سپیکر،ڈپٹی سپیکر بلامقابلہ منتخب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اتوار کو بلا مقابلہ منتخب قرار دیے گئے ہیں اور پیر کو ایوان کے اجلاس میں نومنتخب سپیکر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اتوار کی شام اسمبلی کی عمارت میں سپیکر مظفر حسین شاہ نے کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اعلان کیا کہ اسپیکر کے لیے نثار احمد کھوڑو اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے سیدہ شہلا رضا کے کاغذات درست ہیں اور چونکہ ان کے مقابلے میں کوئی اور کاغذاتِ نامزدگی موصول نہیں ہوئے ہیں لہذٰا دونوں کو بلامقابلہ منتخب قرار دیا جاتا ہے۔ سندھ اسمبلی کے نومنتخب اسپیکر نثار احمد کھوڑو اسمبلی کے چودھویں اسپیکر ہیں ان سے پہلے سید مظفر حسین شاہ سپیکر تھے جبکہ شہلا رضا کو سندھ اسمبلی کی پندرھویں ڈپٹی اسپیکر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے صرف پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے نامزدگی فارم حاصل کیے تھے۔ جب کہ مسلم لیگ ق، مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی نے فارم حاصل نہیں کیے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد سنیچر کی رات ایم کیو ایم نے دونوں نشستوں پر امیدوار نہ کھڑے کرنے کا اعلان کیا تھا اور غیر مشروط طور پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کر دی ہے۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان حکومت سازی کے حوالے سے مذاکرات کہاں تک پہنچے یا حکومت سازی کا کوئی فارمولا طے پایا اس بارے میں دونوں اطراف کے رہنماء کچھ بھی بتانے سے گریز کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ صوبے کی دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اشتراکِ عمل صوبے اور یہاں کے عوام کے مفاد میں کیا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی رہنماء فیصل سبزواری نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے نزدیک حکومت سازی کا معاملہ ثانوی حیثیت کا حامل ہے جبکہ بنیادی بات دیہی اور شہری سندھ میں خلیج کو پاٹنا ہے۔ ان کے بقول پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سندھ کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کے عوام کی خواہشات کو سامنے رکھ کر دونوں جماعتیں بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے مفاد کی خاطر اشتراکِ عمل جاری رکھیں اور اسی سمت میں کام ہورہا ہے۔ دوسری جانب پپلزپارٹی کی جانب سے نامزد وزیرِاعلٰی سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ پپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور سندھ کی عوام کے مفاد کے لیے اگر دونوں جماعتیں یکجا ہوکر کام کریں تو اس سے صوبے اور صوبے کے عوام کو فائدہ ہوگا۔ اس فیصلے سے قبل پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس گزشتہ شب منعقد ہوا تھا، جس میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ مذاکرات ابتدائی مراحل میں ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت سازی کے حوالے سے ایم کیو ایم کو کابینہ میں پچیس فیصد شراکت کی پیشکش کی گئی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ ابتدائی طور پر کابینہ بارہ سے سولہ ارکان پر مشتمل ہوگی۔ تاہم ذرائع نے بتایا کہ محکموں کے بارے میں اب تک اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پیپلز پارٹی کے دونوں امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جماعت کے صوبائی صدر شاہی سید کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈپٹی سپیکر کے لیے ایم کیو ایم کا راستے روکنے کے فارم حاصل کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں محسوس ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو ڈپٹی سپیکر کا عہدہ دے رہی ہے، اس لیے پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ڈپٹی سپیکر بلا مقابلہ نہیں آنا چاہیے اس لیے انتخاب لڑنا چاہیے۔ اب اگر پیپلز پارٹی ہی ڈپٹی سپیکر کا امیدوار لا رہی ہے تو امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوں گے مگر متحدہ کو یہ سعادت نصیب ہونے نہیں دیں گے۔ | اسی بارے میں سندھ: سپیکر اور ڈپٹی بلا مقابلہ 05 April, 2008 | پاکستان سندھ:شور شرابے میں حلف برداری05 April, 2008 | پاکستان بھاگیں گے نہیں: ارباب غلام رحیم 05 April, 2008 | پاکستان ’نصف ارکان کی پہلی اسمبلی‘28 March, 2008 | پاکستان سندھ:’پیپلز پارٹی مفاہمت کی خواہاں‘01 April, 2008 | پاکستان سندھ: سپیکر کا انتخاب 7 اپریل کو01 April, 2008 | پاکستان ’معاف بھی کیا اور معافی بھی مانگی‘03 April, 2008 | پاکستان پی پی، ایم کیوایم مفاہمت کمیٹی03 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||