سرگودھا جیل ہنگامہ: ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرگودھا کی جیل میں مشتعل قیدیوں نے جیل عملے کے نو اراکین کو نوگھنٹے تک یرغمال بنائے رکھنے کےبعد چھوڑ دیا لیکن اس دوران جیل پولیس سے ہونے والے تصادم میں ایک قیدی ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ان کے علاوہ ایک جیل کارکن بھی زخمیوں میں شامل ہے۔ یہ ہنگامہ جمعہ کی دوپہر شروع ہوا جب نماز جمعہ کے موقع پر چند قیدیوں نے جیل عملے کی مبینہ بدسلوکی اور پینے کے لیے گرم پانی دینے پراحتجاج شروع کیا۔ چند قیدیوں نے جیل کی جامع مسجد پر قبضہ کر لیا مائیک سنبھال کر باقی قیدیوں سے اکٹھا ہونے کی اپیل کی۔ ڈی آئی جی جیل خانہ جات ناصر وڑائچ نے بتایا ہےکہ قیدیوں نے دو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل کے نو اراکین کو یرغمال بنا لیا۔ اطلاعات کے مطابق قیدیوں نے مسجد کے نزدیک ایک بیرک کی چھت پر اینٹوں کا ڈھیر لگا کر مورچہ لگا لیا جہاں سے جیل کے عملے اور جیل پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ جیل پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیل پھینکے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قیدیوں پر فائرنگ بھی کی گئی۔ اس ہنگامہ آرائی میں آٹھ سو سے لیکر ایک ہزار تک قیدی شامل تھے۔ جیل حکام کے مطابق قیدیوں نے مرکزی دروازہ توڑنے کی بھی کوشش کی اور ایک وقت میں اسی سے لیکر ڈیڑھ سو کے قریب افراد نے جیل کے دروازے پر ہلہ بول دیا اور جیل پولیس انہیں ناکام بنانے اور منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل چلاتی رہی۔ جیل پولیس نے فائرنگ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ایک قیدی چھرا لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔ ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ جیل کے ڈاکٹر باغی قیدیوں کو سمجھاتے رہےکہ وہ زخمی کو ہسپتال جانے دیں لیکن قیدیوں نے پرواہ نہیں کی اور نتیجے کے طور پر زخمی کا بہت زیادہ خون ضائع ہوگیااور وہ دم توڑ گیا۔ اس ہنگامے میں ایک جیل ملازم اور نو قیدی زخمی ہوئے۔ سول ہسپتال سرگودھا کے ایک ملازم فرید نے بتایا کہ نو زخمی قیدیوں میں سے چار کو گولی لگنے سے زخم آئے ہیں۔ باقی پتھراؤ سے زخمی ہوئے ہیں۔ شام کو جیل حکام نے قیدیوں سے مذاکرات شروع کیے اور رات گئے انہیں بیرکوں میں واپس بھجوانے میں کامیاب ہوگئے یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کرالیا گیا۔ جیل حکام کا کہنا ہےکہ ہنگامہ آرائی کرنے پر باغی قیدیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے۔ مقدمہ میں ان چار سرغنہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو اس ہنگامہ کی قیادت کرتے رہے۔ دو سال پہلے پنجاب کے ایک دوسرے شہر سیالکوٹ میں بھی اس سے ملتا جلتا واقعہ پیش آیا تھا جب سیالکوٹ جیل کے قیدیوں نے چند ججوں کو یرغمال بنا لیا تھا اس موقع پر پولیس نے جیل میں داخل ہوکر بے دریغ فائرنگ کی تھی قیدیوں سےاس فائرنگ کے تبادلے میں چار جج اور پانچ قیدی ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||