شیر افگن کو توہین عدالت کا نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے جمعہ کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیر افگن نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ انہیں دو ہفتوں میں جواب جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدام سپریم کورٹ نے کل شریف بردارن کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے سے متعلق اپنے فیصلے پر ان کے بیان پر جاری کیا ہے۔ چیف جٹس جسٹس افتخار محمد چودھری نے جمعہ کی صبح وفاقی وزیر کے مختلف ٹی وی چینلز پر بیانات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس کی تفصیلات طلب کیں۔ بعد میں گیارہ بجے عدالت کے سات رکنی بنچ نے شیر افگن نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔ وہ دو ہفتوں میں عدالت میں اس بارے میں اپنا جواب پیش کریں گے جس کے بعد عدالت مزید کارروائی کرے گی۔ عدالت نے جب اٹارنی جنرل سے ان انٹرویوز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ان کی زبان توہین آمیز تھی۔ عدالت نے انہیں وزیر کی جانب سے پیش ہونے کا بھی حکم دیا۔ کئی قانون ماہرین کا ماننا ہے کہ شیر افگن نیازی کا بیان غیرذمہ دارانہ تھا اور یہ ان کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی عدالتی فیصلے پر اظہار خیال کیا جاسکتا ہے لیکن عدالت کے کردار پر تنقید کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ قانون کے مطابق اگر وہ جرم کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو انہیں چھ ماہ تک کی قید ہوسکتی ہے جبکہ اس سزا کی وجہ سے وہ قومی اسمبلی کی نشست اور وزارت بھی کھو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’فیصلے کی روح پر عمل کرینگے‘23 August, 2007 | پاکستان ’پہلے شہباز جائیں گے‘23 August, 2007 | پاکستان شریف برادران کو واپسی کی اجازت23 August, 2007 | پاکستان ’نواز، شہباز اب فوراً وطن پہنچیں‘24 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||