BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 March, 2008, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزارتوں کا اعلان سنیچر کو؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر
نوید قمر کا کہنا تھا کہ اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ابتدائی طور پر وفاقی کابینہ بیس ارکان پر مشتمل ہوگی
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد میں اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ابتدائی طور پر وفاقی کابینہ بیس ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں اتحادی جماعتوں کو اسمبلی میں ان کی نمائندگی کے حساب سے وزارتیں دی جائیں گی۔

اس طرح پیپلز پارٹی کو دس، مسلم لیگ نواز کو آٹھ اور عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے حصے میں ایک ایک وزارت آئے گی۔

تاہم سید نوید قمر نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے ارکان کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور اس سلسلے میں حکومتی اتحاد کے نمائندوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

نوید قمر نے بتایا کہ اس بارے میں حتمی اعلان ہفتے کو کیا جائے گا جب وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ وزارتوں کی تقسیم کے معاملے پر جاری بات چیت کے طول پکڑنے سے یہ تاثر بھی زور پکڑ جارہا ہے کہ دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے درمیان خارجہ، داخلہ، دفاع اور خزانہ جیسی اہم وزارتوں پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا ہے تاہم مذاکرات میں مسلم لیگ نون کی قیادت کرنے والے اسحاق ڈار نے رابطہ کرنے پر اس تاثر کی تردید کی اور ایسی اطلاعات کو افواہیں قرار دیا۔ ’تمام چیزیں ٹھیک ہیں اور بات چیت اطمینان سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘

بی بی سی کو پیپلز پارٹی کے اعلی ذرائع نے بتایا ہے کہ پانچ وزارتوں پر نامزدگیوں پر اتفاق ہوگیا ہے جس کے مطابق مخدوم شاہ محمود قریشی کو وزارت خارجہ، اسحاق ڈار کو خزانہ، اطلاعات و نشریات شیری رحمان، وزارت پارلیمانی امور سید خورشید شاہ اور وزارت داخلہ کے لئے رحمن ملک کو وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم باقی وزارتوں پر نامزدگیوں کے لیے بات چیت جاری ہے۔

ادھر اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ان کی جماعت کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ارکان کے بارے میں حتمی فیصلہ آصف علی زرداری، نواز شریف اور اسحاق ڈار کریں گے۔

تاہم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتیں کابینہ کے متعلق تمام فیصلے باہمی اتفاق رائے سے کریں گی۔

 ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کے سلسلے میں آئندہ دو دنوں میں بات چیت متوقع ہے

بعض سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ایک وزیر اعظم منتخب ہونے اور حلف اٹھانے کے بعد چند دنوں کے لیے ہی صحیح لیکن کابینہ کے بغیر اکیلے ہی حکومت چلارہے ہیں۔

دوسری طرف ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کے سلسلے میں آئندہ دو دنوں میں بات چیت متوقع ہے، میں نے جب ان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے پوچھا کہ یہ ملاقات کب اور کہاں ہوسکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ”ملاقات کا عندیہ ضرور آرہا ہے لیکن یہ کہ ابھی تک انہوں (پیپلز پارٹی) نے اس کے لئے باقاعدہ ہم سے کوئی بات نہیں کی ہے، جب بات چیت شروع ہوگی تو پھر زیادہ بہتر اس پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔،،
ا
نہوں نے کہا کہ ’سردست تو ہم اپوزیشن میں ہیں اور جو ہمارا خیر سگالی کا جذبہ ہے وہ ہر طرح کی غرض اور لالچ سے بالاتر ہے اور اسکا ہم نے ثبوت دیا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کے وزارت عظمی کے امیدوار کی غیرمشروط حمایت کی اور انہیں ووٹ دیا۔‘

دریں اثناء ایم کیو ایم کو مرکز میں حکومت میں شامل کرنے پر مسلم لیگ نواز کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اے این پی کے رہنما زاہد خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو سندھ میں ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے پر اعتراض نہیں ہے لیکن ’اگر انہیں مرکز میں بھی حکومت میں آنے کی بات کی جاتی ہے تو پھر ہم اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد