BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 March, 2008, 09:15 GMT 14:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ کے سیاسی منظر نامے سے مسلم لیگ (ق) غائب

ارباب غلام رحیم
قاف لیگ کے صوبائی صدر ارباب غلام رحیم سعودی عرب گئے ہوئے ہیں
ملک میں اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد سندھ کے سیاسی منظر نامے سے سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) غائب ہوئی ہے۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے بعد بھی پارٹی کا تاحال کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوسکا ہے نہ ہی کوئی لائحہ عمل طے کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ق) نے صوبائی اسمبلی کی صرف دس نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ عام انتخابات میں بھرپور کامیابی کے لیے جماعت نے انتخابی اتحاد بنائے تھے تھے، جس کے تحت کراچی میں چار نشستوں کے علاوہ تمام نشستوں پر ایم کیو ایم کی حمایت کا اعلان کیا گیا، جبکہ اندرون سندھ نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل کے ساتھ اکثر مشترکہ امیدوار نامزد کیے تھے۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت نے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کردیا اور سابق حکمران جماعتوں کا اتحاد موثر ثابت نہیں ہوسکا۔ مسلم لیگ (ق) کے صوبائی سیکریٹری جنرل، نادر لغاری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اور اتحادیوں نے پانچ سال ملک خدمت کی مگر لوگ کسی اور جماعت کو موقع دینا چاہتے تھے۔ گن کا کہنا تھا ’یہ عوامی نتیجہ ہے جو عوام نے فیصلہ کیا ہے وہ سر آنکھوں، شکست کی کئی وضاحتیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ آپس کے مسائل تھے دیگر مسائل تھے مگر جو بھی نتائج ہیں انہیں قبول کرنا چاہیئے۔‘

 انتخابات کو اڑتیس دن گزرنے کے بعد بھی مسلم لیگ قاف کا نہ صوبائی اجلاس منعقد ہوسکا ہے نہ ماضی کی اتحادی جماعتوں سے رابطہ کیا گیا ہے

عام انتخابات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اتحادی مسلم لیگ (ق) سے دور ہوگئے ہیں جس وجہ سے یہ اتحاد بظاہر بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔ مسلم لیگ قاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کہتے ہیں کہ سندھ میں شکست کے بعد بھی ان کی جماعت متحد ہے ’سندھ میں گھوٹکی سے لے کر ٹھٹھہ تک اور تھرپارکر سے لے کر شہدادکوٹ تک جو لوگ مسلم لیگ( ق) میں تھے وہ آج ساتھ ہیں، انتخابات میں شکست ہوئی ہے مگر جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے پنجاب سے تو پھر بھی کئی لوگ پارٹی کو چھوڑ گئے ہیں مگر سندھ میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بنا ہے۔‘

انتخابات کے نتائج آنے کے بعد مسلم لیگ قاف کے اہم رہنما پس منظر میں چلے گئے ہیں، جن میں سے کچھ تو بیرون ملک ہیں۔

اپنے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے بارے میں سخت گیر موقف رکھنے والے مسلم لیگ قاف کے صوبائی صدر ارباب غلام رحیم کو آخری مرتبہ بھائی کی وفات پر تعزیت وصول کرتے دبکھا گیا تھا، اِس وقت وہ سعودی عرب گئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح سابق وفاقی وزیر لیاقت جتوئی اور صوبائی وزیر پپو شاہ بھی دبئی میں ہیں۔

مگر مسلم لیگ (ق) کے رہنما حلیم عادل کا کہنا ہے کہ صرف چند لوگ ذاتی وجوہات کی وجہ سے بیرون ملک ہیں اور جب صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوگا تو تمام اراکین موجود ہوں گے، پاکستان میں ایک روایت رہی ہے کہ جب نئی حکومت آتی ہے تو پرانی حکومت والوں کو خدشات ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں مگر ان لوگوں کے باہر جانے کی یہ وجہ نہیں ہے۔

انتخابات کو اڑتیس دن گزرنے کے بعد بھی مسلم لیگ قاف کا نہ صوبائی اجلاس منعقد ہوسکا ہے نہ ماضی کی اتحادی جماعتوں سے رابطہ کیا گیا ہے۔ جماعت کے صوبائی رہنما نادر اکمل کا کہنا ہیں کہ ارباب غلام رحیم کی ملک واپسی پر اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ بقول ان کے’وہ صوبائی صدر ہیں جماعت کے اور منتخب رکن ہیں اس لیے وہ پارلیمانی اجلاس طلب کریں گے۔ ہم اس کو دور اندیشی سے دیکھ رہے ہیں کہ اپوزیشن کا کردار مثبت ہونا چاہیے یا ٹانگ کھینچنے والا اگر اپوزیشن تنقید برائے اصلاح کرتی ہے تو یہ مثبت رہے گا۔‘

موجودہ مسلم لیگ (ق) میں اکثر وہ اراکین اور رہنما نظر آتے ہیں جو ماضی میں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک رہے ہیں مگر صدر پرویز مشرف کے دور میں یہ مسلم لیگ قاف میں شامل ہوگئے۔

صورتحال میں تبدیلی کے بعد ان میں سے کئی نے واپسی کے لیے مسلم لیگ (ن) سے رابطہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار رحیم کہتے ہیں کہ پارٹی کو نقصان نہ پہنچانے والوں کے لیے گنجائش موجود ہے۔ سردار رحیم کہتے ہیں ’مشرف نے ایک مصنوعی سیاسی جماعت بنائی تھی اب جب ان کے جانے کا وقت ہے تو وہ لوگ آزاد ہو رہے ہیں ہم سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے، ہماری پالیسی اس بارے میں بڑی واضح ہے کہ جن لوگوں نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے تاہم جو مجبوری کے تحت یا دباؤ میں آکر مشرف سے جا ملا تھے ان کے لیے گنجائش موجود ہے مگر اس کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔‘

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی ضرورت کے تحت مسلم لیگ (ق) کو بنایا گیا، اب اس جماعت کا مستقبل ان کے خود کہ مستقبل سے وابستہ ہے۔

جہانگیر ترین فے قاف کے رستے
فے نے بھی قاف کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد