ارباب رحیم کے بیان پر پی پی پی برہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے بیظیر بھٹو کی آمد کو نحوست بتاتے ہوئے اٹھارہ اکتوبر کو ان کے استقبالی جلوس پر بم حملے میں ہلاکتوں کو اسکا نتیجہ قرار دیا تھا۔ وزیر اعلی نے پیر کو یہ بھی کہا کہ خودکش حملہ پیسے دیکر نہیں کرایا جاسکتا بلکہ یہ جذبے کے تحت کیا جاتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار احمد کھوڑو نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کا بیان بم حملے کے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ ’ہم اپنے غموں سے نڈھال ان لاشوں کو کاندھوں پر اٹھائے زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن وزیر اعلی ایسے میں واہیات زبان استعمال کررہے ہیں، یہ نہیں ہوسکا اس سے کہ وہ متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھے بلکہ وہ اور اسے چھیڑ رہا ہے۔‘
نثار کھوڑو نے کہا کہ ان کی پارٹی آنے والے عام انتخابات سے قبل بہتر ماحول پیدا کرنے کی لیے کوششیں کررہی ہے اور اٹھارہ اکتوبر کی ریلی بھی اسی سلسلے میں منعقد کی گئی تھی لیکن وزیر اعلی سندھ غیرذمہ دارانہ بیانات دیکر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ’بینظیر بھٹو نے تو کل کی امید بندھا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی اس پر یہ (وزیر اعلی) پھبتی کستا ہے، یہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے اشارے دے رہا ہے اور اس شخص کی موجودگی میں سندھ میں امن و امان نہیں ہوسکتا‘۔ انہوں نے عدلیہ اور وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وزیر اعلی سندھ کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے پر ایف آئی آر درج کی جائے اور جیل بھیجا جائے۔ انہوں نےکہا کہ بم دھماکوں میں لوگوں کی اموات کی ذمہ داری وزیر اعلی سندھ پر عائد ہوتی ہے، انہیں اس واقعے کے بعد خود ہی مستعفی ہوجانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا وفاقی حکومت کو انہیں فوری طور پر ان کے عہدے سے برطرف کرنا چاہیے۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کے بیانات جانی حملوں کی اعلانیہ دھمکی ہے اور اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری ان پر اور ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ دھماکوں کے چند گھنٹوں کے بعد ہی جائے واردات سے جس طرح شواہد کو ختم کیا گیا اس سے تحقیقات پر ان کے شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف تحقیقات کے لئے ضروری ہے کہ غیرملکی تفتیش کاروں کو اس میں شامل کیا جائے۔ |
اسی بارے میں ’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘19 October, 2007 | پاکستان کراچی دھماکے:’تین افراد زیرِ حراست‘20 October, 2007 | پاکستان کراچی: دھماکوں کی تفتیش جاری20 October, 2007 | پاکستان بینظیر حملے: تفتیش داخل دفتر؟24 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||