’مصالحتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمراں مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے پیپلزپارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ الزام تراشی کے ذریعے قومی مفاہمت کو نقصان پہنچا رہی ہیں لیکن ’چوہدریوں کی سیاست کوئی ختم نہیں کرسکتا۔‘ بدھ کو اسلام آباد میں پارٹی دفتر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محترمہ کو سوئس عدالت پر اعتماد نہیں لیکن وہ اٹھارہ اکتوبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے غیرملکیوں کو لانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔’انہیں اپنی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، ججز اور پولیس پر اعتبار نہیں۔ ایسی صورت میں کیا کیا جاسکتا ہے؟‘ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مصالحتی عمل نظام کی درستگی کے لیے شروع کیا گیا تھا لیکن جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد مصالحتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ مفاہمت کا عمل نہ چل سکا تو دوسری جماعتوں کے ساتھ چلایا جائے گا۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سے بھی بات ہوسکتی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ بے نظیر بھٹو غیرملکی ایجنڈا لے کر آئی ہیں اور حکومت حاصل کرنے کے لیے سفارشیں کرا رہی ہیں لیکن فیصلہ عوام نے کرنا ہے غیرملکیوں نے نہیں کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’نگران حکومت کے بارے میں پیپلزپارٹی سے ہی نہیں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت ہو رہی ہے اور نام مانگے جا رہے ہیں۔‘ آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ |
اسی بارے میں ’چوہدری شجاعت کا بیان پاگل پن‘22 October, 2007 | پاکستان بینظیر حملے: تفتیش داخل دفتر؟24 October, 2007 | پاکستان غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر21 October, 2007 | پاکستان بی بی کی FIR کیلیے درخواست21 October, 2007 | پاکستان ایم کیوایم کی پی پی پی سے تعزیت21 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی زخمیوں کی عیادت21 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||