BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نمائندے مینڈیٹ کا احترام کریں‘

وکلاء احتجاج
’عوام ملک میں آئین کی پاسداری چاہتے ہیں‘
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ اٹھارہ فروری کو عوام نے آئین کی پاسداری کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور اب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ بات وکلاء کے ہفتہ وار احتجاج کے موقع پر لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے ارکان سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نےکہا ہے کہ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کے فیصلے کو عوام نے مسترد کردیا ہے اور اٹھارہ فروری کو عوام نے بڑا واضح فیصلہ دیا ہے کہ وہ ملک میں آئین کی پاسداری چاہتے ہیں۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی فل بنچ نے تین نومبر کو ایمرجنسی اور پی سی او کے خلاف جو فیصلہ دیا تھا وہ ایک بااختیار عدالت نے جاری کیا تھا اور یہ فیصلہ آج بھی لاگو ہے۔

انہوں نے کہا کہ سات رکنی فل بنچ نے یہ فیصلہ آئین کا تحفظ کرتے ہوئے دیا تھا کیونکہ ججوں نے آئین کی پاسداری اور اس کے تحفظ کرنے کا حلف اٹھایا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے جو حکم آئین کے خلاف ہو اس کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں ہے اور اس حکم کو کالعدم قرار دینا ضروری نہیں ہے اور صرف نظرانداز کردیا جائے۔

 آئین کے آرٹیکل ایک سو نوے کے تحت انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے کہنے پر اس کی معاونت کرے لیکن افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ نے تین نومبر کو سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد نہیں کرایا اور ایک شخص کے سامنے ہھتیار ڈال دیئے۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری

ان کے بقول سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے اپنے فیصلہ میں اعلیْ عدلیہ کے ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے روک دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا وہ جج کسی صورت میں بھی سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے ہیں۔ ان کے بقول پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج دیگر اقدامات کی بھی توثیق نہیں کرسکتے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سات رکنی بنچ نے جو فیصلہ دیا تھا وہ جسٹس وجیہ الدین کے کیس میں ان کے وکیل اعتزاز کی جانب سے دی گئی درخواست پر دیا تھا۔

انہوں نے واضح کیا ’آئین کے آرٹیکل ایک سو نوے کے تحت انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے کہنے پر اس کی معاونت کرے لیکن افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ نے تین نومبر کو سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد نہیں کرایا اور ایک شخص کے سامنے ہھتیار ڈال دیئے۔‘

احتجاج
’ہم آئین کی منسوخی، معطلی اور بربادی میں حصہ دار نہیں بن سکتے تھے اور اس لیے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا‘

ان کے بقول جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا وہ آج بھی جج ہیں اور اُن کو اِن کے عہدے سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔

جسٹس افتخارمحمد چودھری نے کہا کہ ہم آئین کی منسوخی، معطلی اور بربادی میں حصہ دار نہیں بن سکتے تھے اور اس لیے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے آدھ گھنٹے کے خطاب میں کہا کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کر کے عوام سے بے وفائی نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین سے کوئی بالاتر نہیں ہے اور جو قومیں آئین کا احترام نہیں کرتی وہ پارہ پارہ ہوجاتی ہیں۔

دوسری طرف جمعرات کو پاکستان بھر کی وکلاء تنظیموں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ہفتہ وار یوم احتجاج منایا۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں وکلاء نے احتجاج کے سلسلہ میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ایوان عدل سے پنجاب اسمبلی تک احتجاجی جلوس نکالا۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے احتجاجی اجلاس میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فوری رہائی کے لیے ایک قرارداد بھی منظور کی۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد