BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 April, 2008, 14:00 GMT 19:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ:’پیپلز پارٹی مفاہمت کی خواہاں‘

متحدہ اور پی پی پی کے رہنما
’مرکز میں پیشرفت کے بعد صوبائی سطح پر اب کام آسان ہوگیا ہے‘
سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے مرکز میں پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کی غیر مشروط حمایت کے بعد اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ صوبۂ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نامزد وزیراعلٰی قائم علی شاہ کو بھی ایم کیو ایم کی حمایت حاصل رہے۔

نو منتخب سندھ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے چار روز قبل تک پیپلزپارٹی نے اگرچہ اس بات کا اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی تاہم دونوں پارٹیوں کے رہنما کسی بھی مفاہمت کے امکان کو مسترد کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فیصل سبزواری نے منگل کو بی بی سی کو بتایا کہ ’وزیرِاعظم کے حق میں ڈاکٹر فاروق ستار کی دستبرداری اور حمایت کا فیصلہ متحدہ کے قائد الطاف حسین اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد ہی ممکن ہوا تھا اور اگر دوبارہ ایسی ہی کوئی بات سامنے آتی ہے تو جس طرح پہلے ہم نے اس کو اہمیت دی تھی تو ہم دوبارہ بھی جائزہ لیں گے کہ زمینی حقائق کیا ہیں اور پھر فیصلہ کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ نے عام انتخابات کے بعد ہی سے پپپلزپارٹی کو ان کے مثبت اقدامات کی حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی کیونکہ متحدہ یہ چاہتی ہے کہ صوبے کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں جن پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے صوبے کے لوگوں کی بہتری کے لیے کام کریں اور دونوں کے درمیان ایک اشتراکِ عمل ہو خواہ متحدہ اپوزیشن میں ہو یا حکومت میں۔

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس پانچ اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس منعقد ہونے میں اگرچہ ابھی چند دن باقی ہیں لیکن اب تک پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں صوبائی سطح پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ ایم کیو ایم سندھ کی دوسری بڑی جماعت ہے جبکہ پپپلزپارٹی کو سندھ اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت پہلے ہی حاصل ہے۔

اول تو کوئی اتنے شدید قسم کے تحفظات نہیں تھے اور میل ملاقات نہ ہونے سے بھی بہت سی تلخیاں جنم لیتی ہیں جبکہ ملاقاتوں کے بعد تلخیاں ختم نہ سہی کم ضرور ہو جاتی ہیں۔مرکزی سطح پر جو مفاہمت کی فضاء قائم ہوئی ہے اس کا اثر صوبائی سطح پر بھی پڑے گا اور جب صوبائی رہنماء دیکھیں گے کہ دونوں جماعتوں کی اعلٰی قیادت قریب آگئی ہے تو یہاں بھی قربت میں اضافہ ہوگا۔
پیر مظہر الحق

سندھ کے ایوان میں پیپلزپارٹی اور متحدہ کے درمیان مفاہمت کے کتنے امکانات ہیں، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنماء پیر مظہرالحق نے کہا کہ متحدہ نے قومی اسمبلی میں بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس صوبے میں جہاں ہم اکٹھے رہتے ہیں یہاں بھی ہمارے درمیان مفاہمت ہو۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اگر پیپلزپارٹی متحدہ سے مفاہمت کرنے کے لیے تیار ہے تو پھر تاخیر کیوں ہورہی ہے انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پپپلزپارٹی اور متحدہ کی قیادت قومی اسمبلی کی تشکیل میں مصروف تھی اور جو بھی پالیسی بنتی ہے وہ مرکزی سطح پر بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سطح پر اب کافی پیش رفت ہوچکی ہے لہذٰا صوبائی سطح پر اب کام آسان ہوگیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی نے وزیرِاعلٰی اور سپیکر کے لیے اپنے امیدوار نامزد کر دیے ہیں جبکہ ڈپٹی سپیکر کے لیے پیپلزپارٹی نے اب تک کسی کو نامزد نہیں کیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ مفاہمت کی صورت میں ڈپٹی سپیکر کسی اتحادی جماعت سے نامزد کیا جائے۔

عام انتخابات کے فوری بعد پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت نے ایم کیو ایم کے ساتھ مفاہمت کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے پیر مظہرالحق نے کہا کہ اول تو کوئی اتنے شدید قسم کے تحفظات نہیں تھے اور میل ملاقات نہ ہونے سے بھی بہت سی تلخیاں جنم لیتی ہیں، جبکہ ملاقاتوں کے بعد تلخیاں ختم نہ سہی کم ضرور ہو جاتی ہیں۔

ان کے بقول مرکزی سطح پر جو مفاہمت کی فضاء قائم ہوئی ہے اس کا اثر صوبائی سطح پر بھی پڑے گا اور جب صوبائی رہنماء دیکھیں گے کہ دونوں جماعتوں کی اعلٰی قیادت قریب آگئی ہے تو یہاں بھی قربت میں اضافہ ہوگا۔

چار اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی منائی جارہی ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت بھی اس سلسلے میں نوڈیرو پہنچنے والی ہے اوراس بات کا بھی امکان ہے کہ پیپلزپارٹی کے شریک چئرمین آصف زرداری آئندہ چوبیس گھنٹوں میں کراچی پہنچ کر متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماؤں سے ملاقات کریں۔

اسی بارے میں
بارہ مئی کیس، فیصلہ محفوظ
25 January, 2008 | پاکستان
سندھ کیوں جل رہا ہے؟
29 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد