گرفتار ججوں کی رہائی ’حکم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی نو منتخب قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو نیا قائدِ ایوان منتخب کر لیا ہے۔ انہیں 264 ووٹ ملے جبکہ ان کے مدِمقابل امیدوار چودہری پرویز الہٰی 42 ووٹ حاصل کر سکے۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے مختصر خطاب میں گرفتار ججوں کی فوری رہائی کا ’حکم‘ دیا ہے لیکن کہا ہے کہ جج اپنے مسائل احتجاج کی بجائے پارلیمان کے اندر حل کرائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی حکومت بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوامِ متحدہ سے کروانے اور ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل پر معافی کے لیے پارلیمان میں قرارداد پیش کرے گی۔ نئے وزیرِ اعظم منگل کو ایوانِ صدر میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور توقع کی جا رہی کہ وہ بدھ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ پیپلز پارٹی کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی منگل کواکیلے حلف اٹھائیں گے۔ذرائع کے مطابق یوسف رضا گیلانی حلف لینے کے بعد اپنی کابینہ تشکیل دیں گے اور اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد ان کی کابینہ حلف اٹھائے گی۔ ذرائع کے مطابق حلف برداری کی تقریب میں آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، میاں نواز شریف اور شہباز شریف، جنہیں باضابطہ ایوان صدر سے دعوت موصول ہوئی ہے، شریک نہیں ہوں گے۔ بی بی سی اردو کے ہارون رشید نے پیپلز پارٹی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نومنتخب وزیراعظم بدھ کو اعتماد کا ووٹ حاصل کریں اور اس مقصد کے لیے منگل کو اسمبلی اجلاس دوبارہ بلانے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کی توقع ہے۔ حکمراں اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کے دوران بھی تمام ارکان اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیر کو اجلاس ملتوی ہونے کے بعد بھی دارالحکومت میں ہی موجود رہیں تاکہ بدھ کو نو منتخب وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے کے وقت ان کی ایوان میں موجودگی یقینی ہو۔ پیر کو ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار برائے قائدِ ایوان یوسف رضا گیلانی جبکہ مسلم لیگ قاف کی طرف سے چودھری پرویز الہیٰ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار تھے۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے خفیہ رائے شماری کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا اور
مسلم لیگ قاف کے دو اراکین خواجہ شیراز اور کشمالہ طارق اور ایک آزاد رکن صائمہ اختر بھروانہ تاخیر سے پہنچنے کے باعث ایوان کے اندر نہ جا سکیں اور وزیرِاعظم کے انتخاب میں ووٹ نہیں ڈال سکے۔ تین اراکین جن میں بلوچستان سے جمیعت علماء اسلام نظریاتی گروپ کے سربراہ مولانا عصمت اللہ بھی شامل ہیں ایوان میں بیٹھے رہے اور کسی کو ووٹ نہیں دیا۔ اجلاس کے موقع پر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے۔مہمانوں کی گیلری میں اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے جب بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی پہنچے تو پیپلز پارٹی کے حمایتیوں نے ان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔ مہمانوں کی گیلری سے بھی کئی مرتبہ ’جئے بھٹو‘ کے نعرے بلند ہوئے جس پر سپیکر نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی جبکہ اس کی مخالف جماعت مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی کے علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد ہوئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملتان سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہونے والے یوسف رضا گیلانی کو سنیچر کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔ قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس میں سے دس حلقے ایسے ہیں جن میں سے کچھ میں ابھی انتخاب باقی ہے اور کچھ حلقوں کے نتائج عدالتوں نے روک رکھے ہیں۔ ایسے میں تین سو چونتیس اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کا آج حق حاصل ہے۔
ان تین سو چونتیس اراکین میں سے تین نے تاحال حلف نہیں اٹھایا۔ ان میں صوبہ سرحد سے پیپلز پارٹی کے عبدالاکبر خان، بلوچستان سے مسلم لیگ (ق) کے جام محمد یوسف اور سندھ سے فنکنشنل مسلم لیگ کے پیر صدر الدین شاہ شامل ہیں۔ یہ تینوں اراکین صوبائی اسمبلیوں میں بھی کامیاب ہوئے ہیں اور امکان ہے کہ وہ صوبائی اسمبلیوں کو ہی ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 121 ہے جبکہ ان کی اتحادی جماعتوں میں سے مسلم لیگ (ن) کے 89 ، عوامی نیشنل پارٹی کے تیرہ، جمیعت علماء اسلام (ف) کے چھ اراکین کے علاوہ تاحال اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی ہوئی متحدہ قومی موومنٹ نے بھی ان کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین کی تعداد پچیس ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی کے مدمقابل صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ قاف کی طرف سے چوہدری پرویز الہیٰ نے کاغذات نامزدگی دائر کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے شکست کا یقین ہے لیکن جمہوری روایات کو برقرار رکھنے اور ملک میں یک جماعتی حکمرانی کے تاثر کو رد کرنے کے لیے انتخاب میں حصہ لینا ضروری ہے‘۔ سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعتیں تہتر کے آئین کے تحفظ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور پارلیمان کی بالا دستی کے لیے کام کریں گی۔انہوں نےیہ بھی کہا تھا کہ جب تک ان کی جماعت چاہے گی وہ وزیراعظم کے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔ |
اسی بارے میں ’ عہدے کی مدت، پارٹی کی صوابدید‘23 March, 2008 | پاکستان صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس طلب22 March, 2008 | پاکستان ایم کیو ایم اور پی پی پی مفاہمت21 March, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||