BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 March, 2008, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ عہدے کی مدت، پارٹی کی صوابدید‘
یوسف رضا گیلانی
’اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ہی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا‘
پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں کے نامزد امیدوار مخدوم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جب تک ان کی جماعت چاہے گی وہ وزیراعظم کے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔

انہوں نے یہ بات وزیراعظم کے عہدے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہی۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ’مجھے پارٹی نے نامزد کیا ہے، میں پارٹی کے ساتھ ہوں اور جب تک پارٹی چاہتی ہے کہ میں یہ خدمت کرتا رہوں، میں خدمت کرتا رہوں گا‘۔

واضح رہے کہ وزارت عظمی کے لیے یوسف رضا گیلانی کی نامزدگی پر ایک رائے یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے انہیں عارضی مدت کے لیے وزیراعظم نامزد کیا ہے اور بعد میں وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر اسمبلی میں پہنچ کر خود یہ منصب سنبھالیں گے۔

صحافیوں سے بات چیت کے دوران یوسف رضا گیلانی نے بینظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ’ملک میں اس وقت جو بھی لولی لنگڑی لولی جمہوریت ہے وہ شہید بے نظیر بھٹو کی مرہون منت ہے‘۔ انہوں نے وزارت عظمی کے لیے نامزدگی پر پیپلز پارٹی اور اسکی اتحادی جماعتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ایک سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مختلف ایشوز پر آئندہ حکومت کی پالیسی کا اعلان وہ تمام حلیف جماعتوں کے اتفاق رائے سے پیر کو قومی اسمبلی کے فلور پر کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ملک اس وقت مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے اس لیے وہ ان کا ساتھ دیں۔

News image
 ملک میں اس وقت جو بھی لولی لنگڑی لولی جمہوریت ہے وہ شہید بے نظیر بھٹو کی مرہون منت ہے۔
یوسف رضا گیلانی

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پانچ بار رکن قومی اسمبلی اور پانچ بار وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اور ان کی کابینہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ اس سوال پر کہ کیا بارہ مئی کے واقعے کے تناظر میں ایم کیو ایم سے اتحاد پائیدار ثابت ہو سکے گا، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی قوت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد یوسف رضا گیلانی نے ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی اور اسکی اتحادی جماعتیں تہتر کے آئین کے تحفظ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور جمہوریت اور اداروں کی مضبوطی کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک جس بحران سے گزر رہا ہے اس کو حل کرنا ایک آدمی کا کام نہیں بلکہ تمام سیاسی قوتو ں کو مل کر ملک کو بحرانوں سے نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ مخلوط حکومت چارٹر آف ڈیموکریسی پر عملدرآمد کریں گی اور اداروں کو مضبوط کرنے کے علاوہ پارلیمینٹ کی بالادستی کے لیے کام کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئین کے مطابق قومی اسمبلی کو جوابدہ ہوگی جو کہ عوام کا نمائندہ اعلٰی ترین فورم ہے اور قومی اسمبلی کی کمیٹیوں کو بھی مضبوط بنائے گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ قاف نے اتوار کو وزارت عظمٰی کے لیے چوہدری پرویز الہی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ اتوار کو پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پرویز الہی نے صحافیوں کو بتایا کہ’ہم اس جمہوری عمل میں حصہ لےکر یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ یہ بھی جمہوری عمل کے لیے بہت ضروری ہے‘۔

 مسئلہ ہار جیت کا نہیں ہے، ماضی میں متفقہ اسپیکر کی تو مثالیں موجود ہیں لیکن متفقہ قائد ایوان کے انتخاب کی مثالیں نہیں ہیں اس لیے وزارت عظمی کے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں
پرویز الٰہی

اس سوال پر کہ جب انہیں معلوم ہے کہ وہ ہار جائیں گے تو پھر وہ اس انتخاب میں حصہ کیوں لے رہے ہیں، پرویز الہی نے کہا کہ’مسئلہ ہار جیت کا نہیں ہے، ماضی میں متفقہ اسپیکر کی تو مثالیں موجود ہیں لیکن متفقہ قائد ایوان کے انتخاب کی مثالیں نہیں ہیں اس لیے وزارت عظمی کے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی نے قومی اسمبلی کی سپیکر کی جانب سے ارکان اسمبلی کو دیے گئے ڈنر کی دعوت احتجاجاً مسترد کر دی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کے اس بیان کی بناء پر کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ قاف سے بات کرنا پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ پرویز الہی نے کہا کہ اس بیان کے بعد اسپیکر کے ڈنر میں شرکت کرنا مسلم لیگ قاف کے مینڈیٹ کی توہین ہوگی۔

ایم کیو ایم کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ’ہمارا ان کا تعلق بہت اچھا ہے انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت سے پہلے ہمیں باقاعدہ اعتماد میں لیا ہے اور یہ فیصلہ ازخود کیا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھیں گے‘۔

یاد رہے کہ صدر پرویز مشرف نے نو منتخب قومی اسمبلی کا نیا قائد ایوان منتخب کرنے کے لیے چوبیس مارچ کی شام چار بجے اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں قائد ایوان یعنی وزیراعظم کا انتخاب ہوگا۔ نومنتخب وزیراعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ پچیس مارچ کی صبح گیارہ بجے ایوان صدر میں حلف اٹھائیں گے اور صدر پرویز مشرف ان سے حلف لیں گے۔

حلف برداری میں آصف علی زرادری اور میاں نواز شریف سمیت متعدد سیاستدانوں، سفیروں، فوجی سربراہان اور سول بیورو کریٹس کو مدعو کیا گیا ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگاراعجاز مہر کے مطابق مسلم لیگ نواز کے ایک سینئر رہنما نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت کے نامزد وزیر تو حلف برداری کی تقریب میں جائیں گے لیکن میاں نواز شریف ’مصروفیات‘ کی وجہ سے نہیں جا پائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی حلف برداری میں شرکت کا فیصلہ پارٹی کرے گی اور ہو سکتا ہے کہ پارٹی چیئرمین بلاول زرداری تقریب میں شرکت کریں۔

نواز، زرداریبات چیت کریں گے
’خود کش حملوں پر قابو پانے کیلیے مذاکرات‘
مخدوم جمیل الزماں بات اصول کی ہے
’اوپر نہیں ملتا تو صوبے میں تو ملنا چاہیے‘
آصف زرداریبادشاہ یا بادشاہ گر
آصف زرداری پاکستان کے سب سے بااثر سیاستدان
جاوید ہاشمی’آمریت دفن کردیں‘
’دفاعی بجٹ ایوان میں پیش کیا جائے‘
 آصف زرداری اور مخدوم امین فہیمبات نکلے گی تو۔۔
زرداری اور مخدوم کے حامی کارکن آمنے سامنے
امین فہیمامین فہیم کا ’جرم‘
’جو کیا پارٹی قیادت کو اعتماد میں لے کر کیا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد