سندھ:شور شرابے میں حلف برداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے جیے بھٹو، زندہ ہے بی بی بی زندہ ہے جیسے نعروں کی گونج میں سنیچر کی صبح حلف لے لیا ہے۔ سندھ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس جب ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے ہوا تو شوروغل کی وجہ سے سپیکر مظفر حسین شاہ نے پیپلزپارٹی کے نامزد وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور سپیکر نثار کھوڑو سےگزارش کی کہ وہ کارکنوں کو نعرہ بازی سے روکیں تاکہ ایوان کی کارروائی جاری رکھی جا سکے۔ ان دونوں رہنماؤں نے کارکنوں کو صبرو تحمل کی ہدایت کی مگر جذباتی کارکن کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘، ’گو مشرف گو‘ اور سابق وزیراعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھانے والوں میں پیپلز پارٹی کے نواسی، ایم کیو ایم کے اکیاون اراکین کے علاوہ، مسلم لیگ(ق)، مسلم لیگ(ف) ، اے این پی اور این پی پی کے اراکین شامل تھے۔ سندھ اسمبلی میں کل ایک سو اڑسٹھ نشستیں ہیں تاہم افتتاحی اجلاس میں 158 اراکین نے حلف اٹھایا۔ یاد رہے کہ سندھ اسمبلی کی سات نشستیں ایک رکن کے انتقال، عدالت میں معاملات زیر سماعت ہونے اور اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشست رکھنے کی وجہ سے فی الحال خالی ہیں۔
سپیکر سید مظفر حسین شاہ نے اراکین سے پہلے اردو اور پھر سندھی اور انگریزی میں حلف لیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے اردو، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے اراکین نے سندھی اور اے این پی کے دو اراکین سمیت چار ارکین نے انگریزی میں حلف لیا۔ حلف برادری کے بعد اراکین نے رجسٹر پر دستخط کیے۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما پیر مظہرالحق نے حلف سے قبل بینظیر بھٹو کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گزارش کی جس کی ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری نے بھی تائید کی۔ حلف برداری کے بعد سندھ اسمبلی نے قرارداد کے ذریعے اتفاق رائے سے پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی موت کو عدالتی قتل قرار دیا اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ وفاقی حکومت سے درخواست کرے کہ وہ اس پر عوام سے معافی مانگے۔
ایک دوسری متفقہ قرار داد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائی جائیں اور سندھ کے ضلع نوابشاہ کا نام بینظیر بھٹو سے منسوب کیا جائے۔ اجلاس کے اختتام سے قبل سپیکر سید مظفر حسین شاھ نے سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے انتخاب کا اعلان کیا جس کے لیے سنیچر کی شام تک نامزدگی فارم جاری کیے جائیں گے جو اتوار کی دوپہر بارہ بجے تک وصول ہوں گے جبکہ پیر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا جائےگا۔ اجلاس کے آغاز سے قبل ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد اسمبلی کے اندر داخل ہوگئی جس وجہ سے مہمانوں کی گیلریوں سمیت تمام جگہوں پر رش ہوگیا۔ کارکن خصوصی مہمانوں اور حکام کے لیے سپیکر کے دائیں اور بائیں طرف بنائی گئی گیلریوں میں بھی داخل ہوگئے۔ اجلاس کے دوران سابقہ حکمران جماعت کے خلاف سخت مزاحمت دیکھی گئی، مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر غوث بخش مہر جب مہمانوں کی گیلری میں پہنچے تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ غوث بخش مہر کے بیٹے کیپٹن شہریار پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی منحرف سابق رکن اور مسلم لیگ ق کی رکن اسمبلی نزہت پٹھان بھی جیسے ہی ایوان میں داخل ہوئیں تو ایوان گیلریوں سے نعروں سے گونج اٹھا۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ق کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بغیر حلف اٹھائے واپس چلے گئے۔ ارباب غلام رحیم جب اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوئے تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے انہیں گھیر لیا اور اس دوران کھینچا تانی میں ان کی قمیض بھی پھٹ گئی۔ ارباب غلام رحیم نے سپیکر کے چیمبر میں جانے کی کوشش کی مگر پیپلز پارٹی کے کارکن ان کے سامنے آگئے جس کے بعد وہ حلف لیے بغیر واپس چلے گئے۔کارکنوں نے سندھ اسمبلی کی لابی میں لگی ہوئی سابق وزرائےاعلٰی کی تصاویر میں سے لیاقت جتوئی اور ارباب غلام رحیم کی تصاویر اکھاڑ کر توڑ دیں۔ ارباب غلام رحیم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان پر حملے کی منصوبہ بندی پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کی گئی تھی۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں مفاہمت کا عمل جاری ہے اور وہ بھی افہام و تفہیم چاہتے ہیں مگر اسمبلی میں ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا گیا اور گالیاں دی گئیں۔ | اسی بارے میں ’نصف ارکان کی پہلی اسمبلی‘28 March, 2008 | پاکستان سندھ:اتحاد سے قبل اعتراضات31 March, 2008 | پاکستان سندھ:’پیپلز پارٹی مفاہمت کی خواہاں‘01 April, 2008 | پاکستان سندھ: سپیکر کا انتخاب 7 اپریل کو01 April, 2008 | پاکستان ’معاف بھی کیا اور معافی بھی مانگی‘03 April, 2008 | پاکستان پی پی، ایم کیوایم مفاہمت کمیٹی03 April, 2008 | پاکستان بھٹو کی برسی اور بدلتے سیاسی رنگ04 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||