سابق وزیرشیر افگن کے ساتھ بدسلوکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر قانون و پارلیمانی امورشیرافگن خان نیازی کو وکلاءنے بدسلوکی کانشانہ بنایا ان کے سر پر جوتا مارا گیا،گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور چار گھنٹے تک انہیں ایک کمرے میں محبوس رکھاگیا۔ سابق وزیر کی رہائی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء رہنماؤں کی مداخلت سے عمل میں آ سکی۔اعتزاز احسن نے وکلاء کو پرتشدد کارروائی سے منع کرنے کے لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی دھمکی دی۔ شیرافگن خان نیازی منگل کی سہہ پہر اپنے رشتہ دار وکلاء سے ملنے کے لیے مزنگ روڈ پر ایک لاء چمبر پہنچے تھے اسی دوران چند وکلاء چمبرکے باہر پہنچ گئے اور نعرے بازی کے بعدانہوں نے چمبر کو باہر سے تالا لگا دیا۔ اسی دوران وکلاء کی ایک بڑی تعداد چمبر کے باہر پہنچ گئی،انہوں نے انڈے اور ٹماٹر اٹھا رکھے تھے اور بار بار اعلان کررہے تھے کہ وہ یہ سامان شیر افگن خان نیازی پر برسانے کے لیے لائے ہیں۔ وکلاء نے اس موقع پر صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی وہ نعرے لگا رہے تھے کہ گو مشرف گو،’مک گیا تیرا شو مشرف‘۔ شیرافگن خان نیازی کا شمار سابق کابینہ کے ان اراکین میں ہوتا ہے جو مسلم لیگ قاف سے زیادہ صدر مشرف کے حمایتی تھے اور چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی کے معاملے پر انہوں نے صدر کے موقف کی حمایت اور وکلاء کی مخالفت کی تھی۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور وکلاء کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وکلاء انہیں محفوظ راستہ دینے اور منتشر ہونے پر آمادہ نہ ہوئے۔ مختلف مقامی ٹیلی ویژن چینلز نے ان کے چمبر کے گھیراؤ کے مناظر براہ راست نشر کرنا شروع کردیئے جس سے مقامی لوگوں کی ایک تعداد بھی موقع پر پہنچ گئی۔ ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے مختلف ٹیلی ویژن چینلز سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے دس ساتھی ان کے ایک رشتہ دار کے چیمبر میں محبوس ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وکیل انہیں جان سے مارنے کا اردہ کیے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے کہا کہ ٹی وی چینلز کے ذریعے وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کی جان بچائی جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایوان صدر کو بھی مدد کے لیے پیغام بھجوا چکے ہیں۔ شیرافگن خان نیازی کو محبوس ہوئے جب تین گھنٹے سے زائد وقت گذرگیا تو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال اور ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن لاہور کےصدر منظور قادر ان کی رہائی کے لیے پہنچے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ منتشر ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ شیرافگن خان نیازی تو صرف چار گھنٹے سے محبوس ہیں جبکہ چیف جسٹس افتخار چودھری اور ان اہلخانہ کو پانچ مہینے تک محبوس رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود وہ وکلاء سے اپیل کرتےہیں کہ وہ منتشر ہوجائیں لیکن وکیل منتشر نہیں ہوئے۔اعتزاز احسن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کہا کہ وہ اپنے کیمرے بند کردیں کیونکہ ان کے بقول لائیو کوریج وکلاء کو منتشر نہیں ہونے دے رہی۔
اعتزاز احسن نے وکلاء کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اب ان کی تحریک کامیابی کے نزدیک پہنچ گئی ہے اور یہ حرکت ان کی تحریک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ وکلاء سے خطاب کے بعد اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء رہنما شیرافگن خان نیازی کو لینے دفتر کے اندر چلے گئے۔پولیس نے بازووں کی زنجیر بنائی اور ایک ایمبولینس دفتر کے نزدیک پہنچا دی۔ اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء رہنما شیر افگن خان نیازی کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیکر نکلے تومجمع بے قابو ہوگیا۔ ایک دو وکلاء نے ان کے سر پر جوتا مارنے کی کوشش کی ان کے کپڑے پکڑ کر کھینچا دھکے دیئے۔اسی دھکم پیل میں انہیں ایمبولینس میں ڈالنے کی کوشش کی گئی تو وہ ایمبولینس کے فرش پر گر گئے۔ وکلاء نے ایمبولینس کے شیشے توڑ دیے اور کھڑکی سے ہاتھ ڈال کر انہیں مارنے کی کوشش کی ان کا گریبان پکڑ کر کھینچا، باہر سے وکلاء ان کی ٹانگیں کھینچ رہے تھے البتہ ایمبولینس میں موجود پولیس اہلکار نے انہیں کالر سے پکڑ کر اندرکھینچ لیا اور ایمبولینس کے دروازے کو کنڈی لگا دی۔ وکلاء نے ایمبولینس کے ٹائر پنکچر کردئیے اور اس کا راستہ روک لیا۔ اعتزاز احسن ایمبولینس کی چھٹ پر چڑھ گئے اور انہوں نے کہا کہ وکلاء ان کی بات نہیں مان رہے اس لیے وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اعتزاز احسن کی یہ دھمکی سن کر وکلاء کے اشتعال میں کمی آئی اور ایمبولینس بتدریج وکلاء کے نرغے سےنکل گئی۔ وکلاء رہنماؤں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ وہ وکلاء کے اس رویے پر سخت شرمندہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس رویے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ سابق وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے کہا کہ بیرسٹر اعتزاز احسن کے استعفے کا اعلان ایک ڈرامہ ہے اور آج جو کچھ ہوا وہ ان کے اس رویے کا نتیجہ ہے جس کو اپنا کر وہ وکلاء کو بھڑکاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ارباب غلام رحیم اور آج شیرافگن خان نیازی سے بدسلوکی نئے حکمرانوں کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیر افگن خان نیازی کے دل کی دو بار سرجری ہوچکی ہے اور وہ بیمار تھے لیکن انہیں ایمبولینس میں بھی نہیں چھوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے بعد وہ نہیں سمجھتے کہ حکومت اور اپوزیشن میں مفاہمت اور تعاون کا سلسلہ چل سکے گا۔ | اسی بارے میں ملک بھر میں وکلاء کی پٹائی، حلف نہ لینے والے ججوں کے گھروں پر تالے05 November, 2007 | پاکستان صحافیوں کا احتجاج، وزیر کی پٹائی29 September, 2007 | پاکستان تخریب کاری کا خدشہ ہے: شیرافگن10 May, 2007 | پاکستان شیر افگن کو توہین عدالت کا نوٹس24 August, 2007 | پاکستان حملہ پیپلز پارٹی نے کروایا: ارباب08 April, 2008 | پاکستان ارباب غلام رحیم کے متنازع بیانات08 April, 2008 | پاکستان بھاگیں گے نہیں: ارباب غلام رحیم 05 April, 2008 | پاکستان سابق وزیراعلیٰ سندھ جوتےکانشانہ07 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||