BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 August, 2007, 06:57 GMT 11:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیر افگن کو توہین عدالت کا نوٹس

شیر افگن
شیر افگن پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں بھی پارلیمانی امور کے وزیر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ نے جمعہ کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیر افگن نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ انہیں دو ہفتوں میں جواب جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔


یہ اقدام سپریم کورٹ نے کل شریف بردارن کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے سے متعلق اپنے فیصلے پر ان کے بیان پر جاری کیا ہے۔

چیف جٹس جسٹس افتخار محمد چودھری نے جمعہ کی صبح وفاقی وزیر کے مختلف ٹی وی چینلز پر بیانات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس کی تفصیلات طلب کیں۔ بعد میں گیارہ بجے عدالت کے سات رکنی بنچ نے شیر افگن نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

وہ دو ہفتوں میں عدالت میں اس بارے میں اپنا جواب پیش کریں گے جس کے بعد عدالت مزید کارروائی کرے گی۔

عدالت نے جب اٹارنی جنرل سے ان انٹرویوز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ان کی زبان توہین آمیز تھی۔ عدالت نے انہیں وزیر کی جانب سے پیش ہونے کا بھی حکم دیا۔

کئی قانون ماہرین کا ماننا ہے کہ شیر افگن نیازی کا بیان غیرذمہ دارانہ تھا اور یہ ان کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی عدالتی فیصلے پر اظہار خیال کیا جاسکتا ہے لیکن عدالت کے کردار پر تنقید کی قانون اجازت نہیں دیتا۔

قانون کے مطابق اگر وہ جرم کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو انہیں چھ ماہ تک کی قید ہوسکتی ہے جبکہ اس سزا کی وجہ سے وہ قومی اسمبلی کی نشست اور وزارت بھی کھو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
’پہلے شہباز جائیں گے‘
23 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد