سابق وزیراعلیٰ سندھ جوتےکانشانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی میں پیر کو ہنگامہ آرائی کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کو سپیکر اور شہلا رضا کو ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں پر باضابطہ طور پر کامیاب قرار دے دیا گیا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ صوبائی اسمبلی کی کارروائی جو کہ دس بجے شروع ہونا تھی ڈھائی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں غیر متعلقہ افراد کے اسمبلی کی گیلریوں میں داخلے اور نعرے بازی کی وجہ سے بہت سےکارڈ منسوخ کیے گئے پھر بھی بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکن وہاں موجود رہے ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے لوگوں کو پرسکون رہنے کی تاکید کی مگر وہ خاموش نہیں ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے نامزد سپیکر نثار کھوڑو نے بھی مائیک پر کارکنوں سے خاموش رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ نعرے نہ لگائیں اور ایوان کے تقدس کو برقرار رکھیں مگر اس کے باوجود نعرے لگتے رہے۔
اس دوران سابق وزیراعلٰی ارباب غلام رحیم جیسے ہی پچھلے دروازے سے ایوان میں داخل ہوئے تو پیپلز پارٹی کے کارکن مشتعل ہوگئے ڈپلومیٹ گیلری سے ایک شخص نے ارباب رحیم کو گالی دیتے ہوئے جوتا کھینچ مارا جو ان کو سینے پر جالگا۔ اس دوران ایوان میں شدید شور و غل شروع ہوگیا جس میں سپیکر نے ان سے حلف لیا۔ روایت کے مطابق صوبائی اسمبلی کے نو منتخب ارکان، سپیکر کے ڈائس پر جا کر دستخط کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس ارباب غلام رحیم کی نشست پر رجسٹرلے جا کر ان سے دستخط لیے گئے۔ دستخط کرنے کے فوراً بعد وہ ایوان سے باہر نکل گئے مگر مشتعل لوگوں نے جن میں خواتین بھی شامل تھیں، باہر بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور ایک کارکن نے دوبارہ ان کو جوتا مارا، وہ تیزی سے گاڑی میں سوار ہوئے اور اسمبلی سے باہر نکل گئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے ارباب غلام رحیم کے ساتھ پیش آنے والےواقعہ کی مذمت کی اور اجلاس سے بائیکاٹ کر کے چلے گئے۔ جس کے بعد اجلاس میں دس منٹ کا وقفہ کیا گیا جو ایک گھنٹے تک جاری رہا۔
بعد میں ایم کیو ایم، مسلم لیگ فنکشنل کی غیر موجودگی میں سید مظفر حسین شاہ نے نثار کھوڑو سے اور نثار کھوڑو نے سیدہ شہلا رضا سے حلف لیا۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی انور عالم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ارباب غلام رحیم کے ساتھ جو رویہ اختیا کیا گیا ہے کہ وہ اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس لیے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ اپریل سے یہ رویہ اختیار کیا گیا ہے، جس طرح سے اسمبلی کا تقدس پامال کیا گیا انہوں نے اسے تحمل سے برداشت کیا اور اسمبلی میں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ اپریل کے واقعہ کے بعد متحدہ نے دونوں فریقین سے بات کی اور پیپلز پارٹی سے کہا کہ اس طرح کا رویہ اختیار نہیں ہونا چاہیئے اجلاس سے قبل اسپیکر کے کمرے میں میٹنگ بھی ہوئی تھی۔جس میں یہ طے کیا گیا کہ ایسا کوئی عمل نہیں کیا جائیگا جس سے سندھ اسمبلی کا تقدس پامال ہو۔
انور عالم کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی کسی قسم کا دنگا فساد دیکھنے کے لیے نہیں آئے بلکہ عوام کے کام کے لیے یہاں آئے ہیں مگر یہاں متحدہ کی خواتین اراکین کے ساتھ بھی غلط سلوک اختیار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی منظور وسان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے۔ پیپلز پارٹی ان واقعات کی ہرگز حمایت نہیں کرتی اس سے قبل جب حقیقی کے رکن یونس خان کے ساتھ اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس کی بھی مذمت کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایوان میں جس شخص نے جوتا مارا ہے وہ چار سال تک ارباب رحیم کا ملازم تھا اوران کے ساتھ رہا ہے وہ پیپلز پارٹی کا پرانا کارکن نہیں ہے، | اسی بارے میں سندھ:شور شرابے میں حلف برداری05 April, 2008 | پاکستان بھاگیں گے نہیں: ارباب غلام رحیم 05 April, 2008 | پاکستان پی پی، ایم کیوایم مفاہمت کمیٹی03 April, 2008 | پاکستان سندھ: سپیکر کا انتخاب 7 اپریل کو01 April, 2008 | پاکستان سندھ:’پیپلز پارٹی مفاہمت کی خواہاں‘01 April, 2008 | پاکستان سندھ:اتحاد سے قبل اعتراضات31 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||