BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین عدالت کا فیصلہ محفوظ

ارباب غلام رحیم فائل فوٹو
ارباب غلام رحیم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ توہین عدالت کے نوٹس واپس لیے جائیں
سندھ ہائی کورٹ نے وزیراعلٰی ارباب غلام رحیم کے خلاف چیف جسٹس کی توہین کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور درخواست پر سماعت اکیس نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس افضل سومرو کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے پیر کو ارباب غلام رحیم کے خلاف ریفرنس کی سماعت کی۔

ارباب غلام رحیم کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت سے استدعا کی کہ توہین عدالت کے نوٹس واپس لیے جائیں۔

یاد رہے کہ سندہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے خلاف وال چاکنگ اور بینروں کے بارے میں عدالت کو رپورٹ پیش کی تھی اور وزیر اعلٰی سندھ کے اس بیان کے متعلق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے تراشے بھی پیش کیے تھے جس میں وزیراعلٰی ارباب غلام رحیم نے اس کارروائی کو عوامی رد عمل قرار دیا تھا۔

ایمرجنسی سے قبل ہائی کورٹ نے ایک درجن سے زائد رپورٹروں کو بھی نوٹس جاری کیے تھے کہ وہ ارباب غلام رحیم کے حوالے سے شائع کیے گئے بیان کے بارے میں حلفیہ بیان جمع کروائیں مگر رپورٹوں کو طلب ہی نہیں کیا گیا۔

ہائی کورٹ نے ارباب غلام رحیم کے خلاف توہینِ عدالت کی ایک دوسری درخواست کی سماعت اکیس نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر افتخار جاوید قاضی نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ارباب غلام رحیم نے بارہ مئی کے واقعہ پر سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس کے بعد عوام اور میڈیا میں اس طرح سے رد عمل کا اظہار کیا ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ارباب غلام رحیم نے جو الفاظ اور فقرے استعمال کئے ہیں ان میں ججوں کی توہین اور عدالت کے وقار کو مجروح کیا گیا ہے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 عدالت نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ 12 مئی کو کراچی میں جو کچھ ہوا وہ کیوں ہوا؟ اس کے ذمہ دار کون ہیں اور حکومت نے ان کے خلاف کیا کارروائی کی ہے

درخواست گذار افتخار جاوید قاضی اور ان کے وکیل منیب الرحمان ایم پی او کے تحت جیل میں ہیں ۔ ارباب غلام رحیم بطور وزیر اعلٰی اپنی مدت پوری کرچکے ہیں مگر ان کے وکیل پیر کی سماعت کے موقع پر وزیراعلٰی ہاؤس کی گاڑی میں عدالت پہنچے۔

عدالت میں بارہ مئی کےواقعہ کے بارے میں از خود نوٹس کی بھی سماعت ہوئی اور دلائل کے بعد سماعت تین دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

اس مقدمے میں عدالت نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ 12 مئی کو کراچی میں جو کچھ ہوا وہ کیوں ہوا؟ اس کے ذمہ دار کون ہیں اور حکومت نے ان کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟

بارہ مئی کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے موقعہ پر شہر میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جس میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کو خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے قرار دینے کے بارے میں درخواست کی سماعت اکیس نومبر تک ملتوی کردی ہے۔ بینظیر بھٹو کے وکیل فاروق ایچ نائیک چٹھی پر ہونے کی وجہ سے عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے سندھ ہائی کورٹ کے ججوں نے پہلی مرتبہ ایک ہائی پروفائل مقدمات کی سماعت کی ہے۔

اسی بارے میں
حکمران جماعت میں خلفشار
23 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد