لاڑکانہ: وزیراعظم جیسی سکیورٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ سے صرف بیس کلومیٹر دور چھوٹا سا قصبہ نوڈیرو گزشتہ کچھ دنوں سے مقامی پولیس کے مطابق فُول پروف سیکیورٹی میں ہے۔ قریب ہی گڑھی خدا بخش بھٹوگاؤں کے قبرستان میں صورتحال کوئی مختلف نہیں۔پاکستان کے سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کے نئے تعمیر شدہ مزار کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ تعنیات کردہ سینکڑوں پولیس اہلکار اور بینظیر بھٹو کے خانگی محافظ مزار پر پہرہ دے رہے ہیں کیونکہ بینظیر بھٹو کسی بھی وقت اپنے والد کے مزار پر آ سکتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کے بعد اپنے آبائی شہر نوڈیرو کا دورہ کئی مرتبہ سیکیورٹی کی بنیاد پر ملتوی کر چکی ہیں ۔جمعرات کے دن ان کی ترجمان شیری رحمان نے میڈیا کو بتایا کہ بینظیر بھٹو سنیچر ستائیس اکتوبر کو لاڑکانہ کا دورہ کریں گی ۔ بینظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریاں ویسے تو سکھر اور لاڑکانہ کے شہروں میں عروج پر ہیں مگر ان خیر مقدمی تیاریوں کا سارا زور نوڈیرو شہر پر مرکوز ہے۔ چھوٹے سے شہر کی ہر ایک گلی کوچے کو پیپلز پارٹی جھنڈوں، بینظیر بھٹو کی قد آدم تصاویر اور خیر مقدمی بینرز سے سجا دیا گیا ہے ۔ اور تو اور بینظیر بھٹو کے جائیداد کے سٹیٹ مینیجر ریاض پھلپوٹو نے بھی اپنے نام سے بینظیر، آصف زرداری اور ذوالفقار بھٹو کی بڑی تصاویر والے سائن بورڈز شہر کے چوراہوں پر آویزاں کیے ہیں۔
نوڈیرو کے ایک چوراہے پر تصاویر اور جھنڈوں کے اس میلے میں مجھے بینظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو کی تصویر تنہا ملی جو کسی خاص توجہ کا مرکز نہیں تھی۔ بینظیر بھٹو کے اقتدار کے دوران ان کے قتل کے بعد دونوں بہن بھائی کے خاندانوں کے مابین کوئی محبت تو باقی نہیں رہی مگر اب فریقین کے درمیان مخالفت بڑھ رہی ہے ۔حال ہی میں مرتضی بھٹو کی بیٹی فاطمہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کوانٹرویو دیتے ہوئے بینظیر بھٹو کی آمد کا خیرمقدم نہیں کیا بلکہ انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ خاندانی اختلافات کی وجہ سے بینظیر بھٹو لاڑکانہ شہر کا وہ ’المرتضیٰ ہاؤس‘ استعمال نہیں کرسکتیں جہاں ان کے والد ذولفقار علی بھٹو یاسر عرفات، کرنل قذافی سے لیکر شاہ آف ایران کے میزبان بنتے تھے۔ نوڈیرو ہاؤس کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو پولیس نے ناکے لگا کر عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے جبکہ ان سڑکوں کی دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے جو بینظیر بھٹو نوڈیرو میں ممکنہ طور پر استعمال کریں گی۔
بینظیر بھٹو کا نوڈیرو ہاؤس ان کی سوتیلی والدہ امیر بیگم کے زیر استعمال رہا جو انہوں نے بینظیر مرتضیٰ اختلافات کے بعد بینظیر کو تحفے میں دے دیا۔ نوڈیرو ہاؤس کی سکیورٹی اتنی سخت کردی گئی ہے کہ بنگلے کے پرانے ملازمین کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ سکیورٹی انتظامات آصف زرداری کی جانب سے روانہ کردہ زرداری محافظوں کے ذمہ ہیں۔ نوڈیرو کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھٹو کے بنگلے پر اتنی سخت سکیورٹی انہوں نے پہلی مرتبہ دیکھی ہے ۔’پیپلز ھاری کمیٹی نوڈیرو‘ کے سابق رہنماء جمال داؤد پوٹو کا کہنا تھا کہ انہوں بینظیر بھٹو کے دوران اقتدار بھی شہر میں اتنی سخت سکیورٹی نہیں دیکھی ۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی دیکھا ہے مگر شہر میں سکیننگ مشینییں اور بلٹ پروف گاڑیاں پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں ۔ پاکستانی سیاست میں بھٹو خاندان کا مقام جتنا بھی بلند ہو مگر جمال کے مطابق وہ نوڈیرو میں لوگوں سے دور نہیں رہتے اور ان سے وسیع خاندان کی طرح گھل مل جاتے ہیں ۔ان کے مطابق پہلی مرتبہ شہر کے ان لوگوں کی لسٹیں بن رہی ہیں اور شناختی کارڈ مانگے جا رہے ہیں جن لوگوں کو نوڈیرو ہاؤس میں جانے سے بھٹو کےمحافظ بھی نہیں روکتے تھے۔
نوڈیرو کے لوگ ذوالفقار علی بھٹو کی یہ خوبی سب سے زیادہ یاد کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں ہوتے یا اپوزیشن میں عید کی نماز نوڈیرو میں ادا کرنے آتے تھے۔ان پرانی یادوں جیسی باتوں کے بعد وہ خود ہی سنبھل کر کہتے ہیں بڑے بھٹو (ذولفقار علی بھٹو کو ان کے آبائی گاؤں میں بڑا بھٹو کہا جا تا ہے ) کی بات اور تھی اب تو زمانہ بدل گیا ہے۔ گڑھی خدا بخش بھٹو میں تعنیات ایسے پولیس اہلکاروں سے بھی ملاقات ہوئی جنہیں ان کے مطابق دن رات ڈیوٹی دیتے ہوئے چار دن ہوگئے ہیں ۔ان پولیس اہلکاروں کا تعلق شعبہ تفتیش سے تھا جن کے پاس رائفلیں نہیں ہوتی ۔انہوں نے اپنے نام بتائے بغیر شکایت کی کہ انہیں محکمہ کپڑے بدلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہا۔ ان تھکے ہوئے پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر میں سوچ رہا تھاکہ اگر لاڑکانہ پولیس ان جوانوں کے سہارے بینظیر بھٹو کی سیکیورٹی فول پروف ہونے کے دعوے کر رہی ہے تو پھر بینظیر بھٹو کے خدشات شاید درست ہی ہیں۔ گڑھی خدابخش بھٹو میں ذوالفقار علی بھٹو کا مزار تاج محل کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اس کی تعمیر گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے ۔پاکستان میں کسی سابق اور مرحوم وزیراعظم یا صدر کا یہ پہلا مزار ہے جو کروڑوں روپے کی رقم سے طویل عرصے سے تعمیر ہو رہا ہے۔ مزار کا طرز تعمیر دیکھ کر کئی دیہاتی اسے کسی پہنچے ہوئے بزرگ کا مزار سمجھتے ہیں اور بیٹے کی اولاد دلوانے جیسی خواہشات کی تکمیل کے لیے وہ بھٹو کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔
گڑھی خدابخش میں کئی برسوں سے بھٹو کے قبرستان کی رکھوالی کرنے والے عبدالغفور لغاری نے بی بی سی کو بتایا کے انہوں نے جمعرات کے دن بھی زیارت کرنے والوں کے ایک قافلے کو واپس روانہ کردیا ہے کیونکہ سیکیورٹی سخت ہے مزار کے اندر کسی کو جانے کی اجازت نہیں د ے رہے ہیں۔ انہوں بہر حال مجھے بھٹو کی مزار کا اندرونی دورہ کرنے کی اجازت دے دی اور سنگ مرر کے تازہ صاف کیے ہوئے فرش پر چلتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ وہ گذشتہ تین دنوں سے فرش اور قبروں کی دن میں دو مرتبہ صفائی کرتے ہیں کیونکہ بینظیر بھٹو کسی بھی وقت گڑھی خدابخش پہنچ سکتی ہیں۔انہوں اپنے بارے میں بتایا کہ وہ تین راتوں کا جگا ہوا ہے بینظیر کے انتظار میں انہوں نے نیند نہیں کی۔ دوسری جانب مقامی پی پی قیادت نے بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے انہیں سونے کا تاج پہنانے اور بڑی پی پی پی ڈنر کرنے جیسے پروگرام ترتیب دیے ہیں مگر ان سارے پروگراموں کا مقدر بلاول ہاؤس کی اجازت سے جڑا ہوا ہے ۔ لاڑکانہ شہر میں فی الوقت بینظیر بھٹو کا کوئی دورہ ترتیب نہیں دیا گیا ہے مگر پارٹی کارکنوں کو پتہ ہے کہ بینظیر کے اچانک دورے کسی بھی وقت کہیں بھی ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے اپنے آپ کو ہر کسی ایمرجنسی کے لیے ذہنی طور پر تیار کر لیا ہے ۔ |
اسی بارے میں کوئی بیرونی مدد درکار نہیں:حکومت22 October, 2007 | پاکستان بینظیر پرحملہ ہم نے نہیں کیا: طالبان22 October, 2007 | پاکستان ’مصالحتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا‘24 October, 2007 | پاکستان ’بینظیر بھٹو کو قتل کی دھمکیاں‘23 October, 2007 | پاکستان بینظیر حملے: تفتیش داخل دفتر؟24 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||