BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 March, 2008, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم کیو ایم اور پی پی پی مفاہمت

آصف زرداری
زرداری اور الطاف حسین کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے انہیں وزارتِ عظمٰی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اس بات چیت کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پاکستان پیپلز پارٹی کے وزارتِ عظمٰی کے امیدوار کی حمایت کا غیر مشروط اعلان کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور رکن اسمبلی فیصل سبزواری نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری لندن میں پارٹی کے سربراہ الطاف حسین سے بات کی تھی اور خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوجائیں۔

انہوں نے بتایا کہ آصف زرداری نے جمعہ کو دوبارہ ٹیلیفون پر الطاف حسین سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل اور قومی مفاہمت کے تحت ڈاکٹر فاروق ستار کو غیر مشروط طور پر دستبردار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے تعاون کا باقاعدہ اعلان سنیچر کو کرے گی۔ توقع ہے کہ ایم کیم ایم وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار فاروق ستار کے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جمعہ کو متحدہ قومی موومنٹ کے خود ساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین سے فون پر حکومت سازی میں تعاون پر بات چیت کی ہے۔

آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ الطاف حسین نے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار اور ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کو دستبردار کروانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کے لیے ایم کیو ایم کے امیدوار فاروق ستار دستبردار ہو جائیں گے‘۔

ایک سوال پر آصف علی زرداری نے بی بی سی کو بتایا کہ ایم کیو ایم غیر مشروط طور پر ان کی جماعت کے وزیراعظم کو ووٹ دے گی جس کے بعد مرکز اور صوبہ سندھ میں بننے والی حکومتوں میں انہیں شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے پر پیپلز پارٹی کی ایک بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ادھر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس میں آصف علی زرداری اور الطاف حسین کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کی روشنی میں مشاورت ہو رہی ہے۔

 ایم کیو ایم غیر مشروط طور پر پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کو ووٹ دے گی جس کے بعد مرکز اور صوبہ سندھ میں بننے والی حکومتوں میں انہیں شامل کیا جائے گا۔
آصف زرداری

یاد رہے کہ مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے ممکنہ حکمران اتحاد کے لیے میدان خالی کھلا نہ چھوڑنے کا اعلان کرنے کے بعد فاروق ستار کو اپوزیشن کی جانب سے وزارتِ عظمٰی کا امیدوار مقرر کیا تھا۔

قومی اسمبلی میں سابقہ حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) ، متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور مسلم لیگ (ف) تاحال نومنتخب قومی اسمبلی میں بننے والے حکومتی اتحاد میں شامل نہیں تھے اور حزب مخالف کی نشستوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت کا کہنا ہے کہ فی الوقت ان کے علم میں یہ نہیں کہ فاروق ستار دستبرار ہوں گے اور ان کے مطابق ان کی جماعت سنیچر کو اس بارے میں اپنا لائحہ عمل طے کرے گی۔

آصف زرداریبادشاہ یا بادشاہ گر
آصف زرداری پاکستان کے سب سے بااثر سیاستدان
مشرفاقتدار کے ایوانوں میں
ایوان صدر اور پارلیمان میں احتیاط کا راج
فہمیدہ مرزاکون کون سپیکر رہا
فہمیدہ مرزا پہلی خاتون سپیکر منتخب ہوئیں
پاکستان اسمبلی کا پہلا اجلاسنو منتخب اسمبلی
نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس
مخدوم جمیل الزماں بات اصول کی ہے
’اوپر نہیں ملتا تو صوبے میں تو ملنا چاہیے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد