ریچھ اور کتا کیس کی تحقیقات کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے خیرپور کے سیشن جج کی طرف سے پولیس لاک اپ میں ملزمان کو ریچھ اور کتا بن کر لڑنے پر مجبور کرنے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز اس معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا اور کراچی میں جسٹس بھگوان داس اور جسٹس نواز عباسی نے بدھ کو اس مقدمے کی سماعت کی۔ خیرپور پولیس نے انجنیئر غلام مرتضیٰ، علی گوہر، علی احمد، سوبھو خان، پیرانو راجڑ، منظور حسین اور میر حسن کو عدالت میں پیش کیا ۔ گرفتار ملزمان میں سے انجنیئر غلام مرتضیٰ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ موٹر سائیکل چھیننے کے مقدمے میں کوئی صداقت نہیں ہے، دراصل ان کے پڑوسی محمد علی شاہ کی بارہ سالہ بیٹی وست شاہ گھر سے نکل گئی تھی، جو بعد میں قتل کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے حوالے سے ان پر کارو کاری کا الزام عائد کردیا گیا اور پولیس کو انتقامی کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا۔ غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کے بعد برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد انہیں کتا اور ریچھ بن کر آپس میں لڑنے کے لیے کہا۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق اس دوران پولیس افسر موجود تھے۔ جسٹس بھگوان داس نے اس موقع پر ڈی پی او خیرپور دین محمد بلوچ کو مخاطب کر کے کہا کہ ’خدا کا خوف کریں، کیا پولیس والوں کو خدا کے پاس جوابدہ نہیں ہونا جو انسانوں پر اتنا وحشیانہ تشدد کرتے ہیں۔‘ عدالت نے سیشن جج خیرپور کو اس معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ سات اگست کو مقامی میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ کوٹ ڈیجی کےعلاقے نارا میں پولیس نے سات افراد کی لاک اپ میں کتے اور ریچھ کی طرح لڑائی کرائی تھی۔ خیرپور ضلعی پولیس کے تفتشی سربراہ پیر محمد شاہ نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو تین بار ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس پیش کیا گیا تھا مگر غلام مرتضیٰ نے کبھی بھی اس طرح کی شکایت نہیں کی تھی۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے اسلحہ بھی بر آمد ہوا تھا اور انہوں نے خود کو بچانے کے لیے یہ الزام عائد کیا ہے۔ ڈی پی او کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزمان نے لڑکی کے گھر چھوڑنے کی کہانی گھڑی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے سیشن کورٹ خیرپور میں پولیس کے خلاف اس معاملے کی ایف آئی آر دائر کرانے کی کوشش کی تھی مگر ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے بدھ کو کراچی میں ٹریفک جام ہونے کی شکایت کی بھی سماعت کی اور شہر میں ٹریفک کے نظام میں بہتری کے لیے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ جسٹس نواز عباسی کی عدالت میں ڈی آئی جی ٹریفک واجد درانی پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی جگہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور شہری حکومت کے ادارے تعاون نہیں کرتے اس لیے ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ عدالت نے سماعت سترہ اگست تک ملتوی کرتے ہوئے اس روز ڈی آئی جی ٹریفک کے ساتھ، سٹی ناظم کراچی اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو طلب کرلیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||