وہاڑی: سات پولیس اہلکار معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہاڑی پولیس کے اّن سات اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک قیدی کو خاموش کرانے کے لیے اس کے ہونٹ سوئی دھاگے کی مدد سے سی دیے تھے۔ معطل ہونے والے پولیس اہلکاروں کے نام سب انسپکٹر یونس عمر، سب انسپکٹر محمد نواز ، ہیڈ کانسٹیبل محمد بخش، کانسٹیبل منور، جہانگیر، رستم علی اور ذاکر حسین ہیں۔ ڈی آئی جی ملتان پولیس ملک محمد اقبال نے گزشتہ روز اے ڈی آئی جی کو تین روز تحقیقات میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اے ڈی آئی جی نے سنیچر کے روز ملتان سنٹرل جیل جا کر قیدی محمد حسین کا بیان ریکارڈ کیا اور جیل کے ہسپتال کے عملہ سے ان کے زخموں کے بارے معلومات اکٹھی کیں۔ تحقیقاتی افسر کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں ڈی آئی جی ملک اقبال نے سات پولیس اہلکاروں کی فوری طور پر معطلی کا حکم جاری کردیا ہے۔ محمد حسین ملتان کی سنٹرل جیل میں اغوا کے ایک مقدمے کا ملزم ہونے کی وجہ سے قید ہیں۔ گزشتہ بدھ کو وہاڑی پولیس انہیں عدالت میں پیش کرنے کے لیے ملتان سنٹرل جیل سے لے گئی جہاں ان کا جھگڑا ایک دوسرے قیدی عمران سے ہوا۔ اسی مسئلے پر ان کی تکرار جوڈیشل حوالات کی نگرانی پر مامور عملے سے بھی ہوئی جس پر محمد حسین نے مبینہ طور پر پولیس کو برا بھلا کہا اور اسی پر مشتعل ہو کر پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کے ہونٹ سی دیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||