BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 October, 2007, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ارباب رحیم کے بیان پر پی پی پی برہم

دھماکے
استقبالیہ جلوس پر حملے میں ایک سو تیس سے زیادہ لوگ مارے گیے تھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے بیظیر بھٹو کی آمد کو نحوست بتاتے ہوئے اٹھارہ اکتوبر کو ان کے استقبالی جلوس پر بم حملے میں ہلاکتوں کو اسکا نتیجہ قرار دیا تھا۔

وزیر اعلی نے پیر کو یہ بھی کہا کہ خودکش حملہ پیسے دیکر نہیں کرایا جاسکتا بلکہ یہ جذبے کے تحت کیا جاتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار احمد کھوڑو نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کا بیان بم حملے کے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

’ہم اپنے غموں سے نڈھال ان لاشوں کو کاندھوں پر اٹھائے زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن وزیر اعلی ایسے میں واہیات زبان استعمال کررہے ہیں، یہ نہیں ہوسکا اس سے کہ وہ متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھے بلکہ وہ اور اسے چھیڑ رہا ہے۔‘

کراچی
دھماکوں کے بعد سے سیاسی منظرنامہ بدل گیا ہے

نثار کھوڑو نے کہا کہ ان کی پارٹی آنے والے عام انتخابات سے قبل بہتر ماحول پیدا کرنے کی لیے کوششیں کررہی ہے اور اٹھارہ اکتوبر کی ریلی بھی اسی سلسلے میں منعقد کی گئی تھی لیکن وزیر اعلی سندھ غیرذمہ دارانہ بیانات دیکر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

’بینظیر بھٹو نے تو کل کی امید بندھا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی اس پر یہ (وزیر اعلی) پھبتی کستا ہے، یہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے اشارے دے رہا ہے اور اس شخص کی موجودگی میں سندھ میں امن و امان نہیں ہوسکتا‘۔

انہوں نے عدلیہ اور وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وزیر اعلی سندھ کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے پر ایف آئی آر درج کی جائے اور جیل بھیجا جائے۔

انہوں نےکہا کہ بم دھماکوں میں لوگوں کی اموات کی ذمہ داری وزیر اعلی سندھ پر عائد ہوتی ہے، انہیں اس واقعے کے بعد خود ہی مستعفی ہوجانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا وفاقی حکومت کو انہیں فوری طور پر ان کے عہدے سے برطرف کرنا چاہیے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کے بیانات جانی حملوں کی اعلانیہ دھمکی ہے اور اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری ان پر اور ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔

انہوں نے اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ دھماکوں کے چند گھنٹوں کے بعد ہی جائے واردات سے جس طرح شواہد کو ختم کیا گیا اس سے تحقیقات پر ان کے شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف تحقیقات کے لئے ضروری ہے کہ غیرملکی تفتیش کاروں کو اس میں شامل کیا جائے۔

لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
’عادت بدلنا ہوگی‘
جلوس اور قواعد و ضوابط کی اہمیت
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
’کارساز‘ تحقیقات
بینظیر’خود کش‘ حملے بھی موٹی فائل میں بند؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد