’ججوں کی بحالی، قرار داد کافی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی اعلیْ عدالتوں کے سابق ججوں کا کہنا ہے کہ تین نومبر کو برطرف کیے گئے ججوں کی بحالی کے لیے پارلیمان کی دوتہائی اکثریت سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ اعلیْ عدالتوں کے اکیس ریٹائرڈ ججوں کے دستخطوں کے ساتھ جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے آئین میں جو ترامیم کی ہیں وہ اس وقت تک آئین کا حصہ نہیں بن سکتیں جب تک پارلیمان کی دوتہائی اکثریت ان ترامیم کو منظوری نہیں کرتی۔ دستخط کرنے والوں میں سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس افضل ظلہ اور ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سردار اقبال، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس اے ایس سلام، جسٹس رفیق تارڑ ،جسٹس میاں محبوب احمد، جسٹس خلیل الرحمن خان اور جسٹس میاں اللہ نواز سمیت دیگر جج شامل ہیں۔ ان سابق ججوں کی یہ رائے ہے کہ سپریم کورٹ کی سات رکنی بنچ کی طرف سے ان کا کہنا ہے کہ تین نومبر کو اعلٰی عدالتوں کے ججوں کی معزولی غیر آئینی ہے ۔ ان کے بقول دستور کی دفعہ دو سو نو پرعمل درآمد کیے بغیرکسی جج کواس کے منصب سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ سابق ججوں کا یہ موقف ہے کہ نظریہ ضرورت کے کسی بھی اصول کے تحت کسی فرد واحد کو دستور میں مستقل تبدیلی کا مجاز نہیں ہے۔ ان کے بقول اگر کسی مجبوری میں ایسا کوئی اقدام کیا جائے تو ہرحال میں اس کی پارلیمان سے توثیق کرانا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کو آئین میں مستقل ترمیم کرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی کوئی عدالت اس طرح کا اختیار صدر کو دے سکتی ہے۔ سابق ججوں نے واضح کیا کہ جنرل ضیاءالحق نے سنہ انیس سو پچاسی اور جنرل پرویز مشرف نے سنہ دو ہزاردو میں آئین میں جو ترامیم کی تھیں ان ترامیم کی پارلیمان نے توثیق کی تھی جس کے بعد یہ ترامیم آٹھویں اور سترہ ترامیم کی صورت میں آئین کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف نےآرٹیکل دو سو ستر اے اے اے کے ذریعے جو نام نہاد ترمیم کی وہ آئین کا حصہ نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول پارلیمان کی دو تہائی اکثریت نے اس ترمیم کی توثیق نہیں کی ہے۔ ان ججوں کا کہنا ہے کہ حکومت آئین کے آرٹیکل پانچ اور ایک سو نوے کے تحت ان تمام ججوں کو انتظامی اقدامات کے ذریعے بحال کرسکتی ہے جن کو تین نومبر کو ان کے عہدے سے معزول کیا گیا تھا۔ سابق ججوں نےقومی اسمبلی کے نومنتخب ارکان پر زور دیا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ججوں کی بحالی کے معاملہ پر ایک قرارداد منظور کریں جو عوامی مینڈیٹ کی عکاسی کرے۔ سابق ججوں کے بقول عبوری آئینی حکم یعنی پی سی او اور اس کے بعد اعلٰی عدالتوں میں ججوں کی تقرریاں غیر آئینی ہیں۔ ان کی رائے میں ’قانوناً جائز‘ چیف جسٹس کے مشورے کے بغیر نئے جج کی تقرری عمل میں نہیں آسکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی ہمدردی کی بناء پر میرٹ پر استحقاق رکھنے والے حال میں تعینات کیے گئے نئے ججوں کی دوبارہ تقرری کا معاملہ سپریم کورٹ کے ججز کیس (الجہاد ٹرسٹ کیس) کی روشنی میں زیر غور لایا جاسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||