BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: سپیکر اور ڈپٹی بلا مقابلہ

سندھ اسمبلی
سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے کاغذات نامزدگی اتوار کی دوپہر جمع کرائے جائیں گے
سندھ اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا واضح امکان پیدا ہوگیاہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے دونوں عہدوں کے لیے غیر مشروط طور پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ عوامی نینشل پارٹی نے بھی پیپلز پارٹی کے امیدواوں کی حمایت کردی ہے۔


سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے صرف پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے نامزدگی فارم حاصل کیے تھے۔ جب کہ مسلم لیگ ق، مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی نے فارم حاصل نہیں کیے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایم کیو ایم نے بھی دونوں عہدوں پر امیدوار نہ کھڑے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری کا کہنا تھا کہ عہدوں کی خاطر قومی مفاہمت میں رخنہ نہیں پڑنا چاہیے۔

ایم کیو ایم سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے امیدوار نامزد نہیں کرے گی بلکہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ابھی تک غیر مشروط حمایت کر رہی ہے، کابینہ یا حکومت سازی کے حوالے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

کس کس نے فارم حاصل کیے تھے
 سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے صرف پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے نامزدگی فارم حاصل کیے تھے۔ جب کہ مسلم لیگ ق، مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی نے فارم حاصل نہیں کیے

اس فیصلے سے قبل پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس گزشتہ شب منعقد ہوا تھا، جس میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ مذاکرات ابتدائی مراحل میں ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پیپلز پارٹی کے دونوں امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جماعت کے صوبائی صدر شاہی سید کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈپٹی سپیکر کے لیے ایم کیو ایم کا راستے روکنے کے فارم حاصل کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں محسوس ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو ڈپٹی سپیکر کا عہدہ دے رہی ہے، اس لیے پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ڈپٹی سپیکر بلا مقابلہ نہیں آنا چاہیے اس لیے انتخاب لڑنا چاہیے۔ اب اگر پیپلز پارٹی ہی ڈپٹی سپیکر کا امیدوار لا رہی ہے تو امیدوار بلا مقابلے کامیاب ہوں گے مگر متحدہ کو یہ سعادت نصیب ہونے نہیں دیں گے۔

پیپلزپارٹی نے نثار کھوڑو کو سپیکر کے لیے نامزد کیا ہے جبکہ ڈپٹی سپیکر کے لیے اب تک کوئی نامزدگی سامنے نہیں آسکی ہے۔ اتوار کو دوپہر بارہ بجے دو عہدوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے اور شام کو حتمی امیدواروں کا اعلان کر دیا جائے گا اور پیر کو انتخاب ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد