BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 October, 2007, 23:21 GMT 04:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہرجانہ ادا کریں اور معافی مانگیں‘

فاروق اے نائیک نیب کے مقدمات میں بینظیر کے وکیل رہے ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کو ایک قانونی نوٹس جاری کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو پر کرپشن کا الزام عائد کرنے پر معافی مانگیں اور ہرجانہ ادا کریں یا عدالتی چارہ جوئی کا سامنا کریں۔

فاروق ایچ نائیک نے بی بی سی کو بتایا کہ ارباب غلام رحیم نے گزشتہ روز پریس بریفنگ کے دوران بینظیر بھٹو پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک ارب روپے کی کرپشن کی ہے جس پر بینظیر بھٹو کی جانب سے انہوں نے جمعہ کو یہ قانونی نوٹس وزیر اعلیٰ کو بھیجا ہے جو انہیں سنیچر تک وصول ہوجانا چاہیے۔

’ہم نے لیگل نوٹس میں ان سے کہا ہے کہ بینظیر نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان پر اب تک کوئی الزام ثابت ہوا ہے اور یہ الزام جھوٹا ہے جس کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ قانونی نوٹس میں وزیر اعلیٰ سے کہا گیا کہ وہ ایک پریس بریفنگ کرکے اپنے اس بیان پر معافی مانگیں کہ انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا اور دس کروڑ روپے کا ہرجانہ دیں جو خیراتی اداروں میں تقسیم کیا جائے گا بصورت دیگر ان کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

ارباب غلام رحیم پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں

یاد رہے کہ وزیر اعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم نے گزشتہ دنوں بینظیر بھٹو کی آمد کو نحوست بتاتے ہوئے اٹھارہ اکتوبر کو ان کے استقبالی جلوس پر بم حملے میں ہلاکتوں کو اس کا نتیجہ قرار دیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خودکش حملہ پیسے دیکر نہیں کرایا جاسکتا بلکہ یہ جذبے کے تحت کیا جاتا ہے۔ ان کے اس بیان پر پی پی پی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں برطرف کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں جیل بھیجا جائے۔

تاہم فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کو قانونی نوٹس صرف اس بیان کی بناء پر بھیجا گیا ہے جس میں انہوں نے بینظیر پر کرپشن کا الزام لگایا ہے۔

واضح رہے کہ ارباب غلام رحیم 1993ء سے 1996ء تک پیپلز پارٹی سے وابستہ تھے جب پی پی پی برسراقتدار تھی تو اس وقت وہ پارٹی کے پارلیمانی سیکریٹری تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد