ججز کالونی سے رکاوٹیں ہٹ گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم کی جانب سے ججوں کی رہائی کے’حکم‘ کے بعد اسلام آباد میں ججز کالونی سے رکاوٹیں ہٹانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جبکہ وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس خبر کا خیرمقدم کیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی جانب سے رہائی کے اعلان کے بعد اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کے ارکان نے ججز کالونی کے داخلی راستے پر موجود خاردار تاریں اور رکاوٹیں ہٹانی شروع کر دیں اور لوگوں کو جامہ تلاشی کے بعد کالونی میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی ججوں کی رہائی کے حکم کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کی پارلیمنٹ کا ہے۔ ذرائع ابلاغ، وکلاء اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھی ایک بڑی تعداد ججز کالونی میں معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت دیگر ججوں کےگھروں کے باہر جمع ہے۔ معزول چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری نے بھی اپنےگھر کی بالکونی میں آ کر اپنےگھر کے دالان میں جمع افراد کے خیر مقدمی نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا ہے۔افتخار محمد چوہدری پانچ ماہ کے عرصے کے بعد اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ گھر سے باہر آئے ہیں۔ جسٹس افتخار کےگھر کے احاطے میں موجود افراد عدلیہ کی بحالی اور آزادی کے حق میں اور صدر مشرف کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کی رہائش گاہ کے احاطے میں موجود افراد سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے صرف اسی صورت میں چیف جسٹس سے باہر آنے کی درخواست کرنے کا اعلان کیا کہ اس موقع پر کوئی نعرے بازی نہ کی جائے اور صرف تالی بجائی جائے۔ پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ معزول چیف جسٹس نے سکیورٹی کے خدشات کے تحت گھر کے باہر میٹل ڈٹیکٹر گیٹ نصب کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ ابھی تک اپنے گھر کے دروازے سے باہر نہیں آئے ہیں۔ تاہم گرفتاری کے خاتمے کے ’حکم‘ کے بعد لاہور میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے معزول جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ انہیں ٹی وی کے ذریعے ہی اس فیصلے کا پتہ چلا ہے اور نہ تو انہیں نظر بندی کی تحریری احکامات دیے گئے تھے اور نہ ہی رہائی کا کوئی حکم انہیں دیا گیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی جانب سے ججوں کو احتجاج کی بجائے پارلیمان کا راستہ اختیار کرنے کی بات پر جسٹس رمدے نے کہا کہ وہ اپنی نوکریوں کے لیے احتجاج نہیں کر رہے اور جج کی نوکری ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ احتجاج میری قوم نے کیا ہے اور یہ تین نومبر کو ججوں کے خلاف ہونے والے ایکشن کا ردعمل ہے‘۔ انہوں نے اس احتجاج کو اپنی زندگی بھر کی کمائی قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی قوم کو ہی یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اسے کس قسم کی عدلیہ اور جج چاہیے ہیں۔ | اسی بارے میں گرفتار ججوں کی رہائی: نئے وزیرِاعظم کا پہلا ’حکم‘24 March, 2008 | پاکستان ’نمائندے مینڈیٹ کا احترام کریں‘20 March, 2008 | پاکستان پاکستان میں وکلاء کا احتجاج جاری20 March, 2008 | پاکستان ’پارلیمنٹ کونہیں روکا جا سکتا‘18 March, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی، قرار داد کافی ہے‘16 March, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی پر اتفاق09 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||