BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 April, 2008, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی، ایم کیوایم مفاہمت کمیٹی

سندھ میں مخلوط حکومت بننے کے امکانات روش ہو گئے ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی نائین زیرو آمد اور متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلیفون پر بات چیت اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں نے مفاہمت کے عمل میں پیش رفت کے لیے کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔

ایم کیو ایم کا کا کہنا ہے کہ ابھی تک حکومت میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری انیس سال کے بعد جمعرات کی شب متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائین زیرو پر پہنچے تھے، اس سے قبل وہ انیس سو اٹھاسی میں حکومت سازی کے لیے پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے ہمراہ وہاں گئے تھے۔ اس وقت ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ان کا استقبال کیا تھا۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ایک دو روز میں کمیٹی بن جائے گی مگر حکومت میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ’آصف علی زرداری صرف خیر سگالی کے جذبے کے تحت نائین زیرو آئے تھے جس سے پرانی تلخیاں اور دوریاں دور ہوئیں‘۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں حکومت میں شمولیت، وزارتوں اور سندھ اسیمبلی کے سپیکر کے انتخاب کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، جب کمیٹی کی تشکیل ہوگی تو اس میں یہ معاملات زیر بحث آسکتے ہیں۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس پانچ اپریل کو طلب کیا گیا ہے، جبکہ سات اپریل کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگا، دونوں جماعتوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ہی حکومت سازی کے بارے میں فیصلہ ہوجائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے پارلیمانی اجلاسوں میں متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت میں شمولیت پر بھی بات چیت ہوتی رہی ہے، جس میں مختلف اراکین تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں مگر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما پیر مظہرالحق کا کہنا ہے کہ یہ کچھ اراکین کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تمام اراکین اسمبلی اپنی جماعت کی پالیسی کے پابند ہیں وہ ہمیشہ بینظیر بھٹو کے وفادار رہے ہیں وہ کس طرح ان سے بے وفائی کرسکتے ہیں، اس لیے جو بھی فیصلہ کیا جائیگا اس میں صوبے اور عوام کا مفاد ہوگا‘۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں درمیانی راستہ نکالا جائیگا مگر اس میں کچھ وقت لگے گا۔

واضح رہے کہ انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں بینظیر بھٹو کی قیادت میں ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد ایم کیو ایم پہلی مرتبہ مخلوط حکومت میں شامل ہوئی تھی اور وزیراعظم کے لیے بینظیر بھٹو کو ووٹ دیا تھا۔

دس ماہ کے بعد دونوں کے راستے الگ ہوگئے تھے لیکن انیس سال کی دوریوں کے بعد ایک بار پھر دونوں جماعتیں مفاہمت کے لیے آگے بڑہ رہی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے صوبائی حکومت میں شمولیت پر انہیں تحفظات ہیں، جس سے مرکز کو آگاہ کیا گیا ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم سے مذاکرات ان کا اندرونی معاملہ ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی ایک بڑی جماعت ہے اس کی اپنی ترجیحات اور مجبوریاں ہیں اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن اگر ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کیا گیا تو پھر لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔

کراچی کے مینڈیٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ جعلی ٹھپہ مینڈیٹ ہے، جو ٹھپے مارکر حاصل کیا گیاہے اگر فوج کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں تو پتہ چل جائیگا کہ مینڈیٹ کس کو حاصل ہے۔

زرداری الطافسندھ میں ساتھ ساتھ
’پی پی پی متحدہ کو ساتھ لےکر چلنے کی خواہاں‘
پارٹی میں اختلافات
’مخدوم ابھی نہیں اور کبھی نہیں کی پالیسی پر‘
چالیس برس
پی پی پی کے دو رہنما، چار وزرائے اعظم
مشرف’مشرف کا عزم‘
’صدارت کے لیے ماورائے آئین اقدام بھی ممکن ہے‘
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
تجزیہ: ایم کیو ایم
ایم کیو ایم کیا چاہتی تھی؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد