BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 April, 2008, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم کیو ایم نہیں: احسن اقبال

احسن اقبال
پیپلز پارٹی کا حق ہے اور وہ چاہے تو ایم کیو ایم کو سندھ کی حکومت میں شامل کرسکتی ہے
پاکستان مسلم لیگ نون کے ترجمان اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کو مرکزی حکومت میں شامل نہیں کیا جاسکتا البتہ سندھ کی حد تک ایسا کرنا پیپلز پارٹی کا حق ہے اور وہ چاہے تو سندھ کی حکومت میں اسے شامل کرسکتی ہے۔

یہ بات انہوں نے لاہورکے نواحی علاقےرائے ونڈ روڈ پر شریف فارم ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

رائے ونڈ کے فارم ہاؤس پر مسلم لیگ نون کے وفاقی وزراء نے اپنی پارٹی کےصدر نواز شریف نے ملاقات کی تھی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایم کیو ایم کا ایک وفد گڑھی خدابخش میں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی تقریب میں شریک تھا۔

احسن اقبال نےکہاکہ پیپلز پارٹی نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنا چاہتی ہے تاہم ان کےبقول مسلم لیگ نون کا واضح موقف ہےکہ اسے مرکز کی مخلوط حکومت میں اس لیے شامل نہیں کیا جاسکتا کہ ایم کیو ایم ان کے بنیادی اصولوں سے متفق نہیں ہے، وہ عدلیہ بحالی کی خلاف ہے اور صدر پرویز مشرف کی حامی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اسی لیے مسلم لیگ نے ایم کیو ایم کی مرکزی حکومت میں شمولیت کی مخالفت کی ہے۔

آصف علی زرداری نےحال میں ہی کراچی میں ایم کیو ایم کے ہیڈ کواٹر نائن زیرو میں جاکر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں نے ایم کیو ایم سے میل جول کو مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور جمعہ کو مقامی اخبارات میں پیپلز پارٹی کے ایک وفاقی وزیر کا ایک بیان بھی شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے صدر مشرف کو ایک قومی اثاثہ قراردیتے ہوئے ان سے ملکر چلنے کا عندیہ دیا تھا۔

صدر مشرف ایک قومی اثاثہ
 جمعہ کو مقامی اخبارات میں پیپلز پارٹی کے ایک وفاقی وزیر کا ایک بیان بھی شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے صدر مشرف کو ایک قومی اثاثہ قراردیتے ہوئے ان سے مل کر چلنے کا عندیہ دیا تھا

مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے صدر مشرف کےحق میں اخباری بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اس پیپلز پارٹی کے چند ایک وزراء کی ذاتی رائے قرار دیا اور کہا کہ مخلوط حکومت ایسا نہیں سمجھتی۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات اخبار کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع ہوجاتا ہے البتہ پیپلز پارٹی کے وزراء کے بیانات کی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں وضاحت ہوجائے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ نون کا موقف واضح ہے کہ پرویز مشرف کو ایک غیر آئینی اورغیر منتخب صدر ہیں اور وہ جتنی جلدی اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر چلے جائیں اتنا ہی ان کے اور ملک کو قوم کے لیے بہتر ہوگا۔

احسن اقبال نے وفاقی وزراء اور دیگر لیڈروں کی مسلم لیگ نون کے سرپرست اعلی میاں نواز شریف نے ملاقات کےحوالے سے بتایا کہ انہوں نے وزراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ سادگی کی حکمرانی کی مثالیں قائم کریں اور سو دن کے ایجنڈے کی تکیمل کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی میں رکاوٹ کے بارے میں اطلاعات کو اخباری ڈس انفارمیشن قرار دیا اور کہا کہ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اعلان مری کے فیصلوں کے مطابق عدلیہ کو دونومبر سنہ دوہزار سات والی پوزیشن پر بحال کیا جائے گا۔

انہوں کہا کہ میاں نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کسی کا ذاتی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے بلکہ قانون کی بالادستی کے لیے ایک بنیادی تقاضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کے وعدےکے عین مطابق عدلیہ تیس دن کے اندر بحال ہوگی انہوں کہا کہ وہ چاہتےہیں کہ جلد از جلد اس معاملے میں عوام کے سامنے سرخرو ہو جائیں۔

دریں اثناء مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کا قوم سے ان کا پختہ وعدہ ہے اور وہ اسے تیس دن کے اندر پورا کرنے کے پابند ہیں۔

رائے ونڈ اجلاس کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلز کے مطابق میاں نواز شریف نے کہا کہ اعلان مری میں ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اخلاقی،قانونی اور آئینی مسئلہ ہے جس پر ملک کے مستقبل کا انحصار ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد