BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 March, 2008, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امین فہیم اے آرڈی صدارت سےمستعفی

مخدوم امین فہیم
اے آر ڈی کے اہداف پورے ہو گئے اس لیے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا:امین
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر مخدوم امین فہیم اتحاد برائے بحالی جمہوریت ( اے آر ڈی) کی صدارت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

اپنے استعفے میں انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اس اتحاد کے حوالے سے اپنی خدمات احسن طریقے سے انجام دی ہیں لہذا وہ عہدہ صدارت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

امین فہیم نے پیر کو اتحادی جماعتوں کے نامزد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات کے فوری بعد اے آر ڈی کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

انہوں نے اپنا استعفیٰ اے آر ڈی کے قائمقام جنرل سیکریٹری کو ارسال کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ جمہوریت کی بحالی ہی اے آر ڈی کا اصل مشن تھا اور اب نئی اسمبلیاں وجود میں آ گئی ہیں اور اے آر ڈی کے اہداف پورے ہو گئے ہیں، اس لیے میں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اے آر ڈی میں پیپلز پارٹی کے علاوہ اب کوئی قابل ذکر سیاسی جماعت باقی نہیں رہی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے گزشتہ سال آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) بنا لی تھی اور وہ اے آر ڈی سے علیحدہ ہوگئی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ نئے الائنس بنانے سے بہتر ہے کہ اے آر ڈی کو ہی مضبوط کیا جائے۔

پیپلز پارٹی نے لندن میں پاکستان مسلم لیگ نواز سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کا بننے والا اتحاد اے پی ڈی ایم میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز اور اس اتحاد میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان عام انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ مسلم لیگ نون نے انتخابات میں حصہ لیا تھا تاہم اس اتحاد میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں جن میں پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی نے اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اے آر ڈی میں پیپلز پارٹی کے علاوہ ان کوئی قابل ذکر سیاسی جماعت باقی نہیں رہی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے گزشتہ سال آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) بنا لی تھی اور وہ اے آر ڈی سے علیحدہ ہوگئی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن مرحومہ بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ نئے الائنس بنانے سے بہتر ہے کہ اے آر ڈی کو ہی مضبوط کیا جائے۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے وزیراعظم کے نامزد امیدوار سید یوسف رضا گیلانی نے پیپلز پارٹی (پارلیمنٹیرین) کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے پیر کو ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان سے ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور پارٹی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ’مخدوم امین فہیم پارٹی کے سینئر رہنما اور ہمارے بڑے بھائی ہیں، ہمارے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے اور مخدوم امین فہیم کی طرف سے میرے وزارت عظمٰی کے امیدوار کے لیے نامزدگی پر بھی کسی قسم کے تحفظات نہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں مخدوم امین فہیم نے کہا کہ وہ کبھی بھی پارٹی نہیں چھوڑیں گے اور پارٹی میں رہ کر اس کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے وزارت عظمی کے نامزد امیدوار سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مخدوم امین فہیم انہیں ووٹ دینے کے لیے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ اتحادی جماعتوں اور فاٹا کے ارکان کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد تشکیل دی جائے گی۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے وزیراعظم کے انتخاب میں غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔

اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد