بارہ مئی کیس، فیصلہ محفوظ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے بارہ مئی کے واقعات کے سلسلے میں سابق وزیر اعلی ارباب غلام رحیم اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد افضل سومرو، جسٹس منیب احمد خان، جسٹس ندیم اظہر صدیقی ، جسٹس عبدالرحمان فاروق پیرزادہ اور جسٹس رانا شمیم پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے جمعہ کو مقدمے کی سماعت کی۔ عدالت میں ہائی کورٹ بار کی جانب سے ایک تحریری بیان جمع کروایا گیا جس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے فل بینچ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی نے عدالت میں تحریری بیان جمع کروایا جس میں کہا گیا ہے کہ تین نومبر کو پی سی او اور ایمرجنسی کا نفاذ اور ججوں کی معطلی غیر آئینی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ آج بھی افتخار محمد چودھری کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اور صبیح الدین احمد کو سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تسلیم کرتے ہیں اور جسٹس سرمد جلال عثمانی کو اس سات رکنی بینچ کا سربراہ سمجھتے ہیں جو بارہ مئی سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہا تھا۔ اس لیے وہ اپنے دلائل ان کے سامنے پیش کریں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل ڈاکٹر فرخ نے رشید رضوی کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریری بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ ایمرجنسی کے نفاذ کو سپریم کورٹ نے جائز قرار دیا ہے۔ یہ بیان عدالت کے اس فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ ایک بیان ہے کوئی درخواست نہیں جس پر حکم جاری کیا جائے مگر اس کو رکارڈ پر رکھا جائے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل ڈاکٹر فرخ نے اپنے دلائل دہراتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک میں اگر ایسے واقعات ہوئے بھی ہیں تو عدالت نے مداخلت نہیں کی۔ یہ مقدمہ قابل سماعت نہیں ہے اس لیے اسے خارج کیا جائے۔ ارباب غلام رحیم کے بارے میں توہین عدالت کی درخواستوں کے بارے میں ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تمام جوابات عدالت کے ریکارڈ پر موجود ہیں اور کسی نے بھی دانستہ طور پر خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ دلائل سننے کے بعد سندھ ہائی کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے مقدمے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت فیصلہ سناتی ہے تو یہ قانونی نہیں ہوگا، اس لیے کہ انہوں نے مقدمہ سنا ہی نہیں ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر کوئی بینچ مقدمہ سن رہا ہو اور اس کو ختم کرکے نیا بینچ بنایا جائے تو اس کو نئے سرے سے مقدمہ سننا پڑتا ہے۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری معزولی کے بعد بارہ مئی کو سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرنے کراچی آرہے تھے کہ شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ان ہنگاموں میں چالیس سے زائد افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ہائی کورٹ کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کرکے اسے غیراعلانیہ طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے رجسٹرار کے ریفرنس پر اس کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ | اسی بارے میں توہین عدالت کا فیصلہ محفوظ19 November, 2007 | پاکستان ’تردید نوٹس سے پہلے کیوں نہ کی‘01 November, 2007 | پاکستان وزیر اعلیٰ پر توہین عدالت کا الزام31 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||