تھا کوئی جماعت ایم کیو ایم کے ساتھ کسی سیاسی اتحاد میں شریک نہیں ہو گی۔

اسی بارے میں
سرحد کے وزارت اعلٰی کے امیدوار
29 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد