BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 March, 2008, 16:50 GMT 21:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ لمحہ تاریخی ہے،خیرات میں نہیں ملا‘
گیلانی
گیلانی نے اپنی حکومت کو پہلی مرتبہ پی ڈی اے حکومت کا نام دیا
قائد ایوان منتخب ہونے کے فوری بعد ایوان سے اپنے پہلے خطاب میں مخدوم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ اپنی حکومت کے پہلے سو دن کے اقدامات کا اعلان اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد کریں گے۔

مائیکروفون کے سامنے بےنظیر بھٹو کی تصویر رکھتے ہوئے جب انہوں نے واضح کیا کہ ان کا پہلا اقدام گرفتار ججوں کی بحالی ہی ہوگی تو مہمانوں کی گیلری میں بیٹھے لوگوں نے گو مشرف گو کے نعرے شروع کر دیے۔

نئے قائد ایوان نے ججوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے مسائل احتجاج کی بجائے پارلیمان کے ذریعے حل کریں۔ اس موقع پر ایوان کے اراکین نے کھڑے ہو کر ڈیسک بجا کر ان کی تائید کی۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ایوان کی پہلی قرار داد ایوان سے سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے سابق سربراہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کروانے کے مطالبے اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بقول ان کے عدالتی قتل پر قوم سے معذرت کی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان معاہدے مری اور میثاق جمہوریت پر عمل درآمد پر بھی مکمل اعتماد کا اظہار کرے۔

انہوں نے اپنی حکومت کو پہلی مرتبہ پی ڈی اے حکومت کا نام دیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے حکمراں اتحاد نے یہ نام اپنے لیے چنا ہے یا انہوں نے ایسا کیا ہے۔

 اگر پارلیمان کو چلانا ہے تو پارلیمان کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ادارے کامیاب نہیں ہوں گے تو ملک کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ میں میڈیا کی آزادی کے حق میں ہوں، میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم تمام اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
یوسف رضا گیلانی

تقریر کے دوران مخدوم یوسف رضا گیلانی کی بعض اوقات آواز جذبات سے بھر گئی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت بینظیر بھٹو کی قربانی کی وجہ سے بحال ہو رہی ہے۔’یہ لمحہ تاریخی ہے، خیرات میں نہیں ملا۔ کارکنوں، جمہوری قوتوں کی قربانیوں اور شہادتوں کی وجہ سے اس لمحے کو کھونا نہیں چاہتے‘۔

نئے وزیر اعظم نے تمام سیاسی طاقتوں کو دعوت دی کہ وہ ملک کے معاشی بحران سے اس کو نکالنے کے لیے متفق ہو جائیں کیونکہ تبھی کامیابی ممکن ہے۔ سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بھی اس نشست پر ساڑھے تین برس بیٹھے ہیں۔’اگر پارلیمان کو چلانا ہے تو پارلیمان کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ادارے کامیاب نہیں ہوں گے تو ملک کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ میں میڈیا کی آزادی کے حق میں ہوں، میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم تمام اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے‘۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حزب اختلاف کا احترام کریں گے اور مثبت تنقید کو برداشت کریں گے۔ انہوں نے سپیکر کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے چاروں صوبوں میں ان کی جماعت کو مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ انشاء اللہ پی ڈی اے کی حکومت جب قائم ہوگی، مہنگائی، غربت، لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کریں گے۔

News image
 اس مرتبہ حزب اختلاف کا کردار بھی مختلف نظر آئے گا اور’غریب عوام کے مفاد میں حکومت کو ان کے وعدے بھی یاد دلائیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’میں وزیراعظم نہیں خادم ہوں اور تمام اراکین کے تعاون کا خواہاں ہوں۔ ہم ملک کی یکجہتی اور استحکام کے لیے مل کر کام کریں گے‘۔تاہم نئے منتخب وزیر اعظم نے ملک کو درپیش سب سے بڑے مسئلے یعنی امن عامہ کی خراب حالت اور دہشت گردی کے مقابلے کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا۔

یوسف رضا گیلانی کی تقری کے بعد قائدِ حزب اخلاف اور مسلم لیگ قاف کے رہنما چوہدری پرویز الہی نے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے تجویز دی کہ اپوزیشن کے خلاف انتقامی سیاست انہیں ترک کرنا ہوگی۔ ملکی دفاع کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ دفاعی بجٹ میں کمی کی حمایت نہیں کریں گے اور ملک کے جوہری اور میزائل پروگرام جاری رکھنے کی حمایت کریں گے۔

حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی اپنی محنت و کوشش کی وجہ سے یہاں پہنچے ہیں اور وہ انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کے فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں نتائج معلوم ہوتے ہوئے بھی انہوں نے ایسا کیا تاکہ ایک جماعتی حکومت کے تاثر کو رد کر سکیں کیونکہ’یہ نہ جمہوریت اور نہ پارلیمنٹ کے حق میں ہے‘۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یوسف رضا گیلانی اپنے تدبر، سیاسی بصیرت سے انشاء اللہ احسن طریقے سے معاملات کو چلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ حزب اختلاف کا کردار بھی مختلف نظر آئے گا اور’غریب عوام کے مفاد میں حکومت کو ان کے وعدے بھی یاد دلائیں گے‘۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ سندھ میں غوث بخش مہر اور ان کے بیٹے کے خلاف قتل کے مقدمے کے درج ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کا تدارک کرنا ہوگا، انتقامی کارروائی سے پرہیز کرنا ہوگا‘۔

مخدوم امین فہیم ایوان میں ہونے والی نعرے بازی پر ناخوش نظر آئے

پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے نئے قائد ایوان کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا یہ سب کچھ بےنظیر بھٹو کی وجہ سے ممکن ہوا۔ مہمانوں کے جانب سے شدید نعرہ بازی کا سخت برا مناتے ہوئے انہوں نے سپیکر سے درخواست کی کہ وہ ایوان میں ڈسپلن کو یقینی بنائیں۔

نئے قائد ایوان نے صدر پرویز مشرف پر بات کرنے سے احتراز کیا تاہم مسلم لیگ نواز کے رہنما چوہدری نثار کی تقریر سے ایوان کے اصل رنگ کا احساس ہوا کہ یہ صدر پرویز مشرف کے مخالفین کی اکثریت والا ایوان ہے۔ انہوں نے صدر مشرف کو جمہوریت پر برا سایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نجات ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ

’نہ گفتگو اور نہ شاعری سے جائے گا
عصا اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائے گا
اگر فکر گریباں ہے توگھر پہ جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے جو دیوانگی سے جائے گا‘

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اپنی تقریر میں کہا کہ لوگوں کا کافی خون بہہ چکا ہے اور’سیاسی مسائل کا حل سیاسی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کرنا ہے۔ بلوچستان کے قوم پرستوں سے بات کرنا ہے، فاٹا کے بزرگوں کے ساتھ بات کرنی ہے۔ ہم نے اصل معنوں میں اس وفاق کو بحال کرنا ہوگا۔ خدا کے لیے میرے بچوں کو خودکش جیکٹیں نہیں بلکہ کتابیں دیں‘۔

ان رہنماؤں کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے فاروق ستار، جمیعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کے علاوہ دیگر اراکین نے بھی ایوان سے خطاب کیااور حکومت کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد