پرس میں پستول، پولیس میں کھلبلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ایک خاتون کے پرس سے ایک پستول کی برآمدگی نے سکیورٹی اہلکاروں میں ہل چل مچا دی کیونہ اس تقریب میں وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ یہ معاملہ ایک سنگین صورتحال اختیار کر گیا لیکن اس یقین کے بعد کہ برآمد ہونے والا پستول خاتون نے محض اپنی حفاظت کے لیے رکھا ہوا تھا سکیورٹی پر مامور افراد کو تسلی ہوگئی اور خاتون کی بھی گھر جانے کی اجازت مل گئی۔ ساٹھ سالہ خاتون تحسین گل آغا، جن سے پستول برآمد ہوئی، مری کی رہائشی ہیں اور اپنے ستر سالہ بزنس مین شوہرآغا غضنفر علی کے ہمراہ سینٹرل بورڈ آف ریونیو (سی بی آر) کے چیئرمین عبداللہ یوسف کے صاحبزادے کی شادی کی تقریب میں دلہن کی طرف سے مدعوتھیں۔ اس تقریب میں دیگر اہم شخصیات کے علاوہ وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور حکمران جماعت کے نامزد وزیر اعظم شوکت عزیز بھی شریک تھے۔ تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد سے جس تقریب میں ملک کے اہم شخصیات کی موجود ہوں وہاں ہر مہمان کی خصوصی تلاشی لی جاتی ہے۔ یہ ادھیڑ عمر جوڑا سنیچر کی شب شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچا تو استقبالیہ پر ہی خفیہ پولیس (سپیشل برانچ) کے اہلکاروں نے ان کی تلاشی لی ،خاتون کے پرس سے پچیس بور کا ایک ننھا سا پستول برآمد ہوگیا۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں میں کھلبلی مچ گئی خاتون اور ان کے شوہر کو حراست میں لے لیا گیا اور کڑی نگرانی میں اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ لے جایا گیا۔ ان سے دو گھنٹے تفتیش کی گئی تھانہ کے محرر شیر محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں میاں بیوی کو رات دس بجے تھانے لایا گیا تھا خاتون نے پستول کا لائنسنس دکھایا ان کے شوہر نے پولیس کو بتایا کہ چونکہ انہیں رات کو مری سے آنا تھا اس لیے انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے پستول رکھا ہوا تھا۔ دلہن والوں کو بلایا گیا انہوں نے پولیس کو یقین دلایا کہ کہ اس ساٹھ سالہ خاتون کا کسی شدت پسند گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے جس پر رات بارہ بجے انہیں گھر جانے کی اجازت مل پائی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||