BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 April, 2008, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنڈی کا حلقہ خصوصی اہمیت کا حامل

پنڈی الیکشن
راولپنڈی اور اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔
اٹھارہ جون کے مجوزہ ضمنی انتخابات میں راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقہ 55 سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زردای کی جانب سے انتخاب لڑنے کی خواہش کے بعد یہ حلقہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے مخدوم جاوید ہاشمی 76980 ووٹ حاصل کرکے کامیاب امیدوار قرار پائے۔ لیکن وہ ایک ہی وقت میں ملتان، لاہور اور راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی تین نشستوں سے کامیاب ہوئے اس لیے انہیں لاہور اور راولپنڈی کے حلقے خالی کرنے پڑے۔

راولپنڈی سے مسلسل پانچ بار انتخاب جیتنے والے شیخ رشید احمد کو ناقابل یقین حد تک شکست ملی اور اٹھارہ فروری کے انتخاب میں انہیں پندرہ ہزار سات سو اسی ووٹ ملے۔ جاوید ہاشمی کے بعد دوسرے نمبر پر اس حلقے سےووٹ حاصل کرنے والے پیپلز پارٹی کے ملک عامر فدا پراچہ رہے جنہیں سینتیس ہزار تین سو ستانوے ووٹ ملے۔

زرداری کے لیے نواز کی نشست
آصف علی زرداری نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں اشارہ دیا ہے کہ لاڑکانہ سے بینظیر بھٹو کی آبائی نشست سے وہ اپنی بہن فریال تالپور کو نامزد کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ خود راولپنڈی کے حلقہ پچپن سے انتخاب میں حصہ لیں، کیونکہ ان کے بقول میاں نواز شریف نے یہ سیٹ انہیں دے دی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد بینظیر بھٹو کو ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ میں جلسہ عام سے واپس جاتے ہوئے قتل کیا گیا اور ان کے قتل کی جگہ بھی اِسی حلقہ میں آتی ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد بیشتر مبصرین کی رائے تھی کہ اس بار پیپلز پارٹی کا امیدوار ہی اس حلقے سے جیتےگا۔ لیکن اٹھارہ فروری کے نتائج نے پیپلز پارٹی کو بھی چونکا دیا۔

ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے جہاں صدر پرویز مشرف اور ان کی بنائی گئی مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر بری طرح انتخاب ہارنے والے شیخ رشید نے دوبارہ انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں وہاں اعتزاز احسن نے بھی کاغذاتِ نامزدگی منگوائے ہیں۔ شیخ رشید نے اس بار آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

مسلم لیگ (ن) جو اس حلقے سے فاتح قرار پائی، اس کے ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ حلقہ این اے پچپن کی سیٹ میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری کو پیش کردی ہے اور اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کے بعض مقامی رہنما ناخوش ہیں اور ان کا اب بھی اپنی قیادت سے مطالبہ ہے کہ سید ظفر علی شاہ کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔

آصف علی زرداری نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں اشارہ دیا ہے کہ لاڑکانہ سے بینظیر بھٹو کی آبائی نشست سے وہ اپنی بہن فریال تالپور کو نامزد کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ خود راولپنڈی کے حلقہ پچپن سے انتخاب میں حصہ لیں، کیونکہ ان کے بقول میاں نواز شریف نے یہ سیٹ انہیں دے دی ہے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ تاحال آصف علی زرداری نے راولپنڈی کے حقلہ پچپن سے انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی اس حلقے کے لیے کسی کو پارٹی ٹکٹ دیا ہے۔ ان کے بقول اعتزاز احسن نے اس حلقہ سے پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دے رکھی ہے اور اس پر ابھی غور ہونا ہے۔

اعتزاز احسن کہہ چکے ہیں کہ اگر آصف علی زرداری نے اِس حلقے سے انتخاب میں خود حصہ لیا تو وہ اس حلقہ سے انتخاب نہیں لڑیں گے۔

اس نشست پر فاتح جاوید ہاشمی تھے
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے مخدوم جاوید ہاشمی 76980 ووٹ حاصل کرکے کامیاب امیدوار قرار پائے۔ لیکن وہ ایک ہی وقت میں ملتان، لاہور اور راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی تین نشستوں سے کامیاب ہوئے اس لیے انہیں لاہور اور راولپنڈی کے حلقے خالی کرنے پڑے۔

بظاہر غالب امکان یہی ہے کہ آصف علی زرداری راولپنڈی کے حقلے پچپن سے انتخاب خود نہیں لڑیں گے اور پارٹی ٹکٹ اعتزاز احسن کو ملے گا۔

اٹھارہ فروری کے انتخاب میں شکست کے بعد شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ انتخاب ہارنے پر جتنے لوگوں نے انہیں افسوس کے پیغام ’ٹیکسٹ میسیجز، بھیجے اتنے انہیں ووٹ بھی نہیں ملے۔

یاد رہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخاب میں راولپنڈی کے حلقہ پچپن سے آٹھ امیدواروں نے حصہ لیا لیکن مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ق) کے امیدواروں کے سوا کوئی بھی دیگر امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہیں کر پایا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق راولپنڈی کے اِس حلقہ میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تین لاکھ تینتیس ہزار نو سو اٹھائیس ہے۔ جس میں سے اٹھارہ فروری کو ایک لاکھ اکتیس ہزار پانچ سو تینتیس ووٹ ڈالے گئے۔

اس حلقے میں اٹھارہ فروری کے انتخاب میں ڈھائی سو پولنگ سٹیشن بنائے گئے اور اب کی بار بھی اتنی ہی پولنگ سٹیشن بنیں گے۔ ضمنی انتخاب کے شیڈول کے مطابق پندرہ اپریل سے چھ جون تک کاغذات نامزدگی داخل ہوسکتے ہیں جبکہ جانچ پڑتال اور اعتراضات وغیرہ کے معاملات نمٹانے کے بعد پولنگ کی تاریخ اٹھارہ جون مقرر کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
پنجاب: کم ووٹر، بارہ ہلاک
18 February, 2008 | الیکشن 2008
ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع
18 February, 2008 | الیکشن 2008
فائرنگ میں ایک ہلاک دو زخمی
18 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد