فے نے بھی قاف سے راستہ الگ کر لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے سپیکر فہمیدہ مرزا سے درخواست کی ہے کہ وہ حزب اختلاف میں مسلم لیگ ق کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے لہذا انہیں الگ نشستیں الاٹ کی جائیں۔ پیر پگارا کی پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر اسمبلی میں پہنچنے والے جہانگیر ترین نے قومی اسمبلی کی سپیکر سے اس سلسلے میں بدھ کو ایک تحریری درخواست میں کی ہے۔ وہ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رہ چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ان کے علاوہ فنکشنل لیگ کے چار دیگر ارکان بھی ہیں جن میں پیر پگارا کے بیٹے پیر صدر الدین شاہ راشدی، خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی واحد ہندو خاتون رینا کماری، غلام دستگیر راجڑ، جادم منگریو شامل ہیں۔ صدر الدین شاہ راشدی اپنی جماعت کے واحد رکن قومی اسمبلی ہیں جنہوں نے اب تک حلف نہیں اٹھایا ہے۔ وہ سندھ اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے ہیں۔ اس فیصلے کی وجوہات کے بارے میں جہانگیر ترین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگ متحدہ اپوزیشن کے ممبر نہیں ہیں۔ ہم ایشو ٹو ایشو فیصلہ کرتے ہیں اسی لیے ہم نے یہ درخواست دی ہے‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پانچ سالوں تک باوردری صدر کی سرپرستی میں ق لیگ کے ساتھ اقتدار میں رہنے کے باوجود اب فنکنشنل لیگ اس سے دوری کیوں اختیار کررہی ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’ہم صدر پرویز مشرف کے ساتھ ق لیگ کے پرانے دوست تھے مگر ہم چوہدریوں کے ہمیشہ خلاف تھے پیر صاحب پگارا نے بھی ان کی قیادت کو کبھی تسلیم نہیں کیا تو ہم نے بنیادی طور پر یہ طے کیا ہے کہ کہ اگر چوہدری لیڈر شپ میں ہیں تو ہم ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے‘۔ اس سوال پر کہ کیا فنکشنل لیگ جو پرویز مشرف کے ساتھ غیرمشروط تعاون کرتی آرہی ہے اب ان کا ساتھ بھی چھوڑ دے گی؟ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت پرویز مشرف کی اتحادی رہی ہے اور وہ ان کی حمایت جاری رکھے گی۔ نومنتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ایک سیاسی جاگیردار پیر گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور پیر پگارا کے بھانجے ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے صدر الدین شاہ راشدی کے سمدھی بھی ہیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مستقبل میں یوسف رضا گیلانی کی میرٹ کی بنیاد پر حمایت کریں۔ ’ہم آگے جاکر انہیں سپورٹ کرسکتے ہیں۔ دیکھیں جی اگر انہیں ہماری سپورٹ چاہیے ہوگی کسی ایشو پر تو ہم اس پر غور کریں گے اور اگر ہم سمجھیں گے کہ صحیح ایشو ہے تو سپورٹ بھی کرسکتے ہیں‘۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ قاف کے لیے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد یہ دوسرا بڑا دھچکا ہے، اس سے پہلے مسلم لیگ قاف کی قریبی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ وزارت عظمی کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی غیرمشروط حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اسکے حق میں ووٹ دے چکی ہے۔ دریں اثناء ذرائع کے مطابق مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے بااثر جاگیردار شیرازی خاندان نے مسلم لیگ نواز میں شمولیت کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ مسلم لیگ نون کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب شیرازی خاندان کے یہ ارکان مسلم لیگ نون سندھ کے ایک رہنما کی معرفت نواز شریف سے ملاقات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اب تک انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوسکی ہے۔ | اسی بارے میں فاروق ستار کی جگہ اب پرویز الہی 22 March, 2008 | پاکستان ایم کیو ایم اور پی پی پی مفاہمت21 March, 2008 | پاکستان ایم کیو ایم شجاعت ملاقات01 September, 2007 | پاکستان چودھری شجاعت کے خلاف مظاہرہ11 May, 2007 | پاکستان چھ ’ہم خیالوں‘ کا فارورڈ بلاک26 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||