پی پی، ایم کیوایم مفاہمت کمیٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی نائین زیرو آمد اور متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلیفون پر بات چیت اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں نے مفاہمت کے عمل میں پیش رفت کے لیے کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔ ایم کیو ایم کا کا کہنا ہے کہ ابھی تک حکومت میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری انیس سال کے بعد جمعرات کی شب متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائین زیرو پر پہنچے تھے، اس سے قبل وہ انیس سو اٹھاسی میں حکومت سازی کے لیے پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے ہمراہ وہاں گئے تھے۔ اس وقت ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ان کا استقبال کیا تھا۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ایک دو روز میں کمیٹی بن جائے گی مگر حکومت میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ’آصف علی زرداری صرف خیر سگالی کے جذبے کے تحت نائین زیرو آئے تھے جس سے پرانی تلخیاں اور دوریاں دور ہوئیں‘۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں حکومت میں شمولیت، وزارتوں اور سندھ اسیمبلی کے سپیکر کے انتخاب کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، جب کمیٹی کی تشکیل ہوگی تو اس میں یہ معاملات زیر بحث آسکتے ہیں۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پانچ اپریل کو طلب کیا گیا ہے، جبکہ سات اپریل کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگا، دونوں جماعتوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ہی حکومت سازی کے بارے میں فیصلہ ہوجائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے پارلیمانی اجلاسوں میں متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت میں شمولیت پر بھی بات چیت ہوتی رہی ہے، جس میں مختلف اراکین تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں مگر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما پیر مظہرالحق کا کہنا ہے کہ یہ کچھ اراکین کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’تمام اراکین اسمبلی اپنی جماعت کی پالیسی کے پابند ہیں وہ ہمیشہ بینظیر بھٹو کے وفادار رہے ہیں وہ کس طرح ان سے بے وفائی کرسکتے ہیں، اس لیے جو بھی فیصلہ کیا جائیگا اس میں صوبے اور عوام کا مفاد ہوگا‘۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں درمیانی راستہ نکالا جائیگا مگر اس میں کچھ وقت لگے گا۔ واضح رہے کہ انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں بینظیر بھٹو کی قیادت میں ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد ایم کیو ایم پہلی مرتبہ مخلوط حکومت میں شامل ہوئی تھی اور وزیراعظم کے لیے بینظیر بھٹو کو ووٹ دیا تھا۔ دس ماہ کے بعد دونوں کے راستے الگ ہوگئے تھے لیکن انیس سال کی دوریوں کے بعد ایک بار پھر دونوں جماعتیں مفاہمت کے لیے آگے بڑہ رہی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے صوبائی حکومت میں شمولیت پر انہیں تحفظات ہیں، جس سے مرکز کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم سے مذاکرات ان کا اندرونی معاملہ ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی ایک بڑی جماعت ہے اس کی اپنی ترجیحات اور مجبوریاں ہیں اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن اگر ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کیا گیا تو پھر لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ کراچی کے مینڈیٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ جعلی ٹھپہ مینڈیٹ ہے، جو ٹھپے مارکر حاصل کیا گیاہے اگر فوج کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں تو پتہ چل جائیگا کہ مینڈیٹ کس کو حاصل ہے۔ |
اسی بارے میں سندھ:’پیپلز پارٹی مفاہمت کی خواہاں‘01 April, 2008 | پاکستان وزارتوں کا اعلان سنیچر کو؟26 March, 2008 | پاکستان متحدہ سے اتحاد، ایک کڑا امتحان24 March, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی کا اجلاس 5 اپریل کو22 March, 2008 | پاکستان فاروق ستار: غیر مشروط دستبرداری 21 March, 2008 | پاکستان فاروق ستار کی جگہ اب پرویز الہی 22 March, 2008 | پاکستان متحدہ غیر مشروط حمایت: زرداری21 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||