BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 December, 2007, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاج، مظاہرے، زندگی مفلوج

لاہور میں تشدد
پولیس کے مطابق کل شام سے آج تک لاہور میں ہنگاموں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں
بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جمعرات کی شام شروع ہونے والے ہنگاموں کا سلسلہ جمعہ کے روز بھی جاری رہا اور پورے ملک میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔

سندھ کے کئی شہروں میں پرتشدد واقعات میں کم از کم دس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اور پنجاب میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ پورے ملک میں ہونے والے ہنگاموں میں مالی نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں ایک فیکٹری میں چھ مزدور زندہ جل کر ہلاک ہوگئے۔

اس گارمینٹ فیکٹری کو جمعہ کی صبح نامعلوم افراد نے نذر آتش کردیا تھا۔ مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

لاڑکانہ اور قمبر کے بعد حیدرآباد میں بھی فوج طلب کر لی گئی جبکہ کراچی میں رینجرز تعینات ہیں جہاں پر بنارس کے علاقے میں مشتعل لوگوں پر فائرنگ بھی کی گئی۔ کراچی میں رینجرز کو مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

سندھ کے علاوہ پنجاب کے بھی کئی شہروں میں بینکوں اور سرکاری املاک پر حملوں کی اطلاعت ملی ہیں۔ پنجاب میں سرکاری مسلم لیگ (ق) کے انتخابی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔

اندرون سندھ سات ریلوے اسٹیشنوں کو نذر آتش کر دیا گیا اور کئی ریلوے اسٹشنوں پر کھڑی بوگیوں کو بھی جلا دیا گیا۔

ان واقعات کے بعد کراچی سے ملک کے دوسرے حصوں کے درمیان چلنے والی ٹرینیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ سندھ سے دوسرے شہروں کے درمیان چلنے والی مسافر بسوں بھی بند کر دی گئی ہیں۔ سندھ کے اندر کئی جگہوں پر مسافروں بسوں پر حملے ہوئے جس کے بعد یہ بسیں بند کر دی گئی اور جو مسافر بسیں راستے میں تھیں انہیں بھی کھڑا کر دیا گیا اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک کے اندر چلنے والی پروازیں بھی بند ہیں۔ شہروں میں ہنگاموں کی وجہ سے نقل و حمل معطل رہی۔

ملک کے ہر شہر ہر قصبے میں بڑے سے بڑے کاروباری مراکز سے لے کر چھوٹی چھوٹی دکانیں تک بند رہیں۔ پیٹرول پمپس اور گیس اسٹیشن بھی بند ہیں۔

ہنگاموں کے بعد رینجرز سڑکوں پر

اسلام آباد، راولپنڈی
ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں نے راولپنڈی شہر میں مختلف جہگوں پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ متعدد بینک اور سرکاری عمارتوں کو نظر آتش کردیا گیا جبکہ سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں پر پتھراو بھی کیا گیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور بعض علاقوں میں پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

مظاہرین نے پاکستان مسلم لیگ قاف کے امیدواروں کے بینرز پھاڑ دئیے۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق مظاہرین نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی رہائیش گاہ لال حویلی پر بھی پتھراو کیا۔

بینظیر کی نماز جنازہ
 لاہور میں ایک سو سے زائد مقامات پر جبکہ فیصل آباد میں اکیس مقامات پر نماز جنازہ ہوئی۔

راولپنڈی کے علاقوں کمیٹی چوک، چاندنی چوک اور فیض آباد کے قریب پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی چلتی رہی اور مظاہرین پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر پتھراو بھی کرتے رہے۔

اسلام آباد میں مختلف علاقوں میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور انہوں نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

پنجاب
پنجاب کے مختلف شہروں میں بے نظیر بھٹو کی سینکڑوں جگہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ہیں جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ لاہور سمیت پورا پنجاب دو روز سے ان کے سوگ میں ڈوبا دکھائی دے رہا ہے۔

لاہور میں داتادربار چوک، فیصل آباد میں پہاڑی والا چوک، گوجرانوالہ میں شیرانوالہ باغ اور سرگودھا کی عید گاہ میں بے نظیر بھٹو کی نماز جنازہ کے بڑے اجتماعات ہوئے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف شہروں میں بے نظیر بھٹو کی غائبانہ نماز جنازہ کی اطلاعات ملی ہیں۔ ایک ایک شہر میں کئی مقامات پر نماز جنازہ ہوئی لاہور میں ایک سو سے زائد مقامات پر جبکہ فیصل آباد میں اکیس مقامات پر نماز جنازہ ہوئی۔

نماز جنازہ کے بعد ان ہنگاموں میں شدت آئی جو کل سے پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری ہیں گوجرانوالہ میں نماز جنازہ کے بعد ہزاروں افراد ٹولیوں میں سڑکوں پر توڑ پھوڑ کرتے رہے ہیں۔ بینظیر کی ہلاکت کے بعد سے پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں عملی طورپر کاروبار زندگی معطل ہے، پٹرول پمپ بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، لاری اڈوں پر گاڑیاں نہیں ہیں۔ نوجوانوں کے ڈنڈا بردار ٹولیاں مختلف شہروں کے مختلف حصوں میں پھرتی رہیں۔ جگہ جگہ ٹائر جلائے گئے ٹریفک بلاک کی گئی۔ وقفے وقفے سے فائرنگ بھی ہوئی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ لاہور میں ایک فائر بریگیڈ سٹیشن اور چند دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ مسلم لیگ قاف کے کئی دفاتر کو توڑا پھوڑا گیا۔

گوجرانوالہ میں نادر مارکیٹ کو توڑ پھوڑ کے بعد لوٹ لیا گیا۔ وزیر آباد میں مسلم لیگ قاف کے رہنما حامد ناصر چٹھ کے پتلے جلائے گئے۔

ملتان میں مسلم لیگ نون نے بھی دو مقامات پر جلوس نکالے اور پرتشدد مظاہرے کیے ہیں۔ مسلم لیگ نون نے کچہری چوک میں نیشنل بینک کی عمارت کی توڑ پھوڑ کی ہے اس کے علاوہ قاسم بیلہ میں مسلم لیگ نون نے جلوس نکالا ہے۔

پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں نے ملتان کےگھنٹہ گھرچوک نادر آباد ڈبل پھاٹک میں پتھراؤ کیا جن پر پولیس نےآنسو گیس کی شیلنگ کی ہے۔

فیصل آباد میں پہلی بارگلیوں محلوں میں ویرانی ہے جہاں جہاں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے دفاتر ہیں وہاں ساری رات ٹائر جلائے جاتے اور نعرے بازی کی جاتی رہی۔

سمن آباد ستارہ کالونی میں قاف لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ محلہ اقبال نگر میں پولیس والے گشت کر رہے تھے جن پر حملہ ہوا ہے۔ اس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔

اس کے علاوہ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر چوک کے نزدیک اور ضلعی ناظم کے گھر کےنزدیک پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی ہیں، پتھراؤ ہوا پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد چند درجن افراد کو حراست میں لیاہے۔گزشتہ رات اسی شہر میں بیس مقامات پر دکانیں توڑی گئیں، ساری رات شہر میں ہنگامے جاری رہے، جھنگ روڈ، ستیانہ روڈ اور ملت چوک میں ٹائر جلائے گئے۔ محلے کی دکانیں بھی بند رہی ہیں۔

شیخوپورہ میں ایک بنک، ایک تھانے اور ایک ہسپتال کی عمارت کو نقصان پہنچایاگیا۔ بہاولپور میں جگہ جگہ ٹائر جلائے گئے اور ٹریفک بلاک کی گئی۔

بہاولنگر میں چھ بنکوں کو توڑ پھوڑ دیا گیا۔سیالکوٹ میں بھی بنکوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

سرگودھا میں تین چار ہزار افراد شاہین چوک میں اکٹھے ہوئے اور نعرے بازی کے بعدشہر بھر میں پھیل گئے۔ مسلم لیگ قاف کے ایک یونین ناظم کے دفتر پر پتھراؤ کے علاوہ شہر بھر میں مختلف مقامات پر پتھراؤ ہوا۔

تاندلیانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گجرات، نارروال میں ریلیاں نکالی گئیں۔

ادھر بے نظیر کے ہمراہ ہلاک ہونے والے پیپلز پارٹی کے دو کارکنوں کی لاشیں پنجاب میں ان کے آبائی شہروں میں پہنچی ہیں ایک ظہیر احمد کو لاہور میں اور دوسرے کارکن ذوالفقار علی کو فیصل آباد میں نماز جنازہ کے بڑے اجتماعات کے بعد دفن کیاگیا۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں امن وامان کے لیے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب نے پرامن احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سرحد
سرحد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صوبہ بھر میں اور دور افتادہ جنوبی اضلاع میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک شہر میں کاروبارِ زندگی مکمل طور مفلوج ہوکر رہ گئی۔

ڈیرہ اسماعیل میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں بہت کم لوگوں نے شرکت کی مظاہرین پرویز مشرف اور ق لیگ کے کے خلاف نعرے لگارہے تھے تا ہم ڈیرہ بازار جمعہ کے صبح سے مکمل طور پر بند پڑا ہے۔ اکثر لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ مظاہرے میں کم تعداد میں لوگوں کی شرکت کی وجہ ڈیرہ اسماعیل میں امن امان کا مسلہ ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پچھلے تین سال سے امن امان بہت خراب ہے اور تین خودکش حملوں میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس طرح ٹانک میں بھی ایک اختجاجی مظاہرہ ہوا ہے ٹانک کے مقامی صحافیوں کے مطابق مظاہرے میں کم از کم دو ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے شہر میں کئی مقامات پر آگ لگا دی اور پولیس تھانوں پر پتھراؤ بھی کیا اور ہوائی فائرنگ کی بھی اطلاع ملی ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ادھر بنوں اور لکی مروت سے صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بنوں اور لکی مروت میں زندگی معمول کے مطابق ہے تمام بازار بدستور کھولے ہیں اور امیدوار نے بھی اپنا انتخابی مہم جاری رکھا ہوا ہے۔

بلوچستان
بلوچستان بھر میں جمعہ کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ ڈیرہ اللہ یار اور دیگر قریبی علاقوں میں مشتعل مظاہرین نے ریلوے سٹیشن بینکوں، یوٹیلیٹی سٹورز اور دیگر سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے مابین فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

ڈیرہ اللہ یار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مشتعل مظاہرین نے ریلوے سٹیشن کو آگ لگا دی ہے اور کوئی چار بینکوں میں توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگا دی ہے جبکہ یوٹیلیٹی سٹور سے سامان باہر نکال کر اسے آگ لگا دی ہے۔

ڈیرہ اللہ یاد رہے مقامی صحافی شریف منگی نے بتایا ہے کہ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی ہے اور آنسو گیس کے گولے پھینکے ہیں جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا ان واقعات میں چار پولیس اہلکار اور پانچ مظاہرین معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

صحبت پور سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے تحصیل دفتر کو آگ لگا دی ہے جس سے دفتر میں پڑے سرکاری ریکارڈ کو نقصان پہنچا ہے۔

ڈیرہ مراد جمالی اور دیگر علاقوں میں بھی حالات کشیدہ بتائے گئے ہیں جہاں بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

کوئٹہ شہر میں کارباری مراکز اور دکانیں بند ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی پر تشدد واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ کل رات مشتعل مظاہرین نے پاکستان مسلم لیگ قائد اغظم کے امیدوراوں کے بینرز اور پوسٹرز پھاڑ ڈالے تھے۔

مکران ڈویژن کے شہر گوادر اور تربت سمیت صوبے کے دیگر اضلاع جیسے خضدار سبی ژوب لورالائی قلات وغیرہ میں مکمل ہڑتال کی گئی ہے جہاں کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ قومی شاہراہوں پر بھی گاڑیاں کم ہی نظر آ رہی ہیں۔

کوئٹہ سے ملک کے دیگر علاقوں کو روانہ ہونے والی ریل گاڑیوں کے مسافر گزشتہ رات سبی اور دیگر علاقوں میں اتر کر یا تو واپس کوئٹہ پہنچ گئے ہیں اور یا انھی علاقوں میں اپنے عزیزوں کے ہاں رک گئے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر
کشمیر کے اس علاقے کے دارلحکومت مظفرآباد میں آج دوکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مختلف مقامات پر ٹائر جلاکر اور رکاوٹیں کھڑی کرکے شہر کی اندرونی سڑکوں کے علاوہ شہر کو راولپنڈی اور دوسرے اضلاع سے ملانے والی سڑکیں ٹریفک کے لئے بند کردی گئیں۔ جنوبی ضلع باغ میں دوکانیں بند رہیں اور وہاں سے بھی کسی بڑے نا خوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں۔ البتہ پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں نے دو سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے خلاف بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی نے غیر معینہ مدت کے لئے سوگ منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ کشمیر کے اس علاقے کی حکومت آج سے تین روزہ سوگ منارہی ہے۔

بینظیر بھٹوغم اور غصہ
بےنظیر کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج
بینظیرآخری لمحات
راولپنڈی میں ہلاک ہونے والا دوسرا بھٹو
بے نظیر بھٹو’خوشیاں بھی دکھ بھی‘
پنڈی میں دونوں دیکھے: بینظیر کی آواز
بے نظیر بھٹوایک اور بھٹوقتل
بے نظیر بھٹو 1979 سے 2007 تک
بےنظیر بھٹو: ٹائم لائنبینظیر: ٹائم لائن
جلاوطنی، حکومت، جلاوطنی، قتل
بےنظیر بھٹو خود کش حملے میں ہلاکبےنظیر بھٹو
خود کش حملے میں ہلاک
اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
اسی بارے میں
یہ ٹارگٹ کلنگ ہے: بابر اعوان
27 December, 2007 | پاکستان
سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ
28 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد