BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 March, 2008, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ:اتحاد سے قبل اعتراضات

سندھ اسمبلی
نگراں حکومت کو صرف انتخابات منعقد کروانے کا مینڈیٹ تھا:پیر مظہرالحق
پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکومتی باگ دوڑ سنبھالنے کی منتظر پیپلزپارٹی سندھ کے نئے منتخب اراکین نے نگراں حکومت اور گورنر کی جانب سے کئےگئے حالیہ انتظامی اقدامات پر عدم اطمینان اور اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے صوبائی پارلیمانی سربراہ پیر مظہرالحق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نگراں حکومت سندھ کچی آبادی اتھارٹی کو سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کر رہی ہے جو کہ ان کے اختیارات میں نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کو صرف انتخابات منعقد کروانے کا مینڈیٹ تھا اور کوئی انتظامی فیصلہ کرنے کا نہ توانہیں اختیار ہے نہ ہی ان کے فیصلے قبول کیے جائیں گے۔

سندھ کچی آبادی اتھارٹی کو سٹی گورنمنٹ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ پیر کو متعلقہ محکموں کے ایک اجلاس میں کیا جائیگا۔سندھ حکومت کے ذرائع کے مطابق اگر سندھ کچی آبادی اتھارٹی کو سٹی گورنمنٹ کےماتحت کیا گیا تو کراچی سے منسلک دیہات،گاؤں اور گوٹھوں کے ووٹ کا فائدہ بظاہر متحدہ قومی موومنٹ کو حاصل ہوجائیگا۔

کراچی کے مضافات میں ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں قدیمی گوٹھ اور حالیہ برسوں میں بنائی گئی کچی آبادیاں ہیں۔جنہیں ریگولر کرنے کے ساتھ پانی ،بجلی اور گیس کی فراہمی کےمسائل کا سامنا رہا ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کی منتظر حکومت کے اراکین نے گورنر سندھ کی جانب سے جاوید اشرف حسین کو سندھ پبلک سروس کمیشن کا چیئرمن مقرر کرنے کی مخالفت کی ہے۔

پیپلزپارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں گورنر سندھ سے باقاعدہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ جاوید اشرف کی تقرری رد کی جائے بصورت دیگر پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی کی ایک قرارداد کے ذریعے یہ کام سرانجام دیگی۔

 گورنر نے وعدے کے باجود جاوید اشرف کو چارج سنبھالنے کا حکم دیاہے جسے ہم رد کردیں گے اور فضول میں بدمزگی پیدا ہوجائیگی اس سے بہتر ہے وہ خود تقرری رد کردیں
پیر مظہر

پیپلزپارٹی کے اراکین کی جانب سے حلف لینے سے قبل متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ گورنر عشرت العباد سے مطالبات کرنے کے بعد سندھ میں سیاسی فضا کچھ تلخ نہ ہوجائے ؟ اس سوال کے جواب کے لیے جب پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر پیر مظہر الحق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا جواب دو طرفہ تھا۔

پیرمظہر کا کہنا تھا کہ گورنر عشرت العباد اچھے اور شریف آدمی ہیں انہیں نوے کی اسمبلی میں ساتھ کام کرنے کا تجربہ رہا ہے مگر انہوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین مقرر کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے۔

پیر مظہر کے مطابق انہوں نے گورنر سے ملاقات کے دوران انہیں سندھ کے نامزد وزیراعلی سید قائم علی شاہ کا پیغام پہنچایا تھا کہ جاوید اشرف کو سندھ پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین مقرر نہ کیا جائے اور انہیں چارج لینے سے روک لیا جائے تا کہ نئی منتخب حکومت فیصلہ کرے مگر پیر مظہر کے مطابق گورنر نے وعدے کے باجود جاوید اشرف کو چارج سنبھالنے کا حکم دیاہے جسے ہم رد کردیں گے اور فضول میں بدمزگی پیدا ہوجائیگی اس سے بہتر ہے وہ خود تقرری رد کردیں۔

سندھ پبلک سروس کمیشن سرکاری محکموں میں ملازمتوں کے لیے امیدواروں کو امتحانات کے بعد اہل قرار دینے کا ادارہ ہے جس کے ذریعے صوبے بھر میں سینکڑوں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔

پیپلزپارٹی کے اراکین کو خدشہ ہے کہ جاوید اشرف کی معرفت متحدہ قومی مومنٹ اپنے امیدواروں کو اہل قرار دینے اور ملازمتیں دلوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ان خدشات کی بناء پر پیپلزپارٹی نے پارلیمانی پارٹی کےاجلاس میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں گورنر سے جاوید اشرف کی تقرری رد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے مطالبے کے جواب میں گورنر کا موقف معلوم کرنے کے لیے ان کے ترجمان سے گورنر ہاؤس بارہا فون پر رابطہ کیا گیا مگر ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

جاوید اشرف حسین پاکستان کے بنگالی بولنے والے سینئر بیوروکریٹ ہیں جو چیف سیکریٹری سندھ اور سینئر ممبر بورڈ آف روینیو بھی رہ چکے ہیں۔ان کی تقرری متنازعہ رہی ہے جس کی وجہ سے ان کا چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن دو ماہ قبل نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا مگر انہیں چارج لینے سے روک دیا گیا تھا۔گورنر عشرت عباد نے انہیں چارج لینے کا حکم دیا ہے اور انہوں نے چارج لیکر کام کرنا شروع کردیا ہے۔

پاکستان کے دیگر تین صوبوں میں صوبائی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمن کا تقرر وزیراعلٰی کے اختیارات میں ہے مگر صوبہ سندھ میں یہ اختیارات گورنر کے پاس ہیں۔ان اختیارات کی منتقلی کےلیے پیپلزپارٹی کو سندھ اسمبلی میں دوبارہ قانون سازی کی ضرورت پیش آئیگی۔

 اٹھارہ فروری کےانتخابات کے بعد پیپلزپارٹی سندھ کے درجن بھر پارلیمانی اجلاس ہوچکے ہیں۔جن میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومتی باگ دوڑ سنبھالنے کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کی تقرری کو رد کیا جائیگا

پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ کے درمیاں اسلام آباد میں ایک مفاہمت ہوچکی ہے جس کے تحت متحدہ کے اراکین اسمبلی نے پیپلزپارٹی کے وزیراعظم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا تھا۔آصف علی زردرای اور وزیراعظم گیلانی نے الطاف حسین کو لندن فون کر کے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔مگر دونوں جماعتوں کی مفاہمت پر پیپلزپارٹی کی بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

سندھ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس پانچ اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔جبکہ سات اپریل کو سندھ اسمبلی کے دو اجلاس ہونگے۔پہلے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر منتخب ہونگے جبکہ دوسرے اجلاس میں وزیراعلی سندھ کا انتخاب ہوگا۔پیپلزپارٹی سندھ کے نامزد وزیراعلی سید قائم علی شاہ آٹھ اپریل کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

اٹھارہ فروری کےانتخابات کے بعد پیپلزپارٹی سندھ کے درجن بھر پارلیمانی اجلاس ہوچکے ہیں۔جن میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومتی باگ دوڑ سنبھالنے کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کی تقرری کو رد کیا جائیگا۔

بورڈ آف روینیو کے ریکارڈ اور دفتر میں آگ لگنے کے واقعہ کی تحقیقات،کراچی کے قریب زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور نگراں حکومت کے دوران دی گئی ملازمتوں کے بارے میں جانچ کروائی جائیگی۔

آصف زرداریانتخابی جوڑ توڑ
پی پی میں وزیراعلیٰ سندھ کی دوڑ
قاف لیگ کا انتخابی نشان: سائکلقاف لیگ کہاں ہے؟
سندھ کے سیاسی منظرنامے سے قاف غائب
پاکستان میں سکیورٹی (فائل فوٹو)ووٹرز نکلیں گے؟
سکیورٹی کا خوف اور سندھ میں متوقع ٹرن آؤٹ
فائل فوٹودو ہزار سات
سندھ کے لئے تشدد اور آفات کا سال
ارباب غلام رحیمسندھ اسمبلی کے5سال
اسمبلی نے کئی اچھے برے ریکارڈ قائم کیے
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)’ڈیل‘ اور صوبہ سندھ
پیپلز پارٹی کا گڑھ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد