BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 March, 2008, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نصف ارکان کی پہلی اسمبلی‘

اراکین کی تعداد ایک سو اڑسٹھ تک پہنچ چکی ہے۔
سندھ کی نو منتخب اسمبلی میں نصف کے قریب اراکین پہلی مرتبہ ایوان میں داخل ہوں گے، جبکہ کئی اراکین کو تیسری چوتھی مرتبہ رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، مجموعی طور پر اکثریت جوان نسل کی ہے ۔

پاکستان کے قیام کا بنیاد رکھنے والی سندھ اسمبلی کا قیام انیس سو سینتیس میں عمل میں آیا اس وقت اراکین کی تعداد صرف ساٹھ تھی، قیام سے لیکر آج تک بارہ اسمبلیاں وجود میں آچکی ہیں اور اراکین کی تعداد ایک سو اڑسٹھ تک پہنچ چکی ہے۔

صوبائی اسمبلی میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت ہے، جس کو ایک سو اڑسٹھ کے ایوان میں نواسی نشستیں حاصل ہیں جبکہ ایم کیو ایم کو اکاون، مسلم لیگ ق کو دس ، مسلم لیگ فنکشنل کو نو ، نیشنل پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کو دو دو نشستیں حاصل ہیں۔

ستر کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ کوئی ایک سیاسی جماعت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اکیلی حکومت سازی کرسکے اس سے قبل تمام ہی حکومتیں مخلوط رہی ہیں۔

صحافی اعجاز شیخ گزشتہ کئی سالوں سے سندھ اسمبلی اور اس کی کارروائی پر نظر رکھے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کئی سالوں کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اکیلی ہی حکومت بنائے گی اور اس دیگر جماعتوں کی مدد کی ضرورت نہیں پڑیگی۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلی میں تمام ہی روشن خیال جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، صوبہ سرحد کے بعد سندھ میں بھی عوامی نشینل پارٹی نے دو نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ مذہبی جماعتوں کا کوئی بھی رکن منتخب نہیں ہوسکا ہے۔

اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ اگر متحدہ قومی موومنٹ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھتی ہے تو وہ اپنے قیام سے لیکر دوسری مرتبہ اپوزیشن میں بیٹھے گی اس سے قبل بھی وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ہی مخلوط حکومت سے علیحدہ ہوکر اپوزیشن میں آئی تھی مگر یہ مدت بھی بہت قلیل تھی۔ اسی طرح پیر پگارہ کی مسلم لیگ فنکشنل بھی کئی سالوں کے بعد اپوزیشن میں نظر آئیگی ۔

ایک سو اڑسٹھ کے ایوان میں ستر کے قریب اراکین پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں جن میں مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والی اٹھارہ خواتین بھی شامل ہیں جبکہ باقی دیگر اراکین اس سے پہلے بھی سندھ اسمبلی کا تجربہ رکھتے ہیں۔ مگر ان میں اکثریت جوان خون کی ہے پھر وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے نامزد وزیراعلیٰ سید قائم علی، نامزد اسپیکر نثار کھوڑو اور پارلیمانی رہنما پیر مظہر الحق پرانے پارلیمینٹرین ہے، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما سردار احمد بھی وسیع تجربے کے حامل ہیں۔

ماضی میں صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن مضبوط رہی ہے، مگر اس وقت کوئی بھی ایسی جماعت نہیں ہے، جو مضبوط اپوزیشن کا کردا ادا کرسکے، سیاسی تجزیہ نگار جی این مغل کہتے ہیں کہ اگر ایم کیو ایم اپوزیشن میں بیٹھتی ہے تو پھر اپوزیشن کی آواز موثر بن سکتی ہے۔ ’’ اس وقت دو نقشے سامنے آرہے ہیں ایک یہ کہ پیپلز پارٹی واحد اکثریتی پارٹی ہونے کی وجہ سے اکیلی ہی حکومت بنائے گی، جبکہ دیگر جماعتیں اپوزیشن میں بٹھیں گی اگر یہ صورتحال بنتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی کو ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔ اگر ایم کیو ایم پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہوتی تو پھر اپوزیشن بہت ہی کمزور ہوگی۔

بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر ایم کیو ایم حکومتی بیچنوں پر بیٹھتی ہے تو اپوزیشن بینچوں پر اچھے مقرر کی کمی میں مزید اضافہ ہوجائیگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد