’بی اے کی شرط امتیازی قانون ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بی اے کی شرط ایک امتیازی قانون ہے جس سے ملک کی آبادی کے ستانونے فیصد افراد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بی اے کی شرط کے خلاف دائر درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم سمیت دنیا کی مشہور شخصیات گاندھی اور دوسری عالمی جنگ میں شہرت پانے والے چرچل کے پاس بھی بی اے کی ڈگری نہیں تھی۔ پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ یہ درخواستیں فیصل آباد اور رحیم یار خان کے رہائشی محمد ناصر اور شمیر احمد نے دائر کی ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک بھر کی سولہ کروڑ کی آبادی میں سے چھ کروڑ اکیاسی لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں سے پچیس لاکھ انتالیس ہزار پانچ سو اڑتالیس افراد بی اے پاس ہیں۔ اس طرح یہ ملک کی مجموعی آبادی کا ایک اعشاریہ چار فیصد جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کا تین عشاریہ دو فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں دو لاکھ چونتیس ہزار تیس افراد بی اے پاس ہیں، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دس ہزار ایک سو چوہتر، صوبہ پنجاب میں بارہ لاکھ اٹھارہ ہزار ایک سو پندرہ، سندھ میں آٹھ لاکھ ستاسی ہزار ایک سو تراسی، بلوچستان میں آٹھاون ہزار، اسلام آباد میں تہتر ہزار نو سو سینتیس اور کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں بارہ ہزار ایک سو آٹھ افراد کے پاس بی اے کی ڈگری ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بی اے کی شرط معاشرے میں ایک خاص طبقہ پیدا کرنے کے لیے متعارف کروائی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل کامران مرتضی نے ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ میں امیدوار کی اہلیت کے بارے میں جو آٹھ شرائط دی گئی ہیں ان میں بی اے کی ڈگری کی شرط شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں یہ شرط صرف ایک مرتبہ کے لیے عائد کی گئی تھی اس پر بینچ میں شامل جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بی اے کی شرط پارلیمنٹ کی طرف سے عائد نہیں کی گئی تاہم یہ شرط چیف ایگزیکٹو کے احکامات پر عائد ہوئی تھی اور ان اقدامات کو آئین کی دفعہ دو سو ستر ڈبل اے کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ اگر ان کے دلائل تسلیم کر بھی لیے جائیں تو اس سے خواتین کی نشتیں بھی ختم ہوجائیں گی جو چیف ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ہی عمل میں لائی گئی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انتخابات میں بی اے کی شرط ملک کے آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی شق سترہ اور پچیس کی خلاف ورزی ہے۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر اسلم خاکی نے عدالت میں ایک درخواست دی ہے جس میں عام انتخابات کے لیے اُمیدواروں کے بی اے پاس ہونے کی شرط کو قائم رکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ وہ اپنی نمائندگی ان افراد کے ہاتھوں میں نہیں دینا چاہتے جو تعلیم یافتہ نہ ہوں۔ بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس درخواست کو سماعت کی جانے والی درخواستوں کے ساتھ شامل کر لیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے جس پر ملک قیوم اور درخواست گزاروں کے وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں اور اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اگلی سماعت تک اپنے دلائل مکمل کرلیں۔ ان درخواستوں پر فیصلہ آئندہ سماعت پر متوقع ہے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت اکیس اپریل تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ کا جو بینچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے اور میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس موسی کے لغاری، جسٹس اعجاز یوسف، جسٹس سخی حسین بخاری اور جسٹس زوار حسین جعفری شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||