متحدہ: اسمبلی بائیکاٹ کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں مفاہمت کے لیے جاری مذاکرات میں ایک مرتبہ پھر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کا غیر معینہ مدت تک بائیکاٹ کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ورکرز کنوینشن میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ سندھ اسمبلی میں گزشتہ روز سابق وزیراعلٰی ارباب غلام رحیم کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کے بعد ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں ایک مرتبہ پھر دوریاں پیدا ہوگئی ہیں۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ارباب غلام رحیم سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاری کردہ بیان کے مطابق الطاف حسین نے ارباب غلام رحیم کو بتایا کہ انہوں نے خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کا شاندار استقبال کیا لیکن ایم کیو ایم کی خواتین ارکان کے ساتھ اسمبلی پہنچنے پر بدتمیزی کی گئی جس سے لگتا ہے کہ قومی مفاہمت کے نعرے جھوٹے ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی ٹیم کے رکن بابر غوری سے رابطہ کیا مگر انہوں نے اس معاملے پر بات کرنے سے معذرت کی جبکہ نو منتخب سپیکر نثار کھوڑو نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے رابطہ کر کے ان سے مداخلت کی اپیل کی مگر تعطل ختم کرانے کی یہ کوشش کارگر ثابت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ’متحدہ کے رکن اسمبلی عادل صدیقی نے ایوان میں کہا کہ ارباب غلام رحیم کے ساتھ اسمبلی کے باہر جو واقعہ پیش آیا ہے اس پر بائیکاٹ کر کے جا رہے ہیں مگر ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ اسمبلی کے باہر کیا ہوا۔ اس کی ذمہ دار نگران حکومت ہے۔‘ متحدہ قومی موومنٹ کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن بابر غوری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے مگر انہوں نے انہیں بتایا ہے کہ کارکنوں اور عوام میں اشتعال ہے، ورکرز کنونشن میں مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا اور جب تک اجلاس منعقد نہیں ہوتا اجلاس کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آخر کب تک ایم کیو ایم کی طرف سے ون وے ٹریفک چلتا رہے گا۔ اس میں دوسروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیئے تھا۔ ہم نے قومی مفاہمت پاکستان کی مضبوطی اور سندھ کی خوشحالی کے لیے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا اور اپنے امیدوار تک کھڑے نہیں کیے تھے۔‘ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو گئے تھے، جہاں ان کی ٹیلیفون پر متحدہ کے سربراہ الطاف حسین سے بات چیت ہوئی تھی اور دونوں نے صوبے کی خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس ملاقات کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کا ایک وفد چار اپریل کو گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی میں بھی شریک ہوا تھا۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے مزید پیش رفت کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جن کے اجلاس ابھی جاری تھے کہ اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات سے مذاکرات کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ | اسی بارے میں سابق وزیراعلیٰ سندھ جوتےکانشانہ07 April, 2008 | پاکستان پی پی، ایم کیوایم مفاہمت کمیٹی03 April, 2008 | پاکستان قائم علی شاہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ07 April, 2008 | پاکستان سپیکر،ڈپٹی سپیکر بلامقابلہ منتخب06 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||