عوامی رد عمل یا سوچی سمجھی سازش؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر حملہ اور انہیں زدوکوب کرنے کا واقعہ لوگوں کے صبر کے پیمانے کے لبریز ہونے کا اشارہ ہے یا کوئی سوچی سمجھی سازش؟ لاہور کے اس تازے واقعے نے ہر کسی کو اسی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ صدر پرویز مشرف کا اپنی وزارت کے دوران بڑھ چڑھ کر دفاع کرنے والے ستر سالہ ڈاکٹر شیر افگن نیازی سابق حکومت کے ان وزراء میں شامل تھے جنہیں ان کے حلقے کے لوگوں نے اٹھارہ فروری کو مسترد کر دیا تھا۔ لیکن ان کے مخالفین بظاہر اس سے مطمئن نہیں ہوئے اور ان پر اس طرز سے چھپٹے، ایسا دبوچا کہ الامان الامان۔ یہ واقعہ سندھ میں سابق وزیر اعلی ارباب غلام رحیم پر جوتوں سے وار کے صرف ایک روز بعد پیش آیا ہے۔ ابھی حکمراں پیپلز پارٹی نے اس واقعہ کے بعد پیدا ہوئی مشکل صورتحال سے نمٹنے کی کوشش شروع ہی کی تھی کہ لاہور میں ان کے لیے ایک نیا اِشو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ وکلاء رہنما کی کوششوں کے باوجود وہ ان افراد کو نہیں روک سکے اور اب ان کا کہنا ہے کہ وہ شرمسار ہوئے ہیں۔ جسٹس طارق محمود کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کے بعد وہ کسی کو منہہ دکھانے کے لائق نہیں رہے۔ وہ کہتے ہیں ’انہوں نے ساری دنیا کے سامنے ننگا کیا ہے، ذلیل کیا ہے۔‘ پاکستانی معاشرے میں اہم شخصیات پر حملوں کے واقعات میں گزشتہ ایک برس میں کچھ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ کراچی میں سوموار اور لاہور میں منگل کے واقعات سے قبل گزشتہ برس نومبر میں تحریک انصاف کے سربراہ اور کرکٹ ہیرو عمران خان کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا سب کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ انہیں کئی گھنٹوں محبوس رکھنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ اس واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا گیا تھا۔ قاضی حسین احمد نے تحقیقاتی کمیٹی قائم بھی کی تھی لیکن اس کا اب تک تو نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل اٹھائیس ستمبر کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر چند افراد نے اس وقت کے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم کے ساتھ بدسلو کی تھی اور انہیں مارا گیا تھا۔ لیکن سب سے بڑا بدسلوکی کا واقعہ گزشتہ برس چودہ مارچ کو دنیا نے دیکھا جب پولیس کی جانب سے اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے پیدل جانے سے روکا گیا اور انہیں بالوں سے پکڑا گیا۔ بحالی کے بعد سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی اور انہیں سزائیں دیں جوکہ بعد میں نئی سپریم کورٹ نے معطل کر دی تھیں۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کی کابینہ کے ہی ایک وزیر مملکت برائے مذہبی امور عامر لیاقت حسین اور صوبائی وزیر منصوبہ بندی شعیب بخاری کو سال دو ہزار پانچ میں کراچی میں جامعہ بنوریہ کو مفتی عتیق الرحمان اور مفتی ارشاد کے جنازے میں شرکت پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے اور انہیں زدوکوب کیا گیا۔ ہر کوئی اس حد تک تو متفق دکھائی دیتا ہے کہ تشدد کے یہ واقعات ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں لیکن کس نے یہ تیار کی ہے اس پر ہر کوئی اپنے مخالفین پر انگلیاں تان لیتے ہیں۔ لیکن ایک بات پر شاید سب متفق ہوں کہ یہ سیاسی میدان میں عدم تحمل اور برداشت کے خطرناک اشارے ہیں۔ اس سے سیاسی تلخیاں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||