BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 October, 2007, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر پرحملہ ہم نے نہیں کیا: طالبان

طالبان کمانڈر حاجی عمر
’جو لوگ پاکستان میں امریکہ اور کفار کی حمایت کرتے ہیں ہم انہیں نشانہ بنائیں گے‘
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے ایک اہم کمانڈر حاجی عمر نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو پر کراچی میں ہونے والے مبنیہ خودکش حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

تاہم انہوں نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ بینظیر سمیت وہ تمام سرکاری اہلکار ان کا نشانہ ہوسکتے ہیں جو پاکستان میں امریکہ کی حمایت کرتے ہیں۔

پیر کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے حاجی عمر نے بتایا کہ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر ہونے والے مبینہ خودکش حملوں سے نہ تو ان کا کوئی تعلق ہیں اور نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ یہ حملے کس نے کیے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس بات کو بار بار دھرایا کہ بینظیر سمیت وہ تمام سرکاری اہلکار ان کے نشانے پر ہوسکتے ہیں جو پاکستان میں امریکہ کی حمایت کرتے ہے۔

حاجی عمر کے مطابق بینظیر امریکہ سے پیسے لیکر ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان آئی ہیں تاکہ ملک میں’مجاہدین‘ کے خلاف کاروائیاں کرسکیں۔

بینظیر بھٹو پر حملوں کی تردید بیت اللہ محسود بھی کر چکے ہیں

طالبان کمانڈر نے دھمکی دی کہ ’جو لوگ پاکستان میں امریکہ اور کفار کی حمایت کرتے ہیں ، چاہے وہ سرکاری اہلکار ہوں یا سیاستدان ہم ان کو نشانہ بنائیں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومتی اہلکاروں پر حملے کرنا ان کے’ جہاد‘ کا حصہ ہے جو بقول ان کے انہوں نے امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف شروع کر رکھا ہے۔

حاجی عمر نے وزیرستان میں مقامی طالبان اور حکومت کے مابین جاری جھڑپوں کے بارے میں کہا کہ یہ معاملات اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جہاں انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا مشکل لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف لڑائی اب صرف وزیرستان میں نہیں ہو رہی بلکہ اب تو یہ جھڑپیں قبائلی علاقوں کے بعد بندوسبتی علاقوں تک بھی کافی حد تک پھیل گئی ہیں۔

طالبان رہنما نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں جنگ کریں کیونکہ وہ ان کا اپنا ملک ہے لیکن بقول ان کے صدر جنرل مشرف کے اقدامات نے ان کو اپنے دفاع پر مجبور کیا ہے۔حاجی عمر نے بتایا کہ اصل جنگ تو افغانستان میں امریکیوں کے خلاف ہورہی ہے جبکہ پاکستان میں تووہ صرف اپنا دفاع کررہے ہیں۔

انہوں نے عوام کو بھی خبردار کیا کہ ان اہم سرکاری اہلکاروں اور سیاستدانوں کے قریب نہ جائیں جو امریکہ کے حامی ہیں کیونکہ ان پر حملے کی صورت میں عام لوگ ہلاک ہو رہے ہیں جس پر انہیں دکھ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر ہونے حملوں کے بعد حاجی عمر طالبان کے دوسرے کمانڈر ہیں جن کی جانب سے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل محسود جنگجوؤں کے کمانڈر بیت اللہ محسود نے بھی کراچی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
قاتلانہ حملے
پاکستان میں سیاسی حملوں کی تاریخ
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
ایدھی سینٹراپنوں کی تلاش میں
’جہاں کل خوشی تھی وہاں آج دکھ کے سائے‘
اسی بارے میں
بی بی کی FIR کیلیے درخواست
21 October, 2007 | پاکستان
بینظیر کی زخمیوں کی عیادت
21 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد