بھاگیں گے نہیں: ارباب غلام رحیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ ق کے صوبائی صدر ارباب غلام رحیم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان پر حملے کی منصوبہ بندی پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کی گئی تھی۔ ارباب غلام رحیم سنیچر کو سندھ اسمبلی میں رکنیت کا حلف نہیں لے سکے۔ انہیں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ارباب غلام رحیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رش کی وجہ سے وہ راستہ تبدیل کرکے اسمبلی پہنچے تھے، مگر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے انہیں روکا ہتک آمیز سلوک کیا اور گالیاں دیں۔ انہوں نے اس حملے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں اپوزیش کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کسی رکن کو اسمبلی آنے سے روکا۔ بینظیر بھٹو کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی انہوں نے تردید کی اور کہا کہ بینظیر اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں مگر انہوں نے کبھی بھی ان کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال نہیں کیا تھا۔ ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ وہ بھاگیں گے نہیں انہوں نے سندھ کی خدمت اور محنت کی ہے اس کو ضائع کرنے نہیں دیں گے۔ وہ اپوزیشن میں بیٹھیں اور حکومت کے اچھے اقدام کی حمایت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہو ں نے مسلم لیگ ق کی قیادت کو آگاہ کردیا ہے، اس واقعے کو ٹی وی چینلز پر صدر مشرف نے بھی دیکھا ہوگا اگر وہ چاہیں گے تو ان سے ٹیلیفون پر بات کر سکتے ہیں اور گورنر کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
ارباب غلام رحیم نے بتایا کہ وہ دوبارہ حلف لینے کے لیے ایوان میں جانے کی کوشش کریں گے۔ وہ ساتھیوں سے مشورہ کر رہے ہیں کہ اس معاملے سے کیسے نمٹا جائے اور کیا قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مفاہمت کا عمل جاری ہے، وہ بھی افہام وتفہیم چاہتے ہیں ، اپوزیشن کو نشانہ بنانے کی روایت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما پیر مظہر الحق کا کہنا ہے کہ ارباب غلام رحیم کے ساتھ پیش آنے والا کوئی اچھا واقعہ نہیں ہیں، اس سے انہیں بھی سبق سیکھنا چاہیے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیر مظہر الحق نے کہا کہ ایسے کسی واقعے کا خدشہ ضرور تھا اراکین اسمبلی کو تو نظم و ضبط میں رکھنے کے وہ پابند ہیں مگر باہر سے آنے والے لوگوں کو کس طرح روکا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل بھی پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں اکثریت حاصل کرتے رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے کارکن بھی آتے ہیں مگر سپیکر نے گنجائش سے زیادہ پاس کیوں جاری کیے تھے محسوس تو یہ ہی ہوتا ہے کہ انہوں نے خود نگرانی نہیں کی تمام معاملات ماتحت عملے کے حوالے کردیے تھے۔
پیر مظہر الحق کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے بہت ناقص انتظامات تھے سپیکر کو حکام کے ساتھ اجلاس کرنا چاہیے تھا۔ دوسری جانب سپیکر سید مظفر حسین شاہ نے پریس گیلری کے علاوہ تمام مہمانوں کے پاس منسوخ کردیے ہیں اور جماعتوں کو کہا ہے کہ وہ طے کریں کہ کس کو پاس جاری کرنے ہیں۔ | اسی بارے میں ’نصف ارکان کی پہلی اسمبلی‘28 March, 2008 | پاکستان سندھ:اتحاد سے قبل اعتراضات31 March, 2008 | پاکستان سندھ:’پیپلز پارٹی مفاہمت کی خواہاں‘01 April, 2008 | پاکستان سندھ: سپیکر کا انتخاب 7 اپریل کو01 April, 2008 | پاکستان ’معاف بھی کیا اور معافی بھی مانگی‘03 April, 2008 | پاکستان پی پی، ایم کیوایم مفاہمت کمیٹی03 April, 2008 | پاکستان بھٹو کی برسی اور بدلتے سیاسی رنگ04 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||