BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن : بی اے ڈگری کی شرط ختم

فیصلے کے مطابق بی اے کی شرط آئین کی شق سترہ اور پچیس سے متصادم ہے
سپریم کورٹ کی لارجر بنچ نے انتخابات لڑنے کے لیےگریجویشن کی شرط ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق جون میں ہونے والے ضمنی انتخابات پر بھی ہوگا۔

یہ فیصلہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیےگریجویشن کی شرط کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے پر سنایا گیا۔

پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ بی اے کی شرط کا قانون آئین کی دفعہ سترہ اور پچیس سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ان شقوں میں اسمبلی اور بنیادی انسانی حقوق کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس طرح عدالت نے عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ انیس سو چھہتر میں کی جانے والی ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ سنہ ہزار دو کے عام انتحابات سے پہلے پاکستان مسلم لیگ قاف نے گریجویشن کی شرط کے خلاف سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر کی تھی اُس کو اُس وقت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے عوامی نمائندگی ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم کو جائز قرار دیتے ہوئے بی اے کی شرط کو برقرار رکھا تھا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ بنچ کے جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ اگر اس شرط کو حکومت خود ختم کرنا چاہتی ہے تو وہ کر سکتی ہے اور اس میں کوئی ایسی رکاوٹ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے کہا کہ یہ قانون فرد واحد کا بنایا گیا قانون ہے اور سپریم کورٹ کو یہ حق ہے کہ وہ اس اقدام کو ماورائے آئین قرار دے کر اس کو ختم کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی ہوتی ہے اور اگر یہ شرط لازمی ہے تو ہر شخص کو لاءگریجویٹ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون جمہوریت کی نفی ہے اور پولیٹیکل جسٹس کے خلاف ہے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس شرط سے ملک میں ایک طبقہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں قانون ہے کہ ممبر قانون ساز اسمبلی کو میٹرک ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ووٹروں پر چھوڑ دینا چاہیے کہ کون گریجویٹ ہے اور کون نہیں۔یہ قانون حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور نہ ہی اسلام کے قوانین سے مطابقت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں بی اے کی ڈگری کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ گوہر ایوب جو کہ قومی اسمبلی میں سپیکر رہے ہیں وہ گریجویٹ نہ ہونے کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔

News image
یہ قانون فرد واحد کا بنایا گیا قانون ہے اور سپریم کورٹ کو یہ حق ہے کہ وہ اس اقدام کو ماورائے آئین قرار دے کر اس کو ختم کر سکتی ہے۔
ملک قیوم

اس سے قبل فیڈریشن کی طرف سے دلائل دیتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ نیاز راٹھور نے کہا کہ یہ ایک غلط قانون ہے جس کو ختم ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو لاء سیکریٹری کی طرف سے احکامات ملے ہیں کہ ایسا قانون ہونا چاہیے جو کہ معاشرے کے تمام طبقوں کو قابل قبول ہو۔

اس قانون کے حق میں ریسپونڈنٹ کے وکیل اسلم خاکی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسی شرط کے تحت دو ہزار دو اور آٹھ کے انتخابات ہوئے ہیں اور جن قوانین کو آئینی تحفظ ملا ہو انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اگر اس کو تبدیل کرنا ہے تو پھر صدر کے تین نومبر کے اقدامات کو بھی تبدیل کریں جن کو سپریم کورٹ نے درست قرار دیا ہے۔ اسلم خاکی نے کہا کہ اس سماعت سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اٹارنی جنرل قانون کے تحفظ کی بجائے درخواست گزار کی حمایت کر رہے ہیں۔

اسلم خاقی نے کہا کہ اگر یہ درخواستیں منظور ہو جاتی ہیں تو یہ اسمبلیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور سپریم کورٹ یا کوئی اور عدالت اس کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر کے تین نومبر کے اقدامات آئین کا حصہ نہیں ہیں اور پارلیمنٹ اس کو ایک سادہ اکثریت سے مسترد کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے صدر کے تین نومبر کے اقدامات کو درست قرار دیا ہے لیکن ان اقدامات کو آئین کا حصہ بنانے کی بات نہیں کی گئی۔

اسلم خاکی نے کہا کہ ووٹ ڈالنا ہر شخص کا حق ہے جبکہ عوام کی نمائندگی ایک اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں ترمیم کرنے کی مجاز نہیں ہے۔

اس سے قبل درخواست گزار کے وکیل کامران مرتضیٰ قانون کی نظر میں سب لوگ برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف پچیس لاکھ افرد گریجویٹ ہیں اور ان کی زیادہ تعداد شہری علاقوں میں ہیں اور ان پچیس لاکھ میں سے بھی بہت سے افراد ایسے ہیں جو انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہتے اور اس شرط پر صحیح طور پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار دو کی گریجویٹ اسمبلی نے صرف پچاس بل پاس کیے جبکہ نواز شریف کی دوسری حکومت میں اسمپلی نے ڈھائی سال میں چوہتر بل پاس کیے۔

اسی بارے میں
مسلم لیگ (ق) کا رکن نا اہل
28 April, 2006 | پاکستان
انتخاب لڑنے کی مشروط اجازت
12 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد