BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 March, 2008, 11:05 GMT 16:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ ہنگامے: ازالہ کون کرے گا؟

سندھ ہنگامے
کمیشن قائم نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے بعد اپنی گذارشات وفاقی حکومت کو بھیج دی ہیں۔
گذشتہ برس ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی میں مالی نقصان اٹھانے والے افراد نے اپنے کلیم حکومت کے پاس جمع کرادیے ہیں۔

لیکن دو ماہ سے زیادہ عرصہ گذر جانے کے باوجود اب تک سرکاری سطح پر اس بات کا تعین نہیں ہوسکا ہے کہ نقصانات کے ازالے کی رقم وفاقی حکومت ادا کرے گی یا اس بوجھ کو صوبائی حکومت کو اٹھانا پڑے گا۔

راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کراچی اور اندرونِ سندھ چار روز تک ہنگامہ آرائی جاری رہی جس میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ان واقعات میں کراچی سمیت سندھ کے بعض علاقوں میں سینتالیس افراد ہلاک ہوئے۔

ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے حکومت نے ایک کمیشن قائم کیا تھا جس نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے بعد اپنی گذارشات وفاقی حکومت کو بھیج دی ہیں۔

 جن افراد کو ہنگامہ آرائی کے دوران نقصان اٹھانا پڑا انہوں نے انفرادی طور پر کلیم فارم جمع کرادیے تھے جن کی بنیاد پر کمیشن نے اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو بھیجی ہیں۔

کمیشن کے ایک رکن اور صوبۂ سندھ کے محکمۂ ریوینیو کے افسر انوار حیدر نے بتایا کہ جن افراد کو ہنگامہ آرائی کے دوران نقصان اٹھانا پڑا انہوں نے انفرادی طور پر کلیم فارم جمع کرادیے تھے جن کی بنیاد پر کمیشن نے اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو بھیجی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کمیشن نے نقصان اٹھانے والے ہر ایک دعویدار سے بات چیت کرنے کے بعد نقصانات کا تخمینہ لگایا ہے۔ ’جہاں تک ان ہنگاموں کے دوران مرنے والوں کا تعلق ہے تو ان کے لواحقین کو ایک لاکھ روپے فی کس کے حساب سے سینتالیس لاکھ روپے صوبائی حکومت کی جانب سے ادا کردیے گئے ہیں۔ جبکہ جو افراد ان واقعات میں زخمی ہوئے تھے ان کے بارے میں اب تک ہدایات نہیں ملی ہیں کہ انہیں رقم کی ادائیگی صوبائی حکومت کرے گی یا وفاقی حکومت۔‘

انوار حیدر نے کہا کہ صنعتی اور کاروباری نقصان کے ازالے کے لیے ایک الگ کمیٹی سیکریٹری وزارت خزانہ کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جو صنعتی اور کاروباری تنظیموں سے مشاورت کے ساتھ نقصانات کا اندازہ لگارہی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبۂ سندھ کے ترجمان سید وقار مہدی نے بتایا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ستائیس دسمبر کے بعد ہونے والے واقعات کے نقصان کے ازالے کے لئے جماعتی بنیاد پر کوئی کلیم داخل نہیں کیا ہے اور یہ کلیم انفرادی حیثیت میں داخل کرائے گئے ہیں۔

تاہم انہوں نے دعوٰی کیا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے پر بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو اب تک معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے۔

 ایم کیو ایم نے جماعتی بنیاد پر کلیم داخل نہیں کیا ہے بلکہ ایم کیو ایم کے ذریعے کئی افراد نے انفرادی طور پر چالیس کروڑ روپے سے زیادہ کے کلیم عبوری حکومت کے پاس جمع کرائے ہیں۔
حیدر عباس رضوی

ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء حیدر عباس رضوی نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے جماعتی بنیاد پر کلیم داخل نہیں کیا ہے بلکہ ایم کیو ایم کے ذریعے کئی افراد نے انفرادی طور پر چالیس کروڑ روپے سے زیادہ کے کلیم عبوری حکومت کے پاس جمع کرائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے بعد ایم کیو ایم نے ایک سیل بنایا تھا اور عوام سے درخواست کی تھی کہ وہ ایم کیو ایم سے رابطہ کریں جو حکومت وقت سے رابطہ کرنے کے بعد ان کو کلیم کی رقم دلوانے میں مدد دے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب قرینِ قیاس یہی ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت بنا رہی ہے لہذٰا ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے حالیہ ملاقات میں بھی اس مطالبے کو دہرایا تھا کہ عوام کے نقصانات کے ازالہ کرنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے جسے فوری طور پر پورا کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں
سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ
28 December, 2007 | پاکستان
احتجاج، مظاہرے، زندگی مفلوج
28 December, 2007 | پاکستان
سندھ: ہنگامے، املاک نذر آتش
27 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد