’غیر ملکی ماہرین سے اجتناب کیوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ اگر حکومت غیرجانبدار ہے تو اسے واقعے کی تفتیش بین الاقوامی برادری کے تعاون سے کرانے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔ جمعہ کو بلاول ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے کہا ’میں پاکستان کے عوام کی خاطر یہ کہہ رہی ہوں۔ ان 140 بے گناہ جانوں کی خاطر یہ بات کہہ رہی ہوں جنہیں ان کے پیارے بم دھماکے میں کھو بیٹھے ہیں۔ تو یہ غریبوں کی بات ہے، انصاف کی بات ہے اور ہمیں انصاف کرنا چاہیے۔ کیوں حکومت اس سے گریز کررہی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہونے والے کسی بم دھماکے کی تفتیش میں حکومت کو کامیابی نہیں ہوئی خواہ وہ نشتر پارک بم دھماکہ ہو یا کوئی اور۔ ’اس سے تو تخریبکاروں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے کہ جہاں چاہیں عوام کو مارسکتے ہیں، حکومت کسی کو بھی خودکش بمبار ظاہر کرکے بتادے گی کہ یہ بمبار تھا اور اس کے بعد کوئی نہیں پوچھے گا کہ اس کے پیچھے کون سی قوت تھی۔‘ بینظیر بھٹو نے کہا کہ ’بم حملے میں جو 140 افراد شہید ہوئے ان کا خون اب تک تازہ ہے یہ ہمارے ملک کے شہری ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا مگر ہمیں معلوم کرنا پڑے گا جو دہشتگردی اور تخریبکاری اور عوام دشمن پالیسیوں کو اسپانسر اور آرگنائزر کرتے ہیں اور اس کے لئے پیسے دیتے ہیں وہ کون لوگ ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ جب بھی عوام نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی ہے تو عام لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اور اس وقت جو جنگ جاری ہے وہ صرف آمریت اور جمہوریت کے درمیان نہیں بلکہ یہ جدوجہد اعتدال پسندی اور انتہاپسندی کے درمیان بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آمریت نے ہمیشہ انتہاپسندی کو فروغ دیا ہے یحییٰ خان کی آمریت میں البدر اور الشمس کے گروہ سامنے آئے، جنرل ضیاء کے دور میں ہتھوڑا گروپ اور کلاشنکوف کلچر سامنے آیا اور جنرل مشرف کے دور میں خودکش حملہ آور پیدا ہوئے۔ ’یہ لوگ آمریت چاہتے ہیں جمہوریت نہیں چاہتے کیونکہ جمہوریت میں اس طرح کے عناصر کے لئے کامیاب ہونا مشکل ہوتا ہے تو ہمیں یہ جدوجہد قائد اعظم اور قائد عوام کے پاکستان کے لئے جاری رکھنا پڑے گی۔‘ ’عوام تب خوش ہوں گے جب امن ہو اور یہ اسلام بھی امن اور برابری کا پیغام دیتا ہے۔ میں چاہوں گی کہ ہر ماں اپنے بچے کی ایسے پرورش کرے کہ وہ زندگی کی عزت کرے کیونکہ اللہ تعالی زندگی کا قیمتی تحفہ ہر انسان کو دیتا ہے تاکہ انسان معاشرے اور انسانیت کی خدمت کرے موت کا وقت تو مقرر ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز مخدوم جاوید ہاشمی سے ملاقات کے دوران اے آر ڈی کے بارے میں بات نہیں ہوئی البتہ میثاق جمہوریت پر بات ضرور ہوئی۔ ’ہم اب تک میثاق جمہوریت پر قائم ہیں ہم ملک میں جمہوریت کی بحالی اور سویلین حکمرانی چاہتے ہیں کیونکہ اگر جمہوریت ہو قانون کی بالادستی ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے عوام کے خوشحال مستقبل کی امید پیدا ہوجائے گی۔‘ ایک سوال کے جواب میں بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ ملک میں عوامی راج ہو اور تمام سیاسی جماعتیں اپنے معاملات پرامن طور پر عوام کی عدالت میں پیش کریں اور بندوق اور تشدد کا راستہ اختیار نہ کریں ورنہ ملک کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پیغام دہشت کے خلاف ہے اور جو لوگ جمہوریت اور امن چاہتے ہیں وہ ان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اپنی بہن کے ہاتھ مضبوط کریں۔ | اسی بارے میں غیرملکی ماہرین بلائے جائیں: بینظیر26 October, 2007 | پاکستان تحقیقات: غیرملکی ماہرین پر تنازعہ26 October, 2007 | پاکستان بینظیر حملہ، مشتبہ افراد کی تصاویر26 October, 2007 | پاکستان اٹھارہ اکتوبر: کراچی کی زندگی پر اثرات26 October, 2007 | پاکستان لاڑکانہ: وزیراعظم جیسی سکیورٹی26 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||