BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تردید نوٹس سے پہلے کیوں نہ کی‘

وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم
وزیراعلیٰ کو چیف جسٹس کا احترام کرنا چاہیے: ہائی کورٹ
سندھ ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف توہین عدالت کے ریفرنس کی سماعت کے موقع پر کہا ہے کہ بحیثیت چیف ایگزیکیوٹو وزیر اعلیٰ کو چیف جسٹس کا احترام کرنا چاہیئے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مشیر عالم، جسٹس موسیٰ لغاری اور جسٹس ضیا پرویز پر مشتمل فل کورٹ بینچ میں جمعرات کو وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی جانب سے ان کے وکیل وسیم سجاد کے بیٹے عمر سجاد نے جواب دائر کیا ہے۔

عمر سجاد کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا جس میں چیف جسٹس یا عدالت کی توہین کی گئی ہو اور اخبارات میں اس سے منسوب بیان سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم پہلے ہی اس کی تردید کر چکے ہیں۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ توہین عدالت کے نوٹس سے پہلے تردید کیوں نہیں کی گئی تھی، جس پر عمر سجاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم عمرہ کرنےسعودی عرب گئے ہوئے تھے اور جب واپس آئے تو یہ بات ان کے علم میں آئی اور انہوں نے اس کی تردید کی۔

جسٹس سرمد جلال کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کے بیان کی تمام اخبارات نے ایک جیسے ہی رپورٹنگ کی ہے اس لیے یہ کیسے مان لیا جائے کہ انہوں نے توہین آمیز ریمارکس نہیں دیئے؟

جسٹس سرمد جلال نے اس موقعے پر اخبارات کے تراشے بھی پڑھ کر سنائے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے بینر اور وال چاکنگ کی تھی ان میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اپنے نام بھی تحریر کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے حوالے سے ارباب غلام رحیم کے خلاف یہ دوسرا معاملہ ہے جو زیر سماعت ہے۔ ’وزیراعلیٰ کو چیف ایگزیکیوٹو کی حیثیت سے چیف جسٹس کا احترم کرنا چاہیئے۔‘

اس کے علاوہ عدالت نے ایک درجن سے زائد رپورٹروں کو بھی نوٹس جاری کیے کہ وہ ارباب غلام رحیم کے حوالے سے شائع کیے گئے بیان کے بارے میں حلفیہ بیان جمع کروائیں اور سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ سندہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے چیف جسٹس جسٹس صبیح الدین احمد کے خلاف وال چاکنگ اور بینروں کے بارے میں عدالت کو رپورٹ پیش کی تھی اور وزیر اعلیٰ سندھ کے اس بیان کے متعلق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے تراشے بھی پیش کیے تھے جس میں وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم نے اس کارروائی کو عوامی رد عمل قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد