پی پی میں وزیراعلیٰ سندھ کی دوڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کےانتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے لیے اپنے آبائی صوبہ سندھ میں حکومت سازی ایک امتحان بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اتوار کےروز اسلام آباد میں صوبہ سندھ کے نو منتخب اراکین اسمبلی کے ساتھ ایک تعارفی اجلاس کیا۔ پیر کے روز وہ الیکشن ہارنے والے پیپلزپارٹی کے امیدواروں سے ملاقات کریں گے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاسوں میں گو کہ سندھ کےوزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان نہیں کیاگیا اور سندھ میں حکومت سازی کے تمام اختیارات آصف علی زرداری کےحوالے کیے گئے مگر میڈیا میں ان کے ایک قریبی دوست آغا سراج درانی کا نام بطور وزیراعلی آنے کے بعد سندھ میں آصف کی دوست نوازی کے قصے دوبارہ سننے کو مل رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ سندھ میں وزیراعلی کے لیے کسی نام کا اعلان کیاگیا ہے مگر عام لوگ اور پیپلزپارٹی کےورکر ان کی تردید سے زیادہ توجہ آغا سراج درانی کی نامزدگی کی خبر پر دے رہےہیں ۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کو سندھ اسمبلی کی ایک سو تیس میں سے اکہتر نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور وہ سندھ میں ایک مضبوط حکومت بنانے کی طرف جا رہی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ میں تیس سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت متحدہ کے ساتھ شراکت اقتدار کرے گی یا نہیں؟ یہ سوال اہم ضرور ہے مگر پیپلزپارٹی کی اندرونی دنیا میں اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ سندھ کاوزیراعلی کون بنے گا۔ پیپلزپارٹی کےنو منتخب اکہتر اراکین صوبائی اسمبلی میں سے پانچ نام وزیراعلیٰ کی دوڑ میں انیس فروری سے شامل ہوگئے ہیں ۔ جن میں لاڑکانہ سے نثار احمد کھوڑو، خیرپور سے منظور وسان، قمبر شہدادکوٹ سے نادر مگسی، دادو سے پیر مظہرالحق اور شکارپور سے آغا سراج درانی۔ سندھ میں آصف زرداری کی دوست نوازی کی وجہ سے ضلع بدین کے لوگ ان کے ایک اور قریبی دوست ذولفقار مرزا اور دادو سے سابق وزیراعلی عبداللہ شاہ کے صا حبزادے مراد علی شاہ کا نام بھی لے رہے ہیں مگر ان دونوں کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہونگے۔ خیرپور سے منظور وسان کے حمایتی اراکین کا دعوی ہے کہ انہیں بینظیر بھٹو صاحبہ نے پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر صوبائی نشست کےلیے الیکشن لڑنے کو کہا تھا اور یہ ان کو وزیراعلیٰ بنانے کا عندیہ تھا۔ منظور وسان وفاقی جماعت پیپلزپارٹی میں قوم پرست خیالات رکھنے کے حوالے سے مقبول ہیں۔انہیں صوبائی و قومی وزارتیں چلانےکا تجربہ رہا ہے۔ مگر انہیں پیپلزپارٹی کے زیادہ تر اراکین کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے سندھ میں متحدہ سے شراکت اقتدار کی مخالفت کی ہے۔ وہ پیپلزپارٹی کی اندرونی شاہ لابی کے مخالف ہیں۔ وسان کی نامزدگی سے ان کےآبائی ضلع خیرپور کے ایک اور مضبوط اور سینئر رہنماء سید قائم علی شاہ کی ناراضگی فطری ہوگی۔ جس کے زرداری متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ نہ صرف صوبائی صدر ہیں مگر ان کی جماعت کے اندر ایک شہرت یہ بھی ہےکہ وہ ذولفقارعلی بھٹو کے دور سے جماعت کے برے بھلے وقتوں میں ان کے ساتھ رہے ہیں۔ وہ سابق وزیراعلی سندھ بھی رہے ہیں۔ لاڑکانہ سے نثار احمد کھوڑو پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی صدر اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے ہیں۔ انہیں متحرک صوبائی صدر مانا جاتا تھا۔ پیپلزپارٹی سندھ کے اندر انہیں گزشتہ کئی برسوں سے وزیراعلی کا امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد جب وہ لاڑکانہ سے کراچی پہنچے تو ڈیفنس موڑ پر ان کے لیے وزیراعلی نثار کھوڑو کے نعرے بھی بلند ہوئے۔ انہیں صوبائی وزارتیں چلانے کا تجربہ رہا ہے اور وہ کراچی کے سفارتکاروں سے صنعتکاروں کے حلقوں میں ان رہے ہیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ وہ آصف زرداری کو پسند نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کےذرائع کے مطابق انہیں جماعت کی صوبائی صدارت سے زرداری کےکہنے پر چند برس قبل ہٹایا گیا تھا۔ انہیں لاڑکانہ کی ضلعی ناظمی مسلم لیگ قاف کے امیدوار کے ہاتھوں ہارنے کی سزا دی گئئ تھی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نثار احمد کھوڑو کو وزیر اعلی کی دوڑ میں لاڑکانہ کا ڈومیسائل مدد فراہم کریگا۔ خیال کیا جا رہا ہےکہ بینظیر بھٹو کے بعد لاڑکانہ کو یکسر وزیراعظم اور وزیراعلی کے عہدوں سے محروم رکھنا زرداری کےلیے جماعت کے اندر منفی تاثر پیدا کرسکتا ہے۔ الیکشن کے دن زرداری کی ایک اور ناپسندیدہ شخصیت غنوی بھٹو کے ہاتھوں تھپڑ کھانا بھی نثار کھوڑو کی راہ ہموار کر سکتی ہے مگر اختیار پھر بھی زرداری کے پاس ہوگا۔ نثار کھوڑو لاڑکانہ کے روایتی بھٹو مخالف کھوڑو خاندان کے واحد فرد ہیں جو پیپلزپارٹی میں شامل ہیں۔ سابق وزیر اعلی سندھ ایوب کھوڑو کا باقی تمام خاندان پی پی پی مخالف سیاست میں سرگرم رہتا ہے۔ قمبر شہدادکوٹ ضلع جو کہ لاڑکانہ سے ملحقہ بینظیر بھٹو کا آبائی حلقہ رہا ہے وہاں سے کامیاب پیپلزپارٹی کے امیدوار نادر مگسی بھی وزیراعلی دوڑ میں شامل ہیں۔ نادر مگسی صوبائی کابینہ کے رکن رہ چکے ہیں اور ان کا تازہ تعارف آصف زرداری کی قربت ہے۔ بینظیر بھٹو کی تدفین اور سوئم کی رسومات میں نادر مگسی اور ان کے بھائی عامر مگسی اپنے ذاتی محافظوں سمیت انتظامات کرنے میں سب سے آگے تھے۔ بینظیر بھٹو کی تعزیت کےلیے آنے والے نواز شریف کا استقبال موئن جو داڑو ائرپورٹ پر نادر مگسی نےکیا تھا۔ نادر مگسی اپنی وزارت کے دور میں مقامی افراد کو ملازمتیں دینے کی وجہ سے بھی مقبول ہیں۔ ان کے خلاف نیب ریفرنسز میں ایک ریفرنس کراچی واٹر بورڈ میں لاڑکانہ کے نوجوانوں کو ملازمتیں دینا بھی شامل تھا۔ انہوں نے اپنے حلقے شہداد کوٹ کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کروائے تھے کہ شہدادکوٹ کے انجنیئرنگ پاس نوجوان ملازمتوں کےلیے ان سے رجوع کریں۔ نادر مگسی کو بعض لوگ بلوچستانی سمجھتے ہیں اور ان کے بھائی ذولفقار مگسی کا مسلم لیگی پس منظر بھی ان کے تعارف کےساتھ رکھتے ہیں۔ نادر مگسی ممکنہ اتحادی متحدہ کے لیے بھی شاید قابل قبول نہ ہو کیونکہ پیپلزپارٹی کے آخری دور اقتدار میں سندھ اسمبلی عمارت کے احاطے کے اندر ان کی متحدہ کے اراکین کے ساتھ ایک جھڑپ ہوئی تھی جس میں ان کے محافظوں نے ہتھیار تان لیے تھے۔ مگر وہ آصف زرداری کےقریب ہیں اور ان کے پاس بھی لاڑکانہ کا ڈومیسائل ہے۔ شکارپور سے آغا سراج درانی کا سب سے بڑا ایک ہی تعارف ہےکہ وہ آصف علی زرداری کے ہم جماعت رہے ہیں اور وہ ان کے قریبی دوست ہیں۔ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی سے پہلے آغا سراج درانی کو ان کی سکیورٹی کا انچارج آصف زرداری نے مقرر کردیا تھا۔ ان کے آباؤ اجداد کی ایک خوبصورت لائبریری ان کے آبائی گاؤں گڑھی یاسین میں ان کی رہائش گاہ کوٹ درانی کےاندر موجود ہے۔ مگر آغا سراج کو نئے نئے برانڈ کےاسلحے رکھنے کا شوق ہے۔ شکارپور ضلع سے کامیاب پیپلزپارٹی کے دو امیدواروں میں سے وہ ایک ہیں۔ سراج درانی کی نامزدگی زرداری کے لیے دوستی کےحوالے سے اندرونی و بیرونی مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ دادو سے پیر مظہرالحق کا نام پیپلزپارٹی کی سندھ اور پنجاب کی اندرونی لابی کا ثمر ہے۔ وہ پیپلزپارٹی پنجاب کی رہنماء فرزانہ راجہ کے قریبی رشتے دار ہیں۔ سابق وزیر ہیں۔ نیب مقدمات میں جلاوطن رہے۔ ان کی حالیہ کامیابی اٹھارہ فروری کے انتخابات میں سابق وفاقی وزیر و مسلم لیگ قاف کے امیدورا لیاقت جتوئی کو تمام نشستوں پر شکست دینا قرار دیا جا رہا ہے۔ مگر پیپلزپارٹی کے اکثر لوگوں کو وہ سید قائم علی شاہ کی طرح سپیکر اچھے لگتےہیں۔ سندھ کے لیے وزیراعلی کا انتخاب پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کریں گے ۔ ان کا انتخاب ہی ان کی سیاسی دانائی اور دوست نوازی میں فرق واضع کریگا ۔ سندھ کا وزیراعلی جو بھی بنے ان کےلیے صرف وزیراعلی ہاؤس کی آسائشیں ہی نہیں لاتعداد مسائل کا انبار اور متحدہ کا روایتی سیاسی دباؤ منتظر ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||